کیا پی آئی اے کبھی بحال ہو سکے گی؟

کیا پی آئی اے کبھی بحال ہو سکے گی؟
کیا پی آئی اے کبھی بحال ہو سکے گی؟

  

جب حکومت اور ادارے نیک نیتی سے کسی کام میں بہتری کا ارادہ کرلیں تو حالات کتنے بھی خراب کیوں نہ ہوں، مسائل جتنے بھی گھمبیر ہوں، مسائل آخر کار حل ہو ہی جاتے ہیں، کیونکہ بقول حبیب جالب مرحوم:مسائل ایسے سائل ہیں کہاں ٹالے سے ٹلتے ہیںمسائل کو تو بہر صورت حل کرنا ہی پڑتا ہےبس اسی طرح کی کہانی ہماری قومی ایئر لائن پی آئی اے کی ہے۔ ہر حکومت، چاہے وہ سیاسی ہو یا فوجی، آتے ہی پی آئی اے میں دوسرے اداروں کی طرح بھرتیوں پر توجہ دیتی ہے تاکہ اپنے رشتہ داروں، دوستوں کو اس میں بھرتی کروا سکے، لیکن کبھی کسی نے پی آئی اے کی کارکردگی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ آئے دن پی آئی اے خراب جہاز گراو¿نڈ کر رہی ہے۔ ہر روز ہر فلائٹ لیٹ ہو رہی ہے۔ چاہے وہ اندرون ملک ہو یا بیرون ملک .... اور پروازوں کے دوران سروس نام کی کوئی چیز میسر نہیں ہوتی۔ راقم الحروف بھی عرصہ 33 سال سے بیرون ملک سفر کر رہا ہے، لیکن جب بھی پی آئی اے پر سفر کیا، مسئلہ ہی بنا۔ حال ہی میں راقم الحروف نے پی آئی اے پر سفر کیا۔ 7 گھنٹے کا سفر پی آئی اے کے ذریعے 36 گھنٹوں میں طے ہوا۔تفصیل کچھ یوں ہے۔ 18 دسمبر2012ءکو بذریعہ پی آئی اے میری فلائٹ لاہور سے فرینکفرٹ (جرمنی) صبح 8.45 پر روانہ ہوئی تھی۔ جب ہم لوگ چیک ان ہو کر ٹائم پر جہاز میں سوار ہوگئے تو ٹھیک آدھے گھنٹے بعد، یعنی 9:15 پر ہمیں جہاز سے یہ کہہ کر اُتار لیا گیا کہ جہاز خراب ہے۔ آدھ پون گھنٹے میں جہاز ٹھیک ہو جائے گا۔ شام 4 بجے تک ہم تمام مسافر ایئر پورٹ لاو¿نج میں بے یارو مددگار بیٹھے رہے۔ اس کے بعد عملے والوں نے کہا کہ آپ لوگ گھر چلے جائیں، اگلے ہفتے، یعنی 25 جنوری کو جہاز دوبارہ جرمنی جائے گا۔ آپ لوگ دوبارہ سے بکنگ کروا لیں۔ مسافروں کے احتجاج پر کچھ مسافروں کو پی آئی اے والوں نے 19 دسمبر 2012ءکی لاہور سے اوسلو (ناروے) فلائیٹ کے لئے ٹکٹیں دے دیں۔ مَیں بھی اُنہی خوش نصیبوں میں شامل تھا، جنہیں 19 دسمبر کے لئے روانہ ہونا تھا۔ بقیہ لوگ پتہ نہیں کب اپنی منزل پر پہنچے، لیکن میرے ساتھ جو لوگ تھے، وہ 19 دسمبر شام7 بجے، یعنی 36 گھنٹے بعد اپنی منزل پر پہنچے۔ اگر پی آئی اے کے اہلکار ادارے سے مخلص ہوتے تو وہ 18 دسمبر ہی کو ہمیں کسی دوسری فلائیٹ سے بھجوا سکتے تھے، لیکن ادارے کے ساتھ شاید ہی کوئی مخلص ہو؟ ایسے حالات میں دوبارہ کون ایسی ایئر لائن پر سفر کرے گا۔ پی آئی اے کی اس طرح کی نااہلیوں، کوتاہیوں کی بنا پر روزانہ کی بنیاد پر ایک اندازے کے مطابق کوئی 7 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔موجودہ حکومت نے بھی گزشتہ 4 سال میں اسے دیوالیہ ہونے کے قریب تر کر دیا اور اس میں 2500 افراد بھرتی کئے ہیں، جہاں ضرورت سے زائد افراد پہلے سے موجود ہیں۔ بیرونی دنیا کی اکثر ایئرلائنوںکے معیار کے مطابق 250/300 افراد فی جہاز سے زائد عملہ ایئر لائن کے منافع کو گھاٹے میں بدلنا شروع کر دیتا ہے، لیکن پی آئی اے میں موجودہ حالات میں بھی فی جہاز 482 افراد کام کرتے ہیں تو ادارے کے گھاٹے کا حساب لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔ پی آئی اے کے مقابلے میں امریکن ایئر لائن میں فی جہاز 220 افراد کام کرتے ہیں۔ جرمن ایئر لائن لفتھنسا میں فی جہاز 240 افراد کام کرتے ہیں، جبکہ بھارت میں فی جہاز 270 افراد کام کرتے ہیں۔ پی آئی اے میں عملے کی فراوانی اور پرانے جہازوں کی بدولت ، عملے کی ہڈ حرامی، نااہلی، کرپشن کی وجہ سے نہ مسافر وقت پر اپنی منزل پر نہیں پہنچ پاتے ہیں، دوسری طرف یہ ادارہ حکومت کا تقریباً160 ارب روپے کا مقروض ہے اور حال ہی میں پی آئی اے نے حکومت سے مزید 25 ارب روپے کا ادھار مانگ لیا ہے۔ 2007ءمیں پی آئی اے نے حکومت سے 25 ارب روپے ادھار لئے تھے۔ 2009ءمیں 8 ارب روپے لئے تھے۔ حال ہی میں پی آئی اے نے حکومت سے ڈیمانڈ کی ہے کہ اگر پی آئی اے کو چلانا ہے تو فوری طور پر 25 ارب روپیہ مزید فراہم کیا جائے ۔ اس کے علاوہ 12 کروڑ امریکی ڈالر کا قرضہ، جو پی آئی اے پہلے ہی وصول کر چکی ہے، اس کا سود جو کہ 40 کروڑ روپے سالانہ ہے، وہ بھی حکومت ہی ادا کرے۔ پی آئی اے کے مالی حالات خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ 30 نومبر 2012ءتک پی آئی اے پر قرضوں کا بوجھ ایک رپورٹ کے مطابق 160 ارب روپے کے لگ بھگ ہے اور یہ قرضے ادارے کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے دن بدن بڑھ رہے ہیں۔ پی آئی اے کے اعلیٰ حکام کے مطابق جہاز پرانے ہیں۔ حکومت کے پاس پیسے نہیں کہ وہ نئے جہاز خرید سکے۔ تیل کی قیمت بڑھ رہی ہے۔ 

اب سنا ہے پی آئی اے مالی مشکلات پر قابو پانے کے لئے 3000 سے زائد اہل کاروں کو گولڈن شیک ہینڈ کے ذریعے ریٹائر کر رہی ہے، جس سے پی آئی اے کو آئندہ سال میں 3 ارب سے زائد کی بچت ہوگی۔ پی آئی اے کے پاس اس وقت26 جہاز ہیں، جن پر 600 پائلٹ تنخواہ لے رہے ہیں، یعنی فی جہاز 23 پائلٹ ہیں تو یہ ادارہ منافع بخش کیسے ہوگا؟ پی آئی اے کے اس وقت کل تقریباً18000 ملازم ہیں جو فی جہاز تقریباً 482 افراد بنتے ہیں۔ ان حالات میں ادارے کو بنک کرپٹ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ سنا ہے کہ کسی بڑے آدمی کی کوئی نجی ایئر لائن مارکیٹ میں آنے والی ہے، جس کی وجہ سے اس ادارے کو جان بوجھ کر بنک کرپٹ کرنا مقصود ہے، یعنی سٹیل مل اور ریلوے کے بعد اب باری پی آئی اے کی ہے۔  ٭

مزید :

کالم -