جنگ اور سفارت کاری!

جنگ اور سفارت کاری!
جنگ اور سفارت کاری!

  


اگرچہ مجھے علمِ ستارگان سے کبھی کوئی علاقہ نہیں رہا، لیکن اب ماضی کے ماہ و سال میں جھانکتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ بعض سال اور مہینے واقعی تاریخ ساز ہوتے ہیں۔ تاریخ جب بن رہی ہوتی ہے تو کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ وہ لمحات جو گزر رہے ہیں وہ مستقبل میں ماضی کی یادوں کا ایک انمٹ خزینہ بھی بن سکتے ہیں۔ اُس وقت وہ عام سی ساعتیں، عام سے دن اور عام سے ہفتے اور مہینے ہوتے ہیں۔ گردو نواح کا ماحول اور اس میں رہنے والی شخصیات عام سے مرد و زن ہوتے ہیں۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں سے کس نے ایک عام موت مرنا ہے اور کس نے مر کر امر ہو جانا ہے۔ البتہ خود اپنی زندگی ہی میں امر بن جانے والی چند شخصیتیں بھی ضرور ہوتی ہیں جو انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں۔۔۔ غالب نے جو یہ کہا تھا کہ: اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے۔۔۔ تو اس وقت اس کو معلوم نہ تھا کہ آس پاس کے بتوں سے فیض پانے والے عشاق میں ان کا اپنا مرتبہ کس ناقابلِ یقین حد تک اونچا ہو جائے گا! اگر آپ بھی اپنی اس چند روزہ حیات پر جو ماضی میں گزر چکی ایک اچٹتی سی نظر ڈالیں گے تو آپ کو بھی غالب کی طرح بہت سے سال ایسے یاد آئیں گے جو تاریخ ساز ہوں گے لیکن اس کی پیشگوئی کسی برہمن نے نہیں کی ہو گی۔۔۔۔ میری زندگی میں بھی 1969ء ایک ایسا ہی سال تھا۔

میری پہلی پوسٹنگ ستمبر1968ء میں پنجاب رجمنٹل سنٹر،مردان میں ہوئی تھی اور ابھی وہاں چھ ماہ ہی گزرے تھے کہ اپر ٹوپہ مری میں میرے اپنے شعبے کا ایک بنیادی کورس آ گیا جس کا دورانیہ 90دن کا تھا۔شائد آپ کو معلوم ہو کہ فوج میں اگر کوئی کورس 90دِنوں سے ایک دن بھی اوپر ہو جائے تو وہ مستقل تقرری شمار ہوتی ہے اور سرکار کو اس Permanent Posting کے لئے ٹی اے ڈی (TA/DA) یعنی سفر خرچ وغیرہ بھی دینا پڑتا ہے۔ چنانچہ اس ’’خرچ‘‘ کو بچانے کے لئے 90یا 90سے کم دِنوں کے کورس پلان کئے جاتے ہیں۔ یہ کورس مقامِ تقرری سے باہر کسی بھی دوسرے مقام پر جا کر(یا اسی جگہ) Attend کرنے ہوتے ہیں اور پھر بعد از اختتامِ کورس، واپس اپنے مقامِ تقرری پر آنا پڑتا ہے۔ اور کوئی سفر خرچ نہیں ملتا۔ تو میرا90دن کا یہ کورس اواخر اپریل سے لے کر اواخر جولائی1969ء تک چلایا گیا تھا۔اس دوران مری اور اس کے گردو نواح کے کئی علاقوں سے واقفیت ہوئی۔ لوئر ٹوپہ،جھیکا گلی، گھوڑا گلی، نتھیا گلی (اور دیگر کئی گلیات)، کلڈنہ وغیرہ جیسے مقامات میں تو پاک فوج کی جو یونٹیں اور ادارے موجود تھے، وہاں جا کر ان کو بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا اور اس طرح 1969ء کے موسم سرما کے یہ تین ماہ یادوں کا ایک ایسا سرمایہ بنے جو بعد کی آرمی سروس میں بار بار میرے کام آیا اور ہر بار ایک نیا تجربہ اور ایک خوشگوار معلومات افزاء ایکسر سائز بنتا رہا۔ جولائی 1969ء میں مردان واپس آیا تو ابھی یہاں دو ماہ ہی گزرے تھے کہ چھ ماہ کا ایک اور کورس آ گیا۔ یہ فارسی زبان کا ایک کورس تھا جو ستمبر 1969ء میں شروع ہو کر مارچ 1970ء میں ختم ہوا۔

اس کورس کے ابتدائی تین ماہ اختتامِ دسمبر 1969ء تک اِس لئے یاد گار تھے کہ اس سہ ماہی میں، مَیں اس پروفیشنل پرشین (Persian) زبان کے کورس میں ہر ماہ فیل ہوتا رہا۔۔۔۔ یہ ایک قسم کے ماہانہ ٹیسٹ تھے اور اگرچہ مَیں فارسی زبان کی است و بود سے خاصا واقف تھا لیکن اپنے دیگر24ہم درس افسروں کے علی الرغم میرا ان ٹیسٹوں میں ناکام ہونا اس وجہ سے تھا کہ اس کورس کا نصاب سرا سر پروفیشنل تھا۔ اس میں جو مضامین اور موضوعات پڑھائے جاتے تھے وہ میرے ہم درس (Course-mates) دوسرے ساتھیوں کے لئے تو ایک نارمل روٹین تھے۔ ان میں سے تقریباً تمام نے پانچ پانچ سات سات کورس کر رکھے تھے جن میں کوئٹہ کے انفنٹری سکول اور کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے کورسز بھی شامل تھے۔ ان میں سے اکثر دوستوں کی سروس بارہ بارہ تیرہ تیرہ برس تھی۔ ان میں بہت سے میجر اور باقی کپتان تھے، جبکہ مَیں نیم لفٹین تھا۔۔۔۔ بعد میں معلوم ہوا کہ جی ایچ کیو نے میرا نام آخر میں اس کورس میں اس لئے ڈالا تھا کہ25افسروں کا گروپ پورا کرنا تھا،کیونکہ ہمارے وہ اساتذہ جو ایران سے ہمیں یہ کورس پڑھانے/ کروانے آئے تھے ان میں ہر ایک کی سروس بھی کم از کم 15،20 برس تھی اور امریکہ اور یورپ کی کئی عسکری درس گاہوں کے فارغ التحصیل بھی تھے۔ یہ انسٹرکٹرز ایرانین مسلح افواج کے مختلف شعبوں سے منتخب کر کے پاکستان (کراچی) بھیجے گئے تھے۔ میری سروس اس وقت صرف ایک سال ہوئی تھی اس لئے پروفیشنل موضوعات جن کی تدریس (فارسی زبان میں) اس کورس میں کروائی جا رہی تھی، میرے سر کے اوپر سے گزر جاتے تھے اور غریب کا بچہ ’’ہر سال‘‘ فیل ہو جایا کرتا تھا۔

وسط دسمبر1969ء کی کوئی تاریخ تھی جب ہمیں تیسرے ماہانہ ٹیسٹوں کے نتائج سے آگاہ کیا گیا اور مجھے یہ ’’خوشخبری‘‘ سننے کو ملی کہ مَیں حسب ِ معمول اس ماہ بھی 40فیصد نمبر حاصل نہیں کر سکا اور فیل ہوں۔ مجھے یاد ہے مجھے اس رات ندامت اور خجالت کی وجہ سے ساری رات جاگنا اور اپنی ناکامی کے اسباب اور اس کے علاج پر غور کرنا پڑا تھا۔ مَیں اسی لئے1969ء کے سال کو اپنی زندگی کا ایک سنگ میل قرار دیتا ہوں کہ دسمبر کی اُس کہر آلود اور سرد رات میں مجھ پر اپنی پروفیشنل کمزوریوں، کوتاہیوں اور قلتوں کے اسرار فاش ہوئے اور مَیں نے اگلے تین ماہ میں اتنی سخت محنت کی کہ جب آخری (یعنی سالانہ) امتحان ہوا تو اس میں کورس بھر میں اول آیا اور GHQ نے حسبِ قاعدہ اس کا پارٹ ٹو آرڈر (Part Two Order) شائع کیا جو فوج میں ایسے کورسوں میں اول آنے والے آفیسرز کے لئے شائع کیا جاتا ہے۔۔۔ میرے لئے یہ ایک اضافی اعزاز تھا۔

پھر اس کورس کے تقریباً 6 ماہ بعد مجھے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹر کی طرف سے ایک دستاویز (بذریعہ خفیہ ڈاک) موصول ہوئی جو کابل میں افغان آرمی کے محکمۂ دفاع کی طرف سے جاری ہوئی تھی اور ہمارے کسی ایجنٹ نے وہاں سے ’’حاصل‘‘ کر کے آئی ایس آئی حکام کے حوالے کی تھی۔ مجھے کہا گیا تھا کہ اس کا انگریزی میں ترجمہ کروں اور فلاں تاریخ تک اسے واپس بھی بھیج دوں۔ میں اس وقت بلوچستان میں قلات سکاؤٹس میں پوسٹ تھا جو خضدار میں مقیم تھی۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کو جس فارسی زبان کا کورس ہمیں کراچی میں کرایا گیا تھا وہ ایرانی فارسی کہلاتی تھی اور یہ دستاویز جو برائے ترجمہ موصول ہوئی تھی یہ افغانی فارسی تھی جو ’’دری‘‘ کہلاتی تھی۔ایران اور افغانستان کی مسلح افواج کی سرکاری زبان اگرچہ آج بھی فارسی اور دری ہے، لیکن دونوں زبانوں میں عسکری اصطلاحات و تراکیب میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اس دستاویز کی بیشتر عبارت تو میری سمجھ میںآتی تھی لیکن اس میں بہت سی ایسی اصطلاحات (Terms) تھیں جو کبھی پہلے نہ اپنے کورس میں پڑھی تھیں، نہ کسی سے سُنی تھیں۔ میرا خیال ہے۔ آئی ایس آئی والوں نے اس دستاویز کو میرے پاس اس لئے بھجوایا تھا کہ میں نے کورس میں ٹاپ کیا تھا۔ انہیں یہ خبر نہ تھی کہ اس تحریر کے بیشتر حصوں میں وہ اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں جو ایرانی فارسی اور ایرانی مسلح افواج میں مستعمل نہیں۔۔۔۔ میرے لئے یہ چیلنج سخت تھا کہ ایسی دستاویز کا ترجمہ کیسے کروں۔ خیال آیا کہ اسے واپس بھیج کر ان کو بتاؤں کہ یہ میرے بس کی بات نہیں اور کسی ایسے مترجم سے رابطہ کیا جائے جو ’’عسکری دری‘‘ جانتا ہو۔۔۔ پھر اچانک یہ خیال سوجھا کہ کیوں نہ کسی ایسے آفیسر سے رابطہ کروں جو افغانستان کی مسلح افواج کا حاضر سروس یا ریٹائرڈ آفیسر ہو۔ لیکن اس طرح اس دستاویز کے اہم اور خفیہ مندرجات فاش ہونے کا خطرہ بھی تھا۔ چنانچہ مَیں نے اپنے کمانڈنگ آفیسر (CO) سے بات کی۔ میجر دلاور خان آفریدی اگرچہ پختون تھے لیکن میں ان کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ یہ دستاویز کہاں سے آئی ہے اور کیا ہے اور مجھے کس غرض سے بھیجی گئی ہے۔ پھر بھی مَیں نے چند نا مانوس سی عسکری اصطلاحات کا ذکر ان سے کر کے ان کے معانی دریافت کئے تو انہوں نے مکمل لا علمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس قسم کے کوئی الفاظ عام پشتو بول چال میں نہیں ہیں (دوسری زبانوں میں بھی عسکری اور غیر عسکری اصطلاحات کی کیفیت تقریباً یہی ہے) البتہ میری درخواست پر انہوں نے کمانڈنٹ چاغی ملیشیاء (نوشکی) سے بات کی۔ وہاں میجر قادر تعینات تھے جن کا کہنا تھا کہ یہ ’’دری‘‘ زبان کی پروفیشنل اصطلاحیں ہیں۔ میرے ایک انٹیلی جنس NCO کو ان کی شائد کچھ سُن گن ہے، جیلانی اگر کبھی ادھر آئے تو میں اس کی ملاقات اپنے اس NCO سے کروا دوں گا۔‘‘

اتفاقاً اگلے ہفتے میرا نوشکی جانے کا ایک کام نکل آیا اور میں وہاں چلا گیا۔ وہیں اس انٹیلی جنس NCO سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس طرح میں نے اس دستاویز کا ترجمہ کر دیا۔ اگلے ہفتے اسلام آباد سے ایک خفیہ خط کے ذریعے مجھے بتایا گیا کہ ’’ڈائریکٹر جنرل، آئی ایس آئی،میجر جنرل غلام جیلانی خاں، ذاتی طور پر کیپٹن جیلانی کو اس کامیاب کاوش پر مبارک باد دیتے ہیں۔‘‘ پھر اس کے بعد تو ایسی خفیہ دستاویزات کی آمد و شُد کا ایک تانتا بندھ گیا جس نے مجھے کافی مصروف رکھا۔ افغانستان اور بلوچستان کی سرحدوں (اپنی طرف نوشکی، دالبندین، احمدوال، تفتان وغیرہ اور افغانستان کی طرف صوبہ جات قندھار، ہلمند اور نیمروز) پر میری Visits میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور مجھے فخر ہے کہ مَیں نے اپنی ایک ادنیٰ سی حیثیت میں اپنے وطن کی وہ خدمت کی جس کی وجہ سے پاک افغان سرحد پر ہمارے دفاعی انتظامات میں بہتری کے کئی آثار پیدا ہوئے۔

یہ داستان یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہا۔ مجھ جیسے ہزاروں پاکستانی اور بھی ہوں گے جن کی کاوشوں کے سبب پاک افغان سرحدات کے تحفظ میں ہمیں کئی کامیابیاں نصیب ہوئیں اور آج بھی ہو رہی ہیں۔۔۔ یہ ایسے پہلو ہیں جو منظر عام پر نہیں لائے جا سکتے۔ مَیں نے یہ چند سطور اس لئے قارئین کی خدمت میں پیش کی ہیں کہ بتاؤں کہ سفارت کاری اور دفاع میں ایک ناقابلِ شکست تعلق ہوتا ہے جس کا علم اکثر لوگوں کو نہیں۔ وہ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ پاک فوج نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی باگ ڈور سنبھالی ہوئی ہے۔ہمارا میڈیا تو بالعموم فوج پر امورِ خارجہ کے شعبے میں ٹانگ اڑانے کا الزام لگاتا رہتا ہے۔ ان کو کیا معلوم کہ دفاع اور امور خارجہ کا باہمی تعلق ایک اٹوٹ انگ کی طرح ہے اور جیسا کہ کلازوٹز نے کہا تھا۔ ’’جنگ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی ہی کا ایک فطری تسلسل ہوتی ہے۔‘‘ یعنی جہاں سفارت کاری فیل ہو جائے وہاں جنگ سے کام لینا پڑتا ہے۔ چنانچہ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ جنگ نہ ہو۔۔۔۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہے جب خارجہ پالیسی ناکام نہ ہو!

مزید : کالم