ملکی اورغیر ملکی قرضوں میں اضافے کا سلسلہ نہ تھم سکا

ملکی اورغیر ملکی قرضوں میں اضافے کا سلسلہ نہ تھم سکا

اسلام آباد (آن لائن ) ملکی اورغیر ملکی قرضوں میں اضافے کا سلسلہ نہ تھم سکا، قرضوں کا مجموعی بوجھ ساڑھے انیس ہزار ارب روپے سے بھی بڑھ گیا،حکومت کشکول توڑنے کا وعدہ بھی پورا نہ کرسکی، ہرپاکستانی ایک لاکھ دس ہزار روپے سے زیادہ کا مقروض ہوچکا ہے،گذشتہ سولہ سال کے دوران قرضوں میں ساڑھے 16ہزار ارب روپے کا اضافہ ہواجبکہ موجود ہ حکومت نے ڈھائی سال میں پانچ ہزار ارب روپے کا قر ضہ لیکر اگلے پچھلے سارے رکارڈ توڑ دیے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں قرضوں میں اب تک پانچ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے ،صرف گذشتہ ایک سال کے دوران ایشیائی ترقیاتی بنک اور ورلڈ بنک سے بھی ڈیڑھ ارب ڈالر کے قرضے لئے گئے، ملک کے مجموعی قرضوں کا حجم ساڑھے انیس ہزار ارب روپے ہے جس میں سات ہزار ارب روپے غیر ملکی جبکہ ساڑھے بارہ ہزار ارب روپے مقامی قرضے ہوچکے ہیں۔ اکتوبر 1999تک ملک پر قرضوں کا مجموعی بوجھ صرف تین ہزار ارب روپے تھا ، 2008میں بڑھ کر چھ ہزار ارب روپے ہوگیا ،پیپلز پارٹی کے گذشتہ پانچ سالہ دور حکومت میں قرضوں میں ساڑھے آٹھ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا اور قرضوں کا حجم ساڑھے چودہ ہزار ارب روپے ہوگیا۔حکومت نے گذشتہ دس کے دوران 50ارب ڈالر سے زائد کے غیر ملکی قرضے لئے جس میں اکتیس ارب ڈالر قرضے کے معاہدے اقتصادی امور ڈویڑن نے کئے جبکہ ماندہ قرض میں آئی ایم ایف سے 12ارب ڈالر اور بین الاقوامی بانڈز کے اجرا ء سے4ارب 60کروڑ ڈالر حاصل کئے گئے،گذشتہ دس کے دوران حکومت نے سالانہ اوسط پانچ ارب ڈالر کا غیر ملکی قرض لیا۔اقتصادی امور ڈویڑن کے حکام کے مطابق عالمی بینک سے مختلف مکمل شدہ ترقیاتی منصوبو ں کیلئے 10ارب 88کروڑ ڈالر ،ایشائی ترقیاتی بینک8ارب 31کروڑ ڈالر ،چین1ارب 75کروڑڈالر ،اسلامی ترقیاتی بینک 61کروڑ ڈالر،جاپان انٹر نیشنل کو آپریشن ایجنسی 3کروڑ اور اوپیک فنڈ فار انٹر نیشنل ڈویلپمنٹ سے 9کروڑ70لاکھ ڈالر کاقرضہ لیا گیا۔اس کے علاوہ چین سے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے8ارب 88کروڑ ڈالر اور نئے منصوبوں کیلئے 5ارب 88کروڑ ڈالر کا قرض لیا جارہا ہے۔

اسی طرح عالمی بینک سے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 4ارب 90کروڑ ڈالر اور نئے منصوبوں کیلئے 5ارب88کروڑ ،ایشیائی ترقیاتی بینک سے جاری منصوبوں کیلئے 4ارب 95کروڑ اور نئے منصوبوں کیلئے 1ارب 43کروڑ ڈالر کا قرض لیا جارہا ہے#/s#

مزید : کامرس