اس نے اپنی دعا کے مطابق کامیابی حاصل کرلی کیونکہ ذہنی طور پر اس نے اپنی خواہش کی تکرار اس وقت تک جاری رکھی جب تک  دعا قبول نہ ہو گئی

اس نے اپنی دعا کے مطابق کامیابی حاصل کرلی کیونکہ ذہنی طور پر اس نے اپنی خواہش ...
اس نے اپنی دعا کے مطابق کامیابی حاصل کرلی کیونکہ ذہنی طور پر اس نے اپنی خواہش کی تکرار اس وقت تک جاری رکھی جب تک  دعا قبول نہ ہو گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:117
تھوڑی ہی عرصے بعد اسے ایک ڈاکٹر کے کلینک میں شعبہ استقبالیہ میں میزبان کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ اس خاتون نے مجھے بتایا کہ جس لمحے اس نے ڈاکٹر کو دیکھا، اسے اسی وقت معلوم ہو گیا کہ یہی وہ شخص ہے جس کی اسے تلاش تھی۔ ظاہرہے کہ یہ ڈاکٹر بھی اس خاتون سے واقف تھا کیونکہ جب یہ خاتون پہلے ہفتے اس کے دفتر میں آئی تھی تو اس نے اس خاتون کو شادی کا پیغام بھیجا تھا اور پھر منطقی نتیجہ یہ ہوا کہ شادی کے بعد یہ دونوں ہنسی خوشی زندگی بسر کرنے لگے۔ یہ ڈاکٹر، نسوانی انداز و اطوار کا مالک نہیں تھا بلکہ مردانہ وجاہت کا ایک نمونہ تھا، ایک حقیقی اور مثالی مرد تھا، ایک سابقہ فٹ بال کھلاڑی تھا، ایک بہترین ایتھلیٹ تھا۔ مزیدبرآں، یہ شخص بہت ہی پاکیزہ، عارف اور گہری و شدید روحانیت سے مزین تھا لیکن اس میں فرقہ وارانہ اور مذہبی عصبیت نام کو موجود نہ تھی۔
اس نے اپنی دعا کے مطابق اپنی خواہش کی تکمیل میں کامیابی حاصل کرلی کیونکہ ذہنی طور پر اس نے اپنی خواہش کی تکرار اس وقت تک جاری رکھی جب تک اس کی دعا قبول نہ ہو گئی۔ دوسرے الفاظ میں وہ ذہنی اور جذباتی طور پر اپنے اس خیال، تصور اور خواہش کے ساتھ مستقل طور پرمنسلک رہی اور اس کی یہ خواہش، خیال اور تصور، اس کی زندگی کا اسی طرح جزو بن گیا جس طرح ایک سیب، اس کے بدن کے خون کا ایک جزو بن جاتا ہے۔
کیا مجھے واقعی طلاق لے لینی چاہیے؟
طلاق، ایک انفرادی مسئلہ ہے، اس کا اطلاق عمومی طور نہیں کیا جا سکتا۔ بعض اوقات، بے شک، شادی، کبھی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ بعض اوقات، طلاق، مسئلے کا حل نہیں ہوتا، بالکل اسی طرح جیسے ضروری نہیں کہ تنہا شخص کی تنہائی کا حل شادی ہی ہو۔ بعض اوقات طلاق ایک شخص کیلئے صحیح ثابت ہوتی ہے اور دوسرے شخص کیلئے غلط ثابت ہوتی ہے۔ ممکن ہے کہ ایک طلاق یافتہ عورت اپنی ان شادی شدہ بہنوں سے زیادہ مخلص اور مہذب و شائستہ ہو جو شاید ایک مصنوعی او رجھوٹی زندگی بسر کر رہی ہوں۔
مثال کے طو رپر ایک دفعہ میری ایک ایسی خاتون کے ساتھ بات چیت ہوئی جس کا خاوند نشے کا عادی تھا، سابقہ سزایافتہ تھا، بیوی کو مارنا پیٹتا تھا اور گزراوقات کیلئے رقم بھی نہیں دیتا تھا۔ اسے کسی سے نے یہ بتا دیا تھا کہ طلاق حاصل کرنے کا فیصلہ صحیح نہیں تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ شادی، دل کا فیصلہ ہوتا ہے، اگر دو دل نہایت ہی ہم آہنگ، محبت آمیز اور مخلصانہ طور پر ایک دوسرے سے مل جائیں تو یہ ایک مثالی اور بہترین شادی ہوتی ہے۔ دل کی طرف سے کیا جانے والا سچا اور حقیقی عمل، محبت و پیار کہلاتا ہے۔
اس تمام تفصیل سے باخبر ہونے کے بعد اسے یہ معلوم ہو گیا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ وہ اپنے دل میں یہ جانتی تھی ایسا کوئی روحانی اور مقدس قانون نہیں ہے جس کے ذریعے مرد کو یہ حق مل جائے کہ وہ بیوی کو ڈرائے دھمکائے اور پیٹے کیونکہ کسی شخص نے اسے کہا: ”میں اعلان کرتا ہوں کہ تم میاں اور بیوی ہو۔“
اگر آپ کو ابھی نہیں معلوم کہ آپ کو کیا کرنا چاہیے، اس امر سے باخبر ہوتے ہوئے کہ آپ کو ہمیشہ اپنی درخواست اور دعا کا جواب ملتا ہے، راہنمائی اور ہدایت کیلئے درخواست کیجیے۔ اپنی روح کی خاموشی اور سکوت میں اپنے مسئلے کے حل کی طر ف پیش رفت کیجیے۔ روح آپ سے سکون اور طمانیت کے ماحول میں مخاطب ہوتی ہے۔
طلاق کی نوبت کیوں آ جاتی ہے:
حال ہی میں ایک نوجوان جوڑا،جس کی شادی کچھ ماہ قبل ہوئی تھی، دونوں میاں بیوی آپس میں طلاق کے متعلق سوچ رہے تھے۔ مجھے یہ معلوم ہوا کہ نوجوان مرد مسلسل اس خوف میں مبتلا تھا کہ اس کی بیوی کہیں اسے چھوڑ نہ دے۔ اسے یہ امید تھی کہ اس کی بیوی اسے مسترد کر دے گی اور وہ سمجھتا تھا کہ اس کی بیوی قابل بھروسہ نہیں ہے۔ اس قسم کے خیالات اس کی حسیّات پر حاوی ہو چکے تھے۔ اس کا ذہنی رویہ ایسا تھا کہ جیسے علیٰحدگی او رشکوک کے جذبات اس پر غالب آ رہے ہیں۔ وہ اپنے خاوند کے رویے کے جواب میں کچھ کہہ نہ سکی۔ یہ اس خاتون کے اپنے احساسات تھے یا ایک قسم کی محرومی اور علیٰحدگی کا خیال اس کی ذات میں سرایت کر رہا تھا۔ اس کے ذریعے اس کے ذہنی روئیے کے مطابق ہی حالات یا ردعمل اس کے سامنے ظاہر ہوئے۔ یہ عمل اور ردعمل کا قانون ہے، اور یا پھر وجہ اور اثر کا قانون ہے۔ خیال، عمل ہے اور تحت الشعوری ذہن کاجواب، ردعمل ہے۔
اس کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی اور اس نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ اسی بات کا اس کے خاوند کو خدشہ تھا کہ وہ ایسا ہی کرے گی۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -