”کڑی نظر“

”کڑی نظر“

  

کرنل محمد خان اُردو ادب کا ایک درخشندہ ستارہ ہیں۔اُن کی تصانیف ، مزاح نگاری کا جگمگاتا، گراں قدر اثاثہ ہیں۔ اُن کی مشہور کتابوں میں © ©"بجنگ آمد "بھی ہے، جس میں اُنہوں نے جنگ عظیم دوم کے دوران اُنہیں بطورکمیشنڈ آفیسر پیش آنے والے واقعات کا ذکر بڑے دل آویز ہلکے پھلکے انداز میں کیا ہے۔ اپنی کتاب کا ایک باب"نیم لفٹین بغداد میں"میں انہوں نے بتایا کہ ایک شام وہ اپنے فوجی مستقر سے بغداد کی سیر کو گئے۔ اس دوران طوفانی بارش ہوئی ۔ واپس قیام گاہ پہنچے تو وہا ں پر کچھ بھی نہیں تھا۔ سوائے اُن کے اردلی کے جو پانی میں شرابور تھا۔اُس نے بتایا کہ بارش کے ریلے میں خیمہ اور سب سامان بہہ گیا۔آپ نے پوچھا کہ اس دوران تم کیا کر رہے تھے ؟ تو اُس نے جواب دیا ۔ "میں دیکھ رہا تھا"اِس دیکھتے رہنے پر انہوں نے اُسے شاباش دی۔

برسوں پہلے کی پڑھی یہ کتاب اور یہ واقعہ ، نہ جانے کیوں طاق نسیاں سے سِرک کر دھیان کے دریچے میں آن گرا۔ خیراِ انسانی دماغ کی اپنی حرکیات ہے۔ خیال کی رَوبہتی رہتی ہے۔جدھر کو جا نکلے ، اس کو روکنے کاکس کو یارا ہے۔ ہاں! ایک خبرنظرسے ضرور گزری کہ دہشت گردی کے خدشات کی بناءپر پنجاب کے مدارس کی سخت نگرانی کا فیصلہ۔ حساس ادارے کی رپورٹ میں، پنجاب بھر کے 10434مدارس میں سے 545مدارس کو خطرناک قرار دیا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق بعض مدارس پنجابی طالبان کی نرسری ہیں،جہاں طلباءکو شدت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ محکمہ داخلہ کی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کہ مدارس پر کڑی نظر رکھی جائے اور اُن کی سرگرمیوں کی رپورٹ ہفتہ وار بنیادوں پر ارسال کی جائے۔

حکومیتں اورحکومتی عمال کو پہلے کون سے کم روگ ہیں۔جو یہ نئی اُفتاد آن پڑی کہ انہیں مدارس پر بھی کڑی نظر رکھنا پڑگئی ۔پہلے ہی لاتعداد بلائیں ہیں۔جن پر حکومت کو نظر رکھنا پڑتی ہے۔عوام کی زندگیوں کو وبال بناتی مہنگائی پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔گیس کی قلت اور پٹرول کی عدم فراہمی پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے اُتار چڑھاﺅ بلکہ چڑھاﺅ ہی چڑھاﺅ پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔ چور بازاری اور ناجائز منافع خوری پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔چیزوں کی عدم دستیابی کو دیکھنا پڑتا ہے۔کبھی آٹا آنکھیں دکھارہا ہے تو کبھی چینی چاول کا حصول ناممکن ہے ۔ابھی آلو، بینگن اور ٹماٹر جیسی ترکاریاں جنہیں کسی کھیت کی مولی نہیں سمجھا جاتا ، وہ بھی اُکھڑی سے اکھڑی ہوئی تھیں۔

وہ تو حکومت نے آنکھیں دکھائیں تو یہ اپنے کینڈے میں آئیں ۔غرض ، معاشرے کے سب پہلوﺅں پر نظر رکھنا پڑتی ہے۔امن و امان کو دیکھنا پڑتا ہے اور تو اور حکومتی اہلکاروں کو بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ اب سب سے بڑھ کر مدارس میں پروان چڑھتی شدت پسندی پر نظر رکھنا پڑے گئی۔شدت پسندی ، عدم برداشت ، تعصب، نفرت ، عدم رواداری یہ سب بیماریاں ذہنی ناآسودگی ، تشنہ خواہشوں ، معاشرتی و معاشی محرومیوں اور گھٹن سے پھوٹتی ہیں۔انسانی جبلت میں آسودگی راحت اور عزت کا حصول کا جذبہ جاگزیں ہوتا ہے۔ اگریہ جذبہ نا آسودہ رہے تو ذہنی انتشار اور قلبی عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ جو دلوں کو سنگ بار اور چہروں کو پتھرا دیتا ہے۔

ایک واقعہ ذہن میں آرہا ہے۔ایک مذہبی گھرانے کا نوجوان ملتان کے مدرسہ خیرالمدارس میں سات آٹھ سال کے حصول علم کے بعد عالم ہونے کا اعزاز لے کر اپنے آبائی شہر لوٹا۔ حصول رزق کا مرحلہ دامن گیر تھا۔اپنے رسوخ کی وجہ سے شہر کی مرکزی مسجد میں مدرس اور امام کے طور پر کام شروع کیا۔ 2000ءمیںماھانہ تنخواہ محض اٹھارہ سو روپے۔ جو بنیادی انسانی ضرورتوں کو پورا کرنے سے بالکل عاجز تھی۔ خاندانی و سائل کا م آئے اور وہ نوجوان بمشکل ایک انسانی زندگی گزارنے کا قابل ہوا،مگر دینی مدارس کے فارغ التحصیل سب طلباءاتنے خوش نصیب نہیں ہوتے۔ حصول رزق کا مسئلہ تو سب کو درپیش ہوتا ہے۔ مگر ملتا کیا ہے۔ عموما لوگوں کے چندوں اور بھینٹوں سے لتھڑے چند روپے۔ جو زندگی کی بنیادی ضرورتوں کے لئے انتہائی نا کافی ہوتے ہیں۔

نتیجہ دل کی پریشانی اور ذہن کا انتشار ۔آسودہ حال ۔ہنستے مسکراتے لوگ زہر لگتے ہیں۔ ذراسی بات پر انسان مرنے مارنے پر تُل جاتا ہے۔ پاکستان میں مختلف تعلیمی نظام چل رہے ہیں۔ جن میں دینی مدارس بھی معاشرے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ اگرچہ حکومت نے دینی مدارس کی سندات کو کچھ شرائط کے ساتھ ایف ۔ اے ، بی اے حتی کہ ایم اے کے برابر قرار دیا ہوا ہے۔جو کہ احسن اقدام ہے،مگر دینی مدارس کے مالی و سائل عموما اندرونی اور بیرونی چندوں سے مہیا ہوتے ہیں ۔ ممکن ہو تو دینی مدارس کے نظام کواپنا لیا جائے اورمدارس کو مالی و سائل حکومتی خزانے سے مہیا ہوں۔

مدارس کے علماءاور اساتذہ کی نوکریوں کو سرکاری ذمہ داریاں قرار دیا جائے۔سروس سٹرکچر بنا کر ماہانہ تنخواہیں سرکاری خزانے سے ادا کی جائیں ۔اس سے معاشرے کا ایک طبقہ آسودہ حال اور مطمئن ہو سکتا ہے۔دینی طلبا کی آنکھوں میں شاید محفوظ مستقبل کے ننھے منے چراغ ٹمٹمانا شروع کردیں۔باہمی رضا مندی سے دینی نصاب میں جنرل سائنس اور اردو ادب کو شامل کر لیا جائے۔مدرسوں میں اوقات کار مقرر ہو جائیں تاکہ طلباءبھی ایک مطمئن انسانی زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں۔تو شاید مدارس پر کڑی نظر رکھنے سے بچا جا سکے ،ورنہ بغداد کے نیم لفٹین کااردلی بھی تو بہتے سامان پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

مزید :

کالم -