دیواروں کے اُس پار انسان بستے ہیں، یہ فلاحی ریاستوں کا کام ہوتا ہے کہ سب کی تکالیف سمجھیں اور خود ہی سہولیات بہم پہنچاتی رہیں۔ سمجھے؟

 دیواروں کے اُس پار انسان بستے ہیں، یہ فلاحی ریاستوں کا کام ہوتا ہے کہ سب کی ...
 دیواروں کے اُس پار انسان بستے ہیں، یہ فلاحی ریاستوں کا کام ہوتا ہے کہ سب کی تکالیف سمجھیں اور خود ہی سہولیات بہم پہنچاتی رہیں۔ سمجھے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
قسط:32
25-8-2018
Centre Island کی سیر 
یہی کوئی ڈیڑھ بجے گھر سے بیٹے احمد ندیم نے اپنی فائیو سیٹرگاڑی نکالی تو ہم سوار ہو کر اِس Island کے تصوّرات کے خاکے بُنتے چل دئیے۔ بادل چھائے ہوئے تھے، ہلکی ہلکی ہوا کے جھونکے درختوں کی نرم و نازک ڈالیوں کو جھولا جھلا رہے تھے۔ بھولی بسری بوندیں بھی کبھی کبھی آنکھ مچولی کر رہی تھیں …… ویسٹ ہملٹن کو دائیں طرف چھوڑا اور آگے بڑھتے گئے اور جا لیا Dundus Queen's Way (E)۔ یہ دیکھا اکثر سڑک کے دائیں بائیں کم و بیش 12 سے 15 فٹ اُونچی دیواریں۔ بھئی دیواروں کے اُس پار انسان بستے ہیں، ٹریفک کے اِس شور شرابے سے اُن کا جینا حرام ہوجائے تو قصوروار کون؟ یہ فلاحی ریاستوں کا کام ہوتا ہے کہ سب کی تکالیف کو سمجھیں اور خود ہی سہولیات بہم پہنچاتی رہیں۔ سمجھے؟ اور اُن کا دکھ درد بانٹیں۔
لو سامنے ٹورنٹو شہر اپنی پوری رعنائیاں بکھیرتا فرشِ راہ تھا۔ 1.45 پر موسلا دھار بارش…… لیکن شرارتی نکلی ہمیں ذرا دھمکا کر…… ”آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل“ہوگئی…… لو جی! اب Lake Shore BLV  کی طرف گاڑی چلا دی۔ یہ لو دائیں بائیں فلک بوس Sky Scrapppers کی بہار۔ دائیں سمت اب ”بیLake“ نے لے لی۔ دُور دور بادبانی کشتیاں جو گنگ کرتے گورے گوریاں، سائیکل چلاتے نوجوان اور ساتھ ساتھ تفریح کے لیے آئے لوگوں کی ٹولیاں۔ یہ لو گورے اور کُتّے ساتھ ساتھ اور ہاں دیکھو تراشیدہ ہریالی بکھیرتی گھاس کے پھیلے تختے۔ یہ دائیں بیچارہ دیوہیکل پنکھا ہوا کے دوش پر چلنے کے لیے لگایا تھا بجلی بنانے کے لیے۔ یہ تو ”بالکل جنبند نہ جنبد گل محمد“ کی تصویر بنا، ساکت و جامد کسی رنڈوے کی سی تصویر بنا۔ چلو چھوڑو، ہر کسی کے حالات میں ٹانگ اڑانے کا کیا آپ نے ٹھیکہ لے رکھّا ہے؟  
یہ لو ٹورنٹو شہر کی شان "CN Tower" سینہ تانے کھڑا ہے اور دعوتِ نظّارہ دے رہا ہے۔  واہ رے "Down Town" ٹورنٹو۔ 2005ء میں اِدھر آنا ہوا تھا۔ "CN Tower"  تو تھا لیکن یہ بیسیوں Sky Scrappers نہ تھے۔ یہ اب کیا شانِ دلربانی سے ٹورنٹوکی شان کو دوبالا کیے ہوئے ہیں۔ 
دائیں طرف Lake کے معمولات شروع اور وہ دیکھو بطخوں کو خوراک ڈالتے سیّاح، یہ لو مزے کی چیز! یہ سائیکلوں کی قطار…… ایک مخصوص کارڈ سے پیسے ڈال دیں اور سائیکل لے جائیں۔ وہاں کوئی پہرہ دار تو ہے نہیں جناب۔ سیر کیجئے اور کسی بھی دوسری جگہ ایسے ہی بنے سائیکل سٹینڈ پر سائیکل کھڑا کر کے چلتا بنیں۔ وہ جانیں ان کا کام! 
لو جی اب ہماری منزل آپہنچی۔ یہ سامنے Jack Lyton Ferry Terminal۔  Paid پارکنگ میں گاڑی پارک کی اور جو مڑے تو جناب سامنے "Toronto Star Sky Scrapper" …… اس کی کیا شانِ دلربائی ہے؟ 
ٹکٹ لے کر گیٹ نمبر 2 سے سینٹر آئی لینڈ جانے والے شپ میں بیٹھ گئے اور لگے اِردگرد کی خوشہ چینی کرنے۔ وہ دیکھو! درجنوں سفید جامہ اوڑھے بادبانی کشتیاں پانی کی سطح پر دوڑتی…… وہ دیکھو ایک اور شپ خراماں خراماں جاتا ہوا۔ اور اب ذرا پیچھے مُڑ کر ملاحظہ کریں۔ ٹورنٹوکی بلند و بالا، فلک بوس عمارتوں کا نظاّرہ…… ایک طلسمانی بھنّور میں ہی جکڑ دے۔ لو اب سینٹر آئی لینڈ آگیا جناب! 
ایک طرف دیکھیں رنگا رنگ Ornamental Trees کی بہار اور لطف اندوز ہوتے سینکڑوں مختلف رنگ و نسل کے سیّاح، ٹھنڈی ہوا کے ُروح پرور جھونکے، موسم خوشگوار، لو دائیں طرف واش رومز، چکّر لگایا، بھئی مان گئے۔ کیا صاف شفّاف واش رومز لیکن صرف ٹشوز سنبھالے ہوئے پانی نہ دارد۔
لو جی! آگئے تین Ponds اور ہر ایک میں تین تین فوّارے اپنی بلند و بالا پانی کی لہریں اُڑاتے…… اور ساتھ دیکھیں رنگا رنگ پھولوں کی کیاریاں اور کس فنکاری سے کاٹی گئی ہیں ان کے گرد لگائی روشیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -