محفوظ کراچی ،مگر کیسے؟

محفوظ کراچی ،مگر کیسے؟
 محفوظ کراچی ،مگر کیسے؟

  

طیارہ کراچی کے ہوائی اڈے پر اترنے سے پہلے شہر پر چکر لگا رہا تھا، اس طرح اس نے طائرانہ نظر سے شہر کا نظارہ کرا دیا، جھگیوں سے لے کر بلند و بالا اور وسیع و عریض عمارتیں اس عظیم شہر کا تنوع اور عظمت بیان کر رہی تھیں، جہاز کی کھڑکی سے دیکھا تو ایک جھگی پر سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا، یہ ملک کے سب سے بڑے شہر سے میرا پہلا براہ راست تعارف تھا۔

صوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے تھے، مَیں نے کراچی میں اکیلے موٹر سائیکل پر گھوم پھر کر کئی پولنگ سٹیشن دیکھے، مخالف امیدواروں کے حامیوں کے درمیان نعرہ بازی تو ہو رہی تھی، مگر کوئی ہنگامہ یا فساد نہیں ہوا۔ ایم کیو ایم کے کارکن ’’حق پرست‘‘ کا نعرہ لگا رہے تھے اور ان کے مخالفین ’’ناحق پرست‘‘ کے آوازے کس رہے تھے، بات مزاح میں پڑ جاتی رہی، گولی نہیں چلی، کوئی کسی سے دست و گریبان بھی نہیں ہوا۔ ایک ہفتہ قیام کے دوران میں ہنس روڈ اور طارق روڈ سے گڈاپ اور سہراب گوٹھ تک گیا، مگر میرے میزبانوں نے میری خواہش کے برعکس مجھے شاہ فیصل کالونی نہیں جانے دیا، وہ دہشت گردی والے علاقوں میں سب سے زیادہ حساس تھی اور اس وقت دہشت گردی میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کا الزام صرف ایم کیو ایم پر لگایا جاتا تھا۔ جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی (مرحوم) سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر بھی گیا، مجھے ابھی تک یاد ہے کہ وہ ایم کیو ایم کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا کرتے تھے۔

جب ایم کیو ایم پر یہ الزام لگایا جاتا تھا، تب کراچی کی سڑکوں پر دندنانے والے کار سوار ایک ہی وار میں درجنوں بے گناہ راہگیروں کو خون میں نہلا دیا کرتے تھے۔ اس وقت کسی اور تنظیم پر دہشت گردی کا الزام نہیں لگایا جاتا تھا اور نہ ہی اس وقت کالعدم تحریک طالبان سرگرمِ عمل تھی۔ یہ ضرور کہا جاتا تھا کہ مافیاز نے شہر کے مختلف علاقوں میں اپنے ٹھکانے بنا رکھے ہیں، ان کے درمیان مفادات کی جنگ تھی جو کبھی کبھی ایک دوسرے پر گولیوں کی تڑتڑاہٹ کی شکل میں بھی ظاہر ہوتی۔ اس عرصے میں انتظامیہ اور پولیس یا تو خوابِ خرگوش کے مزے لوٹتی رہیں یا جرائم پیشہ گروہوں کی معاون بنی رہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ گروہ دن بدن مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے، اتنے مضبوط کہ معاملہ سول حکومت کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ان گروہوں کے خاتمے کے لئے فوج کے ذیلی ادارے رینجرز سے مدد لینا پڑی۔ رینجرز کے اقدامات سے بہتری تو آئی، مگر اتنی نہیں کہ کراچی کو جرائم پیشہ گروہوں سے پاک قرار دیا جا سکے۔

رینجرز نے معاملات کو باریکی سے دیکھا تو انہیں بہت الجھا ہوا پایا، انہیں سلجھانے کی کوشش کی گئی تو تانے بانے حکمرانوں ور دیگر سیاستدانوں تک جاتے گئے۔ اب کراچی میں مافیاز کے معاونین میں بعض وزراء، اپوزیشن سیاستدان، انتظامیہ اور پولیس اہلکار شامل سمجھے جاتے ہیں، عام شہری اسی وجہ سے ان اداروں اور شخصیات پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور رینجرز کو نجات دلانے والے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ شہریوں کو تو کراچی میں امن و سکون چاہیے، خواہ کسی کے ذریعے ہو، بہتر یہ ہے کہ اس کے لئے تمام ریاستی قوتیں مل کر مربوط اقدامات کریں، کسی بھی طرح کی مصلحت کا شکار ہونے سے کراچی کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں رکاوٹ پڑ سکتی ہیں۔جرائم پیشہ گروہوں کا دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہونا تو شاید ان کے مفاد میں نہ ہو البتہ مافیا اور دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ ہو سکتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ریاستی ادارے ان دونوں طاقتوں کے وجود کو ملک کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اب ان دو طاقتوں میں سے دہشت گرد ہی زیادہ متحرک ہیں، ان کے کام کرنے کے طریقے سے صاف پتا چلتا ہے کہ وہ کسی پاکستان دشمن قوت کے تربیت یافتہ ہیں، ان کے پاس اسلحے کی کمی ہے نہ پیسوں کی، منصوبہ بندی کی نہ اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کی۔ ایسے میں کراچی پولیس نے بعض مواقع پر بہت دلیرانہ کردار ادا کیا ہے، تاہم بات اب اس کے بس کی نہیں رہی، اب فوج ہی کو فیصلہ کن کردار ادا کرنا ہو گا۔

وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف بارہا صرف دہشت گردی کے خاتمے کی غرض سے اجلاس کرنے کے لئے کراچی گئے ہیں، ان اجلاسوں میں یقیناًاہم فیصلے کئے گئے اور حکمت عملی میں بھی تبدیلیاں کی جاتی رہیں۔ اس کے باوجود کراچی میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ابھی باقی ہے، جس کے حوالے سے جنرل راحیل شریف کچھ دن پہلے بھی کراچی گئے، کور ہیڈکوارٹرز میں اجلاس ہوا، انہیں بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کراچی کو دہشت گردی سے پاک اور محفوظ بنانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کا اعلان کیا، صورت حال کے پیش نظر واقعی کسی بھی حد تک جانے کی ضرورت ہے، لیکن اس راہ میں کافی رکاوٹیں ہیں، انہیں پیش نظر رکھنا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ خدا کرے کراچی ہر طرح کی بلاؤں سے محفوظ ہو اور میرے سمیت ملک کے دیگر حصوں کے لوگ بے خوف و خطر وہاں آ جا سکیں۔

مزید :

کالم -