دسمبر جو کبھی مجھ کو بہت محبوب لگتا تھا۔۔۔

دسمبر جو کبھی مجھ کو بہت محبوب لگتا تھا۔۔۔
دسمبر جو کبھی مجھ کو بہت محبوب لگتا تھا۔۔۔

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

دسمبر چل پڑا گھر سے
سنا ہے پہنچنے کو ہے !
مگر اس بار کچھ یوں ہے
کہ میں ملنا نہیں چاہتی 

ستمگر سے ...!
میرا مطلب، دسمبر سے ۔۔۔

کبھی آزردہ کرتا تھا!
مجھے جاتا۔۔۔ دسمبر بھی
مگر اب کے برس ہمدم
بہت ہی خوف آتا ہے
مجھے آتے۔۔۔ دسمبر سے

ستمگر سے ....

دسمبر جو کبھی مجھ کو
بہت محبوب لگتا تھا
وہی سفاک لگتا ہے !
بہت بیباک لگتا ہے ۔۔۔۔

ہاں اس سنگدل مہینے سے 
مجھے اب کے نہیں ملنا
قسم اسکی... نہیں ملنا !

مگر سنتی  ہوں یہ بھی میں
کہ اس ظالم مہینے کو
کوئی بھی روک نہ پایا
نہ آنے سے، نہ جانے سے
صدائیں یہ نہیں سنتا
وفائیں یہ نہیں کرتا 

یہ کرتا ہے فقط اتنا !
سزائیں سونپ جاتا ہے۔۔۔۔۔

مزید :

شاعری -