ہمیں کہاں ہونا چاہیے تھا، مگر ہم کہاں ہیں!

ہمیں کہاں ہونا چاہیے تھا، مگر ہم کہاں ہیں!
ہمیں کہاں ہونا چاہیے تھا، مگر ہم کہاں ہیں!

  

پاکستان اُن تمام لوازمات، نعمتوں، وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے جن کی بدولت یہ صرف خطے ہی نہیں بلکہ یورپین یونین کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوسکتاہے۔ پاکستان کپاس اور دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا ، گندم پیدا کرنے والا آٹھواں اور چاول پیدا کرنے والا دسواں بڑا ملک ہے۔ رقبے کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس کا شمار 34ویں، زرخیز زمین کے حوالے سے 52ویں، آبادی کے حوالے سے چھٹے، افرادی قوت کے حوالے سے 10ویں جبکہ گیس کے ذخائر کے حوالے سے 29ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں 185ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں جن کی اندازاً مالیت تین ٹریلین ڈالر ہے اور ان ذخائر سے 100سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، اسی طرح سونے، چاندی، تانبے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے وسیع ذخائر ہیں جن کی مالیت بلاشبہ کھربوں ڈالر ہے۔ پاکستان کی بندرگاہوں کا شمار دنیا کی بڑی پورٹس میں ہوتا ہے اور یہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک کا گیٹ وے ہے۔ اس لحاظ سے تو ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں شامل ہونا چاہیے، برآمدات ، توانائی کی پیداوار ، جی ڈی پی، صنعتوں کی ترقی ، تعلیم اور صحت سمیت ہر حوالے سے ہمارا شمار کم از کم 20ٹاپ ممالک میں ہونا چاہیے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ فی کس جی ڈی پی کے حوالے سے ہم دنیا میں 135ویں، شرح خواندگی کے حوالے سے 159ویں، برآمدات کے حوالے سے 61ویں، ماحولیات کے حوالے سے 131ویں درجے پر ہیں، آسان کاروباری ماحول والے ممالک میں ہمارا شمار 76ویں نمبر پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح کوئلے اور گیس کے وسیع ذخائر رکھنے کے باوجود ملک کو اس وقت پانچ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی قلت کا سامنا ہے، جبکہ غیرملکی قرضوں کا بوجھ 66ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔پانی ہمیں بے تحاشا میسر ہے، لیکن ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے ڈیموں کی قلت ہے، چنانچہ ہر سال ساڑھے تین کروڑ ایکڑ فٹ سے زائد پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے ، دوسری طرف 9 ملین ہیکٹر زرخیز زمین پانی نہ ہونے کی وجہ سے بیکار پڑی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ کھربوں ڈالر کے وسائل تباہ و برباد کیے جارہے ہیں جس کی بدولت عالمی ادارے ناکام ریاستوں کی فہرست میں پاکستان کو 10واں نمبر دے رہے ہیں جبکہ کرپشن میں ہم ترقی کرکے 34ویں نمبر پرآچکے ہیں جو یقینا کسی طرح بھی ہمارے لئے فخر کی بات نہیں۔

ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے وہ اپنے دورِ اقتدار کے دوران یہی واویلا کرتی رہتی ہے بحران اور مسائل جانے والی حکومت چھوڑ کر گئی ہے اور خود یہ مسائل حل کرنے کے بجائے ان میں کئی گنا اضافہ کرکے رخصت ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ آج تک چل رہا ہے۔ کسی بھی چیز کی انتہا ہمیشہ تباہی کا باعث بنتی ہے، ہمارے ہاں بھی معاشی مسائل اور توانائی کے بحران کی انتہا ہوچکی ہے لہذا ان پر قابو پانا ہی ہوگا وگرنہ صنعت و تجارت اور معیشت کی مکمل تباھی و بربادی باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ رواں سال کسی بھی وقت قومی انتخابات متوقع ہیں جن کے بعد نئی حکومت ملک کی باگ ڈور سنبھال لے گی۔سب سے پہلے تو نئی حکومت کو اس روایت کا خاتمہ کرنا ہوگا کہ تمام ملبہ سابق حکومت پر ڈال کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے ۔ جو بھی نئی حکومت بنے وہ ایک روز بھی ضائع کیے بغیر بجلی اور گیس کے بدترین بحران کے حل کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائے کیونکہ یہ بحران ملک کی جڑوں تک میں سرایت کرچکا ہے اور تمام معاشی ڈھانچے کو گرانے کے درپے ہے۔ سب سے فوری حل یہ ہے کہ بجلی اور گیس کی چوری انتہائی سختی سے روکی جائے کیونکہ چوری کی وجہ سے یہ مالِ مفت دلِ بے رحم کے مصداق بہت بے دردی سے استعمال ہوتے ہیں، اس سے صورتحال میں بہت بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ بجلی کے بحران کی بنیادی وجہ روایتی ذرائع پر انحصار اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ اٹھانا ہے۔ ملک میں زیادہ بجلی تیل سے پیدا کی جارہی ہے جو بہت مہنگی ثابت ہورہی ہے ، ہائیڈل پیداوار بہت کم ہے کیونکہ گذشتہ تقریباً 35سالوں سے ملک میں کوئی ڈیم تعمیر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی اور کالاباغ ڈیم کو بھی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔بجلی کے بحران اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کا سب سے اہم حل یہ ہے کہ پانی سے بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے وگرنہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند ہی سالوں میں بجلی کی قیمت 50روپے فی یونٹ اور لوڈشیڈنگ مستقل طور پر سولہ گھنٹے تک جا پہنچے۔ حکومت کالاباغ ڈیم سمیت دیگر ڈیموں کی تعمیر فوری طور پر شروع کرے جس سے نہ صرف وافر سستی بجلی پیداہوگی بلکہ زرعی شعبے کو وا فر پانی بھی میسر ہوگا۔ کوئلے کے 185ارب ٹن ذخائر ہونے کے باوجود پاکستان میں کوئلے سے صرف ایک فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ امریکہ میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار 80فیصد، چین میں 70فیصد اور بھارت میں 50فیصد ہے۔ کوئلے کے ذریعے بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے کیونکہ کوئلہ درآمد کرنے کے باوجود بھی بجلی تیل سے پیدا ہونے والی بجلی سے کم از کم پانچ گنا سستی پڑے گی۔ حکومت توانائی کے متبادل زیادہ سے زیادہ ذرائع کو فروغ دینے کے لئے اقدامات اٹھائے ۔ اس وقت ہمسایہ ممالک بھارت ہوا کے ذریعے 9600میگاواٹ سے زائد جبکہ چین 12000میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کررہا ہے جبکہ پاکستان کا اِس دوڑ میں دور دور تک کوئی نام و نشاں نہیں۔ بھارت نے پچھلے سال ہوا کے ذریعے توانائی کے حصول کی صلاحیت میں 1800میگاواٹ جبکہ چین نے 6300 میگاواٹ کا اضافہ کیا ہے۔ معاشی استحکام کے حصول کے لئے پاکستان کو برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا جس کے لئے علاقائی تجارت کے فروغ کی جانب زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ روایتی مصنوعات اور روایتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ تجارت کے لئے نئی مصنوعات متعارف کرائی جائیں اور پاکستانی مصنوعات کے لئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ ٹیکسٹائل ملک کی سب سے بڑی صنعت ہے جس کا ک±ل برآمدات میں حصّہ60فیصد سے زائد ہے۔ عالمی سطح پر ٹیکسٹائل مصنوعات کی ڈیمانڈ 18ٹریلین ڈالر سالانہ ہے جبکہ اس تجارت میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ توانائی کا بدترین بحران یہاں بھی تباہ کن کردار ادا کررہا ہے اور صرف خریدار ہی نہیں بلکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ صنعتکار بھی دیگر ممالک کا رُخ کررہے ہیں جو یقینا پالیسی میکرز کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ امن و امان کی بدترین صورت حال بالخصوص کراچی میں ٹارگٹ کلنگ صنعت سازی اور سرمایہ کاری کے فروغ کی راہ میں حائل ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے اور صرف اسی کی وجہ سے گزشتہ پانچ سال کے دوران غیرملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 80فیصدتک کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔امن و امان کی صورت حال خصوصاً کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کی حیثیت سے کراچی سرمایہ کاروں کی اوّلین ترجیح ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ حکومت کو حاصل ہونے والے کُل محاصل کا 65فیصدحصّہ کراچی سے حاصل ہوتا ہے، ملک کے تمام سرکاری و نجی بنکوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں، ملک کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ کراچی میں ہے، سافٹ ویئر سازی کا بڑا مرکزکراچی ہے اور درجنوں صنعتی زون یہاں واقع ہیںلیکن ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وجہ سے یہ تمام سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں جبکہ غیرملکی سرمایہ کاروں نے یہاں آمد کا سلسلہ تقریباً روک دیا ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا حکومت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ ماحولیاتی آلودگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو ایک طرف تو انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے اور دوسری طرف سنگین معاشی خطرات بھی پیدا کررہا ہے کیونکہ ترقی یافتہ دنیا بالخصوص یورپین یونین اُن ممالک سے مصنوعات درآمد کرنے سے گریزاں ہے جو ماحولیاتی طور پر آلود ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے لاہور اور کراچی ایشیا کے پہلے دس شہروں کی صف میں شامل ہیں۔ یورپین یونین ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان ہرگز اسے کھونے کا متحمل نہیں ہوسکتا، لہٰذا ماحولیاتی آلودگی کے خلاف حکومت کو باقاعدہ ایک جنگ شروع کرنی چاہیے جس سے صرف لاہور میں سالانہ 1500سے زائد وہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی جو ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہیں ۔خود انحصاری اور معاشی ترقی کی راہ پر پہلا قدم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت نہ صرف نئے قرضے لینے سے گریز کرے بلکہ پُرانے قرضوں سے جان چھڑانے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیںکیونکہ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ(نصف سے زائد) ان قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف ہورہا ہے، جبکہ اصل قرضے کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیںاگر حکومت قرضے نہیں لے گی تو نہ صرف سود کی مد میں خرچ ہونے والی بھاری رقم بچے گی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کی بجلی ، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافے جیسی شرائط بھی تسلیم نہیں کرنی پڑیں گی۔ جہاں تک امداد کا تعلق ہے تو اس کے عوض حکومت کو کوئی کڑی شرائط قبول نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ امداد دینے والے ممالک پاکستان پر کوئی احسان نہیں کررہے ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُن کی امداد سے کہیں زیادہ بڑھ کر تعاون کرچکا ہے جس سے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی معیشت کو 60ارب ڈالر سے زائد نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان نہ صرف مطالبہ کرے کہ اِسے غیرمشروط امداد دی جائے بلکہ وہ تمام ممالک پاکستانی مصنوعات کو اپنی مارکیٹوں تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کریں جو پاکستانی تعاون کے بغیردہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔ ٭

پاکستان اُن تمام لوازمات، نعمتوں، وسائل اور معدنیات سے مالامال ہے جن کی بدولت یہ صرف خطے ہی نہیں بلکہ یورپین یونین کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوسکتاہے۔ پاکستان کپاس اور دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا ، گندم پیدا کرنے والا آٹھواں اور چاول پیدا کرنے والا دسواں بڑا ملک ہے۔ رقبے کے لحاظ سے دنیا بھر میں اس کا شمار 34ویں، زرخیز زمین کے حوالے سے 52ویں، آبادی کے حوالے سے چھٹے، افرادی قوت کے حوالے سے 10ویں جبکہ گیس کے ذخائر کے حوالے سے 29ویں نمبر پر ہوتا ہے۔ پاکستان میں 185ارب ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں جن کی اندازاً مالیت تین ٹریلین ڈالر ہے اور ان ذخائر سے 100سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے، اسی طرح سونے، چاندی، تانبے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے وسیع ذخائر ہیں جن کی مالیت بلاشبہ کھربوں ڈالر ہے۔ پاکستان کی بندرگاہوں کا شمار دنیا کی بڑی پورٹس میں ہوتا ہے اور یہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک کا گیٹ وے ہے۔ اس لحاظ سے تو ہمیں دنیا کے ترقی یافتہ ترین ممالک میں شامل ہونا چاہیے، برآمدات ، توانائی کی پیداوار ، جی ڈی پی، صنعتوں کی ترقی ، تعلیم اور صحت سمیت ہر حوالے سے ہمارا شمار کم از کم 20ٹاپ ممالک میں ہونا چاہیے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ فی کس جی ڈی پی کے حوالے سے ہم دنیا میں 135ویں، شرح خواندگی کے حوالے سے 159ویں، برآمدات کے حوالے سے 61ویں، ماحولیات کے حوالے سے 131ویں درجے پر ہیں، آسان کاروباری ماحول والے ممالک میں ہمارا شمار 76ویں نمبر پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح کوئلے اور گیس کے وسیع ذخائر رکھنے کے باوجود ملک کو اس وقت پانچ ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی کی قلت کا سامنا ہے، جبکہ غیرملکی قرضوں کا بوجھ 66ارب ڈالر تک جا پہنچا ہے۔پانی ہمیں بے تحاشا میسر ہے، لیکن ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے ڈیموں کی قلت ہے، چنانچہ ہر سال ساڑھے تین کروڑ ایکڑ فٹ سے زائد پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا ہے ، دوسری طرف 9 ملین ہیکٹر زرخیز زمین پانی نہ ہونے کی وجہ سے بیکار پڑی ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ کھربوں ڈالر کے وسائل تباہ و برباد کیے جارہے ہیں جس کی بدولت عالمی ادارے ناکام ریاستوں کی فہرست میں پاکستان کو 10واں نمبر دے رہے ہیں جبکہ کرپشن میں ہم ترقی کرکے 34ویں نمبر پرآچکے ہیں جو یقینا کسی طرح بھی ہمارے لئے فخر کی بات نہیں۔

ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے وہ اپنے دورِ اقتدار کے دوران یہی واویلا کرتی رہتی ہے بحران اور مسائل جانے والی حکومت چھوڑ کر گئی ہے اور خود یہ مسائل حل کرنے کے بجائے ان میں کئی گنا اضافہ کرکے رخصت ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ آج تک چل رہا ہے۔ کسی بھی چیز کی انتہا ہمیشہ تباہی کا باعث بنتی ہے، ہمارے ہاں بھی معاشی مسائل اور توانائی کے بحران کی انتہا ہوچکی ہے لہذا ان پر قابو پانا ہی ہوگا وگرنہ صنعت و تجارت اور معیشت کی مکمل تباھی و بربادی باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ رواں سال کسی بھی وقت قومی انتخابات متوقع ہیں جن کے بعد نئی حکومت ملک کی باگ ڈور سنبھال لے گی۔سب سے پہلے تو نئی حکومت کو اس روایت کا خاتمہ کرنا ہوگا کہ تمام ملبہ سابق حکومت پر ڈال کر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے ۔ جو بھی نئی حکومت بنے وہ ایک روز بھی ضائع کیے بغیر بجلی اور گیس کے بدترین بحران کے حل کے لیے سرگرمِ عمل ہوجائے کیونکہ یہ بحران ملک کی جڑوں تک میں سرایت کرچکا ہے اور تمام معاشی ڈھانچے کو گرانے کے درپے ہے۔ سب سے فوری حل یہ ہے کہ بجلی اور گیس کی چوری انتہائی سختی سے روکی جائے کیونکہ چوری کی وجہ سے یہ مالِ مفت دلِ بے رحم کے مصداق بہت بے دردی سے استعمال ہوتے ہیں، اس سے صورتحال میں بہت بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ بجلی کے بحران کی بنیادی وجہ روایتی ذرائع پر انحصار اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ اٹھانا ہے۔ ملک میں زیادہ بجلی تیل سے پیدا کی جارہی ہے جو بہت مہنگی ثابت ہورہی ہے ، ہائیڈل پیداوار بہت کم ہے کیونکہ گذشتہ تقریباً 35سالوں سے ملک میں کوئی ڈیم تعمیر کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی اور کالاباغ ڈیم کو بھی سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔بجلی کے بحران اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کا سب سے اہم حل یہ ہے کہ پانی سے بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے وگرنہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند ہی سالوں میں بجلی کی قیمت 50روپے فی یونٹ اور لوڈشیڈنگ مستقل طور پر سولہ گھنٹے تک جا پہنچے۔ حکومت کالاباغ ڈیم سمیت دیگر ڈیموں کی تعمیر فوری طور پر شروع کرے جس سے نہ صرف وافر سستی بجلی پیداہوگی بلکہ زرعی شعبے کو وا فر پانی بھی میسر ہوگا۔ کوئلے کے 185ارب ٹن ذخائر ہونے کے باوجود پاکستان میں کوئلے سے صرف ایک فیصد بجلی پیدا کی جا رہی ہے جبکہ امریکہ میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار 80فیصد، چین میں 70فیصد اور بھارت میں 50فیصد ہے۔ کوئلے کے ذریعے بجلی کی پیداوار بڑھائی جائے کیونکہ کوئلہ درآمد کرنے کے باوجود بھی بجلی تیل سے پیدا ہونے والی بجلی سے کم از کم پانچ گنا سستی پڑے گی۔ حکومت توانائی کے متبادل زیادہ سے زیادہ ذرائع کو فروغ دینے کے لئے اقدامات اٹھائے ۔ اس وقت ہمسایہ ممالک بھارت ہوا کے ذریعے 9600میگاواٹ سے زائد جبکہ چین 12000میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کررہا ہے جبکہ پاکستان کا اِس دوڑ میں دور دور تک کوئی نام و نشاں نہیں۔ بھارت نے پچھلے سال ہوا کے ذریعے توانائی کے حصول کی صلاحیت میں 1800میگاواٹ جبکہ چین نے 6300 میگاواٹ کا اضافہ کیا ہے۔ معاشی استحکام کے حصول کے لئے پاکستان کو برآمدات میں اضافہ کرنا ہوگا جس کے لئے علاقائی تجارت کے فروغ کی جانب زیادہ توجہ دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ روایتی مصنوعات اور روایتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ تجارت کے لئے نئی مصنوعات متعارف کرائی جائیں اور پاکستانی مصنوعات کے لئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ ٹیکسٹائل ملک کی سب سے بڑی صنعت ہے جس کا ک±ل برآمدات میں حصّہ60فیصد سے زائد ہے۔ عالمی سطح پر ٹیکسٹائل مصنوعات کی ڈیمانڈ 18ٹریلین ڈالر سالانہ ہے جبکہ اس تجارت میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ توانائی کا بدترین بحران یہاں بھی تباہ کن کردار ادا کررہا ہے اور صرف خریدار ہی نہیں بلکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ صنعتکار بھی دیگر ممالک کا رُخ کررہے ہیں جو یقینا پالیسی میکرز کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ امن و امان کی بدترین صورت حال بالخصوص کراچی میں ٹارگٹ کلنگ صنعت سازی اور سرمایہ کاری کے فروغ کی راہ میں حائل ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے اور صرف اسی کی وجہ سے گزشتہ پانچ سال کے دوران غیرملکی سرمایہ کاری میں تقریباً 80فیصدتک کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔امن و امان کی صورت حال خصوصاً کراچی کے حالات کو بہتر بنانے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں کیونکہ ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کی حیثیت سے کراچی سرمایہ کاروں کی اوّلین ترجیح ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ حکومت کو حاصل ہونے والے کُل محاصل کا 65فیصدحصّہ کراچی سے حاصل ہوتا ہے، ملک کے تمام سرکاری و نجی بنکوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں، ملک کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ کراچی میں ہے، سافٹ ویئر سازی کا بڑا مرکزکراچی ہے اور درجنوں صنعتی زون یہاں واقع ہیںلیکن ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وجہ سے یہ تمام سرگرمیاں ماند پڑی ہوئی ہیں جبکہ غیرملکی سرمایہ کاروں نے یہاں آمد کا سلسلہ تقریباً روک دیا ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا حکومت کی اوّلین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ ماحولیاتی آلودگی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جو ایک طرف تو انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے اور دوسری طرف سنگین معاشی خطرات بھی پیدا کررہا ہے کیونکہ ترقی یافتہ دنیا بالخصوص یورپین یونین اُن ممالک سے مصنوعات درآمد کرنے سے گریزاں ہے جو ماحولیاتی طور پر آلود ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے لاہور اور کراچی ایشیا کے پہلے دس شہروں کی صف میں شامل ہیں۔ یورپین یونین ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور پاکستان ہرگز اسے کھونے کا متحمل نہیں ہوسکتا، لہٰذا ماحولیاتی آلودگی کے خلاف حکومت کو باقاعدہ ایک جنگ شروع کرنی چاہیے جس سے صرف لاہور میں سالانہ 1500سے زائد وہ قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی جو ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ضائع ہوجاتی ہیں ۔خود انحصاری اور معاشی ترقی کی راہ پر پہلا قدم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت نہ صرف نئے قرضے لینے سے گریز کرے بلکہ پُرانے قرضوں سے جان چھڑانے کے لئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیںکیونکہ بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ(نصف سے زائد) ان قرضوں کے سود کی ادائیگی پر صرف ہورہا ہے، جبکہ اصل قرضے کم ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیںاگر حکومت قرضے نہیں لے گی تو نہ صرف سود کی مد میں خرچ ہونے والی بھاری رقم بچے گی بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کی بجلی ، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بھاری اضافے جیسی شرائط بھی تسلیم نہیں کرنی پڑیں گی۔ جہاں تک امداد کا تعلق ہے تو اس کے عوض حکومت کو کوئی کڑی شرائط قبول نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ امداد دینے والے ممالک پاکستان پر کوئی احسان نہیں کررہے ۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اُن کی امداد سے کہیں زیادہ بڑھ کر تعاون کرچکا ہے جس سے ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانی معیشت کو 60ارب ڈالر سے زائد نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پاکستان نہ صرف مطالبہ کرے کہ اِسے غیرمشروط امداد دی جائے بلکہ وہ تمام ممالک پاکستانی مصنوعات کو اپنی مارکیٹوں تک ڈیوٹی فری رسائی فراہم کریں جو پاکستانی تعاون کے بغیردہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتے تھے۔  ٭

مزید :

کالم -