ڈی جی اینٹی کرپشن کی ریٹائرمنٹ قریب،زیر سماعت کیسز داخل دفتر کرنے کیلئے مافیا سرگرم

ڈی جی اینٹی کرپشن کی ریٹائرمنٹ قریب،زیر سماعت کیسز داخل دفتر کرنے کیلئے ...

لاہور(عامر بٹ سے)ڈی جی اینٹی کرپشن کی ریٹائرمنٹ کے قریب آتے ہوی آخری ایام میں محکمہ اینٹی کرپشن میں زیر سماعت کیسز داخل دفتر کرنے کے لئے لینڈ مافیا نے بولیا ں لگا دیں،جبکہ فائلیں اور کیس کو لٹکانے کے لئے سرکاری ملازمین نے بھی انوسٹی گیشن آفیسروں کے منہ رشوت سے بھر دیئے،ڈی جی اینٹی کرپشن کی طرف متعدد بار دی جانے والی ہدایات بھی نظر انداز کر دی گئیں ،محکمہ اینٹی کرپشن کے افسران کرپٹ سرکاری ملازمین اور لینڈ مافیا کو ڈی جی کی ریٹائرمنٹ تک تحفظ دینے کی گارنٹی دے دی ،مزید معلوم ہوا ہے کہ ایک طرف تو ڈی جی انٹی کرپشن پنجاب انور رشید کی جانب سے محکمہ انٹی کرپشن پنجاب بھر کے انوسٹی گیشن آفیسروں کو کارکردگی بہتر بنانے، میرٹ پر درخواستوں، انکوائریوں اور مقدمات کو نمٹانے کے ٹاسک دئیے جا رہے ہیں تو دوسری جانب محکمہ انٹی کرپشن کے انوسٹی گیشن آفیسروں نے بھی لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے جس کی بڑی مثال محکمہ انٹی کرپشن میں زیر سماعت اعلیٰ سطح کے کیسیز کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے رجسٹریشن برانچوں سے کروڑوں روپے کی فیس لے کر بھاگنے والے رجسٹری محرر چوہدری نصیر اور محمد ارشد اور سب رجسٹرار صدف معراج بٹ اور حافظ احمد تاحال مقدمات میں گرفتار نہیں کئے جا سکے اور کروڑوں کی سی وی ٹی کے غبن میں ملوث رجسٹری محرر افضل ناصر،راجا ندیم وغیرہ کی انکوائری کو بھی جان بوجھ کر لٹکایا جار ہا ہے اس کے علاوہ ان کیسوں میں ملوث کئے جانے والے دیگر رجسٹری محرروں اور ٹراثری آفس کے اہلکاروں کے کردار کا تعین بھی نہ کیا جسا سکا ہے ،اس کیس کو مختلف تاخیری حربوں استعمال کرکے الماریوں کی ذینت بنا دیا گیا ہے، 28 سے زائد پٹواری، 10سے زائد قانونگو اور 9سے زائد ریونیو آفیسروں نے 400 کنال سے زائد اربوں روپے مالیت کی اراضی کی بندر بانٹ کرنے کے لئے ریکارڈ میں جگہ جگہ ٹمپرنگ کی چیف سیٹلمنٹ کمشنر کے جعلی فیصلے چسپاں کئے گئے جعلی صفحات انتقالات کے شامل کئے گئے اور سینکڑوں فرضی افراد کو مالک ظاہر کرتے ہوئے براہ راست پنجاب حکومت کو اس کی ملکیتی جائیداد سے محروم کر دیا گیا اور اربوں روپے کے اثاثے بنائے 2008ء سے یہ کیس کبھی انوسٹی گیشن آفیسروں کی ٹیبلوں پر پڑا ہے مگر منہ مانگی رقوم مل جانے کے بعد اس کیس کو بھی سست روی کا شکار کر دیا گیاپی آئے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ کے خلاف جعلی اور بوگس رسیدوں کی مد میں لاکھوں روپے کی خرد کی انکوائری بھی ابھی تک تاخیری حربوں کا شکار نظر آرہی ہے ۔محکمہ انٹی کرپشن کی موجودہ انوسٹی گیشن ٹیم جس میں ڈی ڈی طارق محمود ، سی او لاہور زبیر اخلاق اور ڈی ڈی آئی لاہور نعم الرحمن خان شامل ہیں، جو کہ دن رات کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈی جی اینٹی کرپشن کے ریٹائرمنٹ کے دن قریب آتے ہی محکمہ انٹی کرپشن میں زیر سماعت اسٹیٹ لائف سوسائٹی، پی آئی اے جعلی اشٹام پیپرز کیس اور ملٹری اکاؤنٹس سوسائٹی خرد برد کیس ، پروجیکٹ مینجمنٹ یونٹ ادارے کے کنٹریکٹ ملازم فیض الحسن کے خلاف جاری انکوائری میں بھی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے تعاون سے سرد خانے کی جاتی دیکھائی دے رہی ہے

مزید : میٹروپولیٹن 1