ڈیوڈ کیمرون کا چیلنج اور مسلم خواتین

ڈیوڈ کیمرون کا چیلنج اور مسلم خواتین
 ڈیوڈ کیمرون کا چیلنج اور مسلم خواتین

  


حال ہی میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ میں رہنے والی تمام مسلمان خواتین انگریزی سیکھیں، ورنہ انہیں مُلک سے نکال دیا جائے گا۔ برطانیہ میں دوسری قوموں کی خواتین کو انگریزی سکھانے کے پروگرام کی تقریب سے خطاب اور اخبار ’’دی ٹائمز‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے ایک آرٹیکل میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ جن خواتین کو انگریزی نہیں آتی ،وہ داعش جیسی شدت پسند تنظیم کا اثر جلد قبول کر لیتی ہیں، اس لئے برطانیہ میں موجود دیگر اقوام کے افراد، بالخصوص مسلم خواتین کو کم سے کم معیار کی انگریزی زبان سیکھنی چاہئے۔۔۔میرے خیال میں برطانوی حکومت کی عائد کردہ اس پابندی پر پریشان ہونے یا اس پر غم و غصے کا اظہار کرنے کے بجائے برطانیہ میں مقیم ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو یہ چیلنج قبول کرنا چاہئے اور برطانوی حکومت کی فراہم کردہ سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہئے، یعنی انہی کے پیسوں سے ان کی زبان سیکھنی چاہئے اور یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ ہم مسلمان لبرل ہیں اور ہر طرح کے ماحول میں گزارا کرنا جانتے ہیں۔ ہماری مائیں، بہنیں اور بیٹیاں دوسرے ممالک کی خواتین سے کسی بھی طرح کم نہیں، بلکہ صلاحیتوں میں ان سے بڑھ کر ہیں۔ ویسے بھی جس طرح ہم چاہیں گے کہ پاکستان میں آنے والے غیر ملکی ہمارے مُلک کے قوانین، رسوم و رواج، اصول و ضوابط، معاشرتی اقدار اور زبان سے واقف ہوں تاکہ یہاں کی کمیونٹی سے ٹھیک طریقے پر تبادلہ خیال کر سکیں، اسی طرح دوسرے ممالک کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بہتر قانون بنائیں اور ان پر عمل کرائیں۔

برطانیہ میں کی گئی2011ء کی مردم شماری کے مطابق اسلام وہاں دوسرے بڑے مذہب کے طور پر اُبھر کر سامنے آ رہا ہے۔ برطانیہ میں مقیم مسلم آبادی 27لاکھ 6ہزار سے زیادہ ہے۔ چار پانچ برسوں میں ظاہر ہے اس میں اضافہ ہو چکا ہو گا۔ برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کی زیادہ تعداد پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھتی ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ’’برطانیہ میں رہنے والی مسلم خواتین میں سے22فیصد، یعنی190000انگریزی زبان نہیں جانتیں یا اگر جانتی ہیں تو نہایت کم ، حالانکہ ان میں سے ایک خاصی بڑی تعداد دہائیوں سے وہاں مقیم ہے‘‘۔۔۔ جبکہ ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ برطانیہ میں مقیم132675 مسلم خواتین ایسی ہیں، جو انگریزی زبان ٹھیک طریقے سے نہیں بول سکتیں اور محض22758 مسلم خواتین ایسی ہیں جو انگریزی زبان بالکل نہیں بول سکتیں۔ اس طرح انگریزی زبان ٹھیک طریقے سے نہ بول سکنے والی 16سے65 برس عمر والی مسلم خواتین کی کل تعداد 155,000 بنتی ہے،190000نہیں۔ سوال یہ ہے کہ تعداد میں کم و بیش 40000کا اضافہ کس لئے دکھایا گیا؟ آیا دنیا کو یہ دکھانے کے لئے کہ مسئلہ بڑا گمبھیر ہے؟ برطانوی وزیراعظم کو اعداد و شمار تو ٹھیک بتانے چاہئیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ میں مقیم انگریزی زبان نہ جاننے والی مسلم خواتین کی شرح انگریزی زبان جاننے والوں کے مقابلے میں3.7فیصد ہے۔

اگلا سوال یہ ہے کہ96.3فیصد انگریزی زبان جاننے والوں سے برطانیہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے اور صرف یہ 3.7فیصد آبادی ہی مسائل کا باعث بن رہی ہے؟ ایک اور قابل غور ایشو یہ ہے کہ دوسرے ممالک سے آئی ہوئی وہ مسلم خواتین،جو کچھ نہ کچھ پڑھی لکھی ہیں،ان کے لئے انگریزی زبان سیکھنا آسان ہو گا اور وہ جلد سیکھ جائیں گی، لیکن جو خواتین بالکل اَن پڑھ ہیں، ان کے لئے یہ کام آسان نہیں ہو گا۔میرے خیال میں انگریزی زبان سیکھنے کی پابندی لگانے میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن اسے ڈی پورٹ کر دینے سے مشروط نہیں کیا جانا چاہئے، بس برطانیہ جانے والوں کے لئے انگریزی زبان جاننا ضروری قرار دیا جانا چاہئے۔ برطانوی حکومت کے لئے ایک اور تجویز یہ ہے کہ جو غیر ملکی خواتین برطانیہ میں موجود ہیں، انہیں تو اس معاملے میں چھوٹ دے دی جائے، لیکن جو نئی غیر ملکی خواتین برطانیہ جانا چاہیں،ان کے لئے انگریزی کا جاننا، لکھنا اور بولنا لازمی قرار دیا جا سکتا ہے۔مَیں یہ واضح کر دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ یہ محض تجاویز ہیں، جن کا مقصد ڈیوڈ کیمرون کے اعلان سے پریشان اپنی برطانوی ماؤں، بہنوں کو دِلاسا دینا اور ان کی ہمت بڑھانا ہے، برطانوی حکومت کی پالیسیوں اور وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے بیان کی حمایت ہر گز نہیں ہے۔

’’انگریزی لازمی آنی چاہئے‘‘ ۔۔۔اس بیان کے دو روز بعد ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ مسلمان خواتین پر سکولوں، عدالتوں اور دیگر برطانوی اداروں میں نقاب کرنے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔میرے خیال میں یہ تجویز کسی طور مناسب نہیں ، کیونکہ پردہ مسلمان خواتین کا زیور ہے۔ مسلم خواتین کو غیر محرموں سے پردہ کرنے کے احکامات دین کا حصہ ہیں۔ وہ ان سے رو گردانی نہیں کر سکتیں۔ وہ ویسی زندگی گزارنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں، جیسی یورپ کی خواتین گزارتی ہیں۔ برطانوی حکومت کی جانب سے لوگوں کو داعش کے ہتھے چڑھنے سے روکنے کی کوششیں بجا سہی، لیکن اس معاملے میں اقدامات کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ یہ سارے کام ایک حد کے اندر رہ کر ہی کئے جا سکتے ہیں، اس کے لئے کسی کو مذہبی احکامات کی خلاف ورزی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

مزید : کالم