سر جان مارشل نے لکھا ”ٹھٹھہ کے پاس سمندر پیچھے ہٹ جانے سے یہ میدان اور پہاڑ ظاہر ہوئے،نئے ہجری زمانے میں لوگ یہاں آباد ہونے لگے“

  سر جان مارشل نے لکھا ”ٹھٹھہ کے پاس سمندر پیچھے ہٹ جانے سے یہ میدان اور پہاڑ ...
  سر جان مارشل نے لکھا ”ٹھٹھہ کے پاس سمندر پیچھے ہٹ جانے سے یہ میدان اور پہاڑ ظاہر ہوئے،نئے ہجری زمانے میں لوگ یہاں آباد ہونے لگے“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:204
 ایک اور یونانی مؤرخ”ٹالمی“ لکھتا ہے؛
”سندھو اپنی شاخوں میں جو جزیرہ بنا رہا ہے وہ پراسیان ہے اور یہی اس کا ڈیلٹا بھی ہے۔“
 چینی سیاح”سوانگ سانگ“ اپنے سفر نامے میں؛
 ”سندھ کے جن مقامات اور معاملات کا ذکر کرتا ہے وہ بڑی حد تک قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ ان کا محل ووقوع درست نہیں اور یہی پیچیدگی کا باعث ہے۔کہتے ہیں کہ حیدرآباد کے کچھ نشیبی علاقوں اور رن آف کچھ کے کچھ حصوں سے سندھو بہتا تھا۔ ان میں شاہ بندر، سجاول، جھوک  وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ”سور بانو، گنجو ٹکر اور رنی کوٹ“ کی پہاڑیاں بھی نہ تھیں۔ یہ سمندر میں جزیرے کی مانند تھیں۔ ابھری بھی تو ان کے گرد سمندر ہی تھا۔ شاید یہ پتھر کے زمانے کی بات ہو۔“
 سر جان مارشل کا خیال ہے؛ 
”نئے ہجری زمانے کے آثار سندھ میں مکلی اور کیرتھرکی پہاڑیوں اور روہڑی کے علاقے میں ملے ہیں۔ لگتا ہے ٹھٹھہ کے پاس سمندر پیچھے ہٹ جانے سے یہ میدان اور پہاڑ ظاہر ہوئے۔اس وجہ سے نئے ہجری زمانے میں لوگ یہاں آباد ہونے لگے۔ اس زمانے میں سیہون اورسندھو کے مشرق میں ٹھٹھہ، جھوک،روہڑی وغیرہ آباد تھے۔قدیم دور میں آج کا سجاول اور ٹھٹھہ دراصل ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ ان دنوں سندھو ”نصر پور“ کے قریب سے بہتا تھا۔1768ء میں سندھو نے راستہ تبدیل کیا اور موجودہ گزر گاہ کو اپنا لیا۔ سندھو کے رخ بدلنے سے ہی یہ میدان وجودمیں آیا۔“
 وہ مزید لکھتا ہے؛
”کلہوڑوں نے سندھ میں کئی شہر آباد کئے تھے لیکن وہ سندھو کی نذرہو گئے۔1768ء میں حیدرآباد ا ٓباد ہوا۔اس وقت تک سندھو نے گنجو ٹکر کے مغرب میں اپنی نئی گزرگاہ سے بہنا شروع کرچکاتھا۔ حیدرآباد سے چند میل پہلے سندھو کی ایک اور شاخ حیدرآباد کے مشرق سے گزرتی تھی اور”پہیلی“ کے نام سے جانی جاتی تھی۔ سترویں (17) صدی عیسوی میں اس ڈیلٹا کی بالا ئی نوک موجودہ حیدرآباد سے بیس (20) میل جنوب مشرق میں بائیں شاخ ”رین ندی“ کے نام سے مشہور تھی اور ”گوئی کنال“ کے راستے بدین سے ہوتی رن آف کچھ کے مغربی کنارے سے سمندر میں اترتی تھی۔ اس کے علاوہ ”بگھاڑ، ستو، پنیاری“  وغیرہ سندھو کی شاخیں مختلف مقامات سے بہتی سمندر میں گرتی تھیں۔“
 عرب جغرافیہ دانوں کا خیال ہے؛
 ”دیبل کی بندرگاہ ایک سمندری کھاڑی کے قریب آبادتھی۔ یہاں سندھو کی سب سے بڑی شاخ گرتی تھی۔“ مورخ المسعودی لکھتے ہیں؛”سندھو دو شاخوں میں بٹا سمندر میں اترتا ہے۔ دونوں شاخیں ایک دوسرے سے کافی فاصلے پرہیں۔ایک دہانہ ”لوہانی“ شہر کے پاس ہے تو دوسرا رن آف کچھ کے پاس ہے یہ ”سندھ ساگر“ کے نام سے مشہور ہے۔“
مؤرخ البیرونی لکھتے ہیں؛
 ”ساحل ہند مکران کے مرکزی شہر سے شروع ہوتا ہے۔ اس شہر اور دیبل کے درمیان”خلیج توران“ (سون میانی) واقع ہے۔ خلیج کے بعد چھوٹا اور پھر بڑا دہانہ ہے۔ اس سے گزر کر ”بوراج“ آتا ہے اور رن آف کچھ کے علاقے سے گزر کر سومنات۔ سندھو کی مغربی شاخ چھوٹی اور مشرقی نسبتاً بڑی ہے۔ منصورہ کے قریب یہ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور سمندر میں دو راستوں سے داخل ہوتا ہے۔ایک لوہانی کے قریب اور دوسری رن آف کچھ سے ذرا اوپر سندھ ساگر کے نزدیک۔چودھویں صدی کے وسط تک سندھو کی غربی شاخیں ایک دوسرے سے فاصلے پر تھیں۔ دایاں حصہ مکلی کی پہاڑیوں کے شمال میں موجود ”کلری کنال“ کے راستے بہتا تھا جبکہ آگے چل کر دونوں متحد ہو کر ایک شاخ بن جاتے تھے۔ ان دونوں کے درمیان ایک جزیرہ سو (100) میل تک پھیلا تھا جس میں پہاڑیاں بھی تھیں۔“   (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -