تحریری ٹیسٹ کا نتیجہ آیا تو ابا نے پوچھا”کیا بنا؟“ میں نے بتا دیا”کچھ نہیں بنا، اُڑ گیا“یوں فوجی بننے کا خواب چھوڑ کر اوقات میں واپس آگیا

تحریری ٹیسٹ کا نتیجہ آیا تو ابا نے پوچھا”کیا بنا؟“ میں نے بتا دیا”کچھ نہیں ...
تحریری ٹیسٹ کا نتیجہ آیا تو ابا نے پوچھا”کیا بنا؟“ میں نے بتا دیا”کچھ نہیں بنا، اُڑ گیا“یوں فوجی بننے کا خواب چھوڑ کر اوقات میں واپس آگیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:112
3 بجے کے قریب کھلبلی سی مچی اور ایک حوالدار لسٹ لے کر آیا،سب سنبھل کر بیٹھ گئے۔ اس نے صرف اُن امیدواروں کے نام پکارے جن کو اگلے مرحلے کے لیے منتخب کر لیا گیا تھا اور حیرت انگیز طور پر میرا نام ان میں شامل تھا۔ ناکام ہونے والے نوجوان منہ لٹکائے اور بڑبڑاتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوئے۔ وہ اپنے فیل ہونے کو ان کے اور پاک فوج کے درمیان کسی ذاتی رنجش کا شاخسانہ قرار دے رہے تھے۔ میں نے بس پر بیٹھنے سے پہلے اپنی ٹائی اتار کر کوٹ کی جیب میں رکھی اور جان نکالتی ہوئی تنگ پتلون کے اوپر کے دو بٹن کھول کر اُسے ڈھیلا کیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ اگرکسی کی نظر پڑ گئی تو یہ حلیہ دیکھ کر کم از کم ایک دفعہ تو ضرور مسکرائے گا۔
کچھ روز بعد تحریری امتحان کا داخلہ کارڈ ملا۔ جس کا انتظام وہاں آرمی کی ایک یونٹ میں کیا گیا تھا۔پرچہ تھمایا گیا تو پہلا سوال ہی خنجر بن کر دل میں کُھب گیا کہ کم از کم 5 ایسے ملکوں کا نام بتاؤں جہاں ابھی تک ”منارکی“ ہے۔یہ لفظ زندگی میں پہلی دفعہ سُنا تھا۔ بہت غور کیا کچھ پلّے نہ پڑا، اگر اس کا مطلب سمجھ آ جاتا تو شائیداپنے بہتر جنرل نالج کی بدولت کچھ نہ کچھ تو لکھ ہی سکتا تھا۔ یہاں تو سوال ہی سمجھ نہیں آ رہا تھا جواب کیا دیتا۔ طلب گار نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھا کوئی نظرنہ آیا تو پاس سے گزرتے ہوئے ایک میجر صاحب سے بڑی معصومیت سے پوچھا کہ ”سر! باقی تو سب کچھ ٹھیک ہے، اس لفظ کا مطلب سمجھ نہیں آ رہا، مہربانی کر کے آپ بتا دیں۔“ ان کی طرف سے ناگواری کا اظہار تو ہوا لیکن دوسرے فوجیوں کے برعکس وہ مسکرا کر کہنے لگے”جناب اگر یہ بتا دیا تو پھر پیچھے کیا رہ جاتا ہے“۔ بڑے اصولی آفیسر تھے انھوں نے ذرا بھی تعاون نہ کیا اور مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔
باقی بھی”سب کچھ‘‘ ٹھیک نہیں تھا،اور بھی اسی طرح کے چکرا دینے والے کچھ سوالات تھے جو سر پر سے گزر گئے۔ جو تھوڑابہت سمجھ آیا لکھ دیا اور جیسے تیسے پرچہ واپس دے کر گھر واپسی کی راہ لی۔ چونکہ اپنے متوقع انجام کا دوران امتحان ہی خوب اندازہ ہو گیا تھا اس لیے ذہنی طور پر تیار تھا اور فیل ہونے کی صورت میں کسی نہ کسی پر ملبہ پھینکنے کی تیاری بھی کر لی تھی تاکہ شرمندگی کو کم کیا جا سکے۔
جب نتیجہ آیا تو اس وقت تک ملکی حالات کافی تشویشناک ہو گئے تھے۔ ابا جان ان دنوں زیادہ تر مصروف رہتے تھے اس لیے انھوں نے سرسری سا پوچھاکہ”کیا بنا؟“ اور میں نے بھی سرسری سا بتا دیا کہ”کچھ نہیں بنا، اُڑ گیا۔“ انھوں نے کہا،”چلو کوئی بات نہیں 6 مہینے بعد دوبارہ کوشش کرنا“۔
اور یوں پاکستان آرمی اپنی ذرا سی انا پرستی کے سبب میرے جیسے مستقبل کے ایک ذہین اور لائق فائق جنرل کی خدمات سے محروم رہ گئی۔ جس کا شاید ان کو آج بھی قلق رہتا ہو گا۔ کم از کم میرا تو یہی خیال ہے۔ یارو آخر ہماری بھی تو کوئی عزت تھی۔دوبارہ دل مانا،نہ درخواست دی۔ لہٰذا جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا۔ فوجی بننے کے خواب ایک طرف رکھ کر اپنی اوقات میں واپس آگیا، کتابیں اٹھائیں اور بس پر لٹک کر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کالج چلا گیا۔ یہ اور بات ہے کہ جن کو میں نے اگلے چند روز میں فوجی وردی پہننے کی خوش خبری سنائی ہوئی تھی ان سے کچھ دن منہ چھپاتا پھرا۔ ویسے بھی زندگی کی اس تیز رفتار اور نہ ختم ہونے والی دوڑ میں کس کے پاس اتنی فرصت تھی جو ان باتوں پر سوچتا۔
انہی دنوں کشمیر کے محاذ سے جنگ کی خبریں آنے لگیں۔ لیکن کشمیر کراچی سے اتنے فاصلے پر تھا کہ لگتا تھا جیسے دور کہیں دو ملکوں میں جھڑپیں ہو رہی ہیں جس کی ہر روز خبریں ریڈیو پر آتی رہتی ہیں۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -