اندیشۂ زوال سے نا آشنا فصلِ گل کا انتظار

اندیشۂ زوال سے نا آشنا فصلِ گل کا انتظار
 اندیشۂ زوال سے نا آشنا فصلِ گل کا انتظار

  



گزشتہ دنوں دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے ایک اور تعلیمی ادارے کو ٹارگٹ کیا، جس کے نتیجہ میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں ایک پروفیسراور عملہ کے افراد سمیت دو درجن کے قریب سٹوڈنٹس شہید ہو گئے ۔ سانحہ اے پی ایس کے زخم ابھی تازہ تھے کہ یہ روح فرسا واقعہ پیش آگیا، جس نے ملکی فضا کو ایک مرتبہ پھر سوگوار کر دیا ہے ۔ پاکستان میں جاری دہشت گردی کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو بات زیادہ پرانی نہیں بلکہ 9/11کے بعد جب افغان امریکہ جنگ چھڑ گئی تو ہمارے یہاں دہشت گردی کی کارروائیاں اور خودکش بم دھماکے روزمرہ کے معمول کا حصہ بنتے گئے ۔ ان 15برسوں میں بم دھماکوں میں لگ بھگ سات ہزار کے قریب افراد جاں بحق، جبکہ دہشت گردی اور خودکش دھماکوں میں مجموعی طور پر 50ہزار سے زائد پاکستانی لقمہ اجل بن چکے ہیں صرف یہی نہیں پاکستان تقریبا سوادوسو ارب کا معاشی نقصان بھی برداشت کر چکا ہے۔ دہشت گردی کے اس عفریت پر قابو پانے کے لئے جب پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو کچھ نادیدہ قوتوں کو ایسا ہرگز اچھا نہ لگا کہ پاکستان میں امن و آشتی قائم رہے۔

آپریشن ضرب عضب کے بعد کچھ حالات بہتر ہو گئے، لیکن سال 2014ء کے آخر میں رونما ہونے والے سانحہ پشاور نے تو پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ، جس کے بعد پوری قوم تذبذب کا شکار ہو گئی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے چند بڑے فیصلے کئے گئے۔دو سال کے لئے ملٹری کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا جن کا مقصد دہشت گردوں کو سزا دینا تھی اور دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان بنایا گیا، جس پر تیزی سے عملدرآمد بھی کیا گیا یوں دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی اور پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو سخت سیکیورٹی کے بعد ری اوپن کر کے تعلیمی نظام کو جاری و ساری کیا گیا ۔یوں ایک عرصہ تک تو حالات معمول کے مطابق رہے ، لیکن ایک طرف تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم تھوڑا ریلیکس ہوتے گئے دوسری جانب دشمن تاک میں رہا ، جس کا خمیازہ آج بھگتنا پڑا ۔موجودہ صورت حال میں تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی کو فی الفور ہائی الرٹ کیا جائے تا کہ مستقبل میں ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچا جاسکے ۔اس وقت عوامی حلقوں میں زیر بحث سوالات میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دہشت گرد تعلیمی اداروں کو ہی کیوں نشانہ بنا رہے ہیں ؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی قوم کی بقا اس کے تعلیمی اداروں کے ساتھ منسلک ہے یہ عناصر خوف و ہراس کی ایک فضا قائم کرنا چاہتے ہیں، تاکہ سٹوڈنٹس اور والدین عدم دلچسپی کا مظاہرہ کریں اور خدانخواستہ تعلیمی عمل تعطل کا شکار ہو ،لیکن ان اوچھے ہتھکنڈوں سے اگر تعلیم کی راہیں روکی جا سکتیں تو سانحہ پشاور کے بعد ملک بھر کے تعلیمی ادارے پورے زور و شور کے ساتھ تعلیم کے فروغ میں مصروف عمل نہ ہوتے اور یہ انشااللہ آئندہ بھی اسی طرح اپنا فرض خوش اسلوبی کے ساتھ نبھاتے رہیں گے ۔ اب یہاں کچھ تجزیہ نگار سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر آپریشن ضرب عضب میں ہزاروں دہشت گرد مارے گئے ہیں تو یہ حملے پھر کون کر رہا ہے ؟ عرض ہے کہ دہشت گردی نے عشروں سے پنجے گاڑ رکھے ہیں وہ راتوں رات ختم نہیں ہو گی اور جہاں تک آپریشن ضرب عضب کی بات ہے تو اس کے ثمرات آئے ہیں ملک میں امن وامان کی فضا قائم ہوئی ہے اور پاک فوج دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرُعزم ہے سر دست بھی ہماری عسکری قیادت، اورحکومت نے دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔بہرحال جہاں تک اس واقعہ کے ذمہ دراران کا تعلق ہے تو ابتدائی معلومات کے مطابق ملوث افراد افغانستان سے آئے جنہوں نے یہ مکروہ کام بھارتی ایجنسیوں کی فنڈنگ اور ایما کی بنیاد پر کیا۔وطن عزیز میں ’’را‘‘ کی کارروایؤں کے کئی ثبوت ماضی میں بھی پاکستان اقوام عالم کے سامنے لا چکا ہے ۔

اس ضمن میں ضروری ہے کہ زبانی کلامی بیانات کی بجائے بھارت سے دو ٹوک الفاظ میں بات کی جائے ،کیونکہ ہم مزید اس طرح کے سانحات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔اس کے علاوہ افغانستان کو بھی باور کروایا جائے کہ ایسا ہر گز برداشت نہیں ہو گا کہ پاکستان میں لگنے والی آگ کی چنگاریاں وہاں سے آئیں۔افغانستان نہ صرف پاکستان دشمن عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرے بلکہ پاکستانی اداروں کو ان دہشت گرد گروہوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے، اس کے ساتھ ساتھ پاک افغان بارڈر پرکنٹرول نہایت ضروری ہے اول تو افغان بارڈر سیل کردیا جائے اگر یہ ممکن نہیں تو ایسا لائحہ عمل ضرور بنایا جائے کہ دہشت گرد جب دل کرے دندناتے پاکستان میں داخل نہ ہو سکیں ۔اس کے علاوہ ہمارے سیکیورٹی وقانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان حالات میں اپنے دائرہ کار کو مزید وسعت دیں ،کیونکہ دہشت گردی کے ممکنہ خطرے کی اطلاع تو پہلے دے دی جاتی ہے، لیکن ان لوگوں کے سہولت کاروں اور ٹریننگ دے کر بھیجنے والوں کو قابو کرنا نہایت ضروری ہے ، جہاں تک عوام کی بات ہے تو دہشت گردی فوج یا حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام اپنے ارد گرد پر نظر رکھیں اور اداروں کے ساتھ تعاون کریں ، تاکہ دہشت گردی کے خلاف حتمی مرحلے میں داخل اس جنگ کو جیتا جا سکے ۔ آخر میں اس دعا کے ساتھ اجازت :

خدا کرے میری ارض پاک پہ اترے

وہ فصل گل، جسے اندیشہ زوال نہ ہو

مزید : کالم