جنرل ہسپتال لاہور ڈسٹونیا کے مریضوں کے علاج معالجہ کا مرکز بن گیا

جنرل ہسپتال لاہور ڈسٹونیا کے مریضوں کے علاج معالجہ کا مرکز بن گیا

لاہور( اپنے نامہ نگار سے) 57سال سے قائم جنرل ہسپتال لاہور ڈسٹونیا کے مریضوں کے علاج معالجہ کا مرکز بن گیا۔ پاکستان میں ڈسٹونیا علاج کے خالق پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر آف نیوروسرجری ڈاکٹر خالد محمود اب تک 19مریضوں کی کامیاب سرجری کرچکے ہیں جس کے بعد ہسپتال سے رجوع کرنے والے اس مرض کے افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایل جی ایچ 29جنوری 1959 کو مغربی پاکستان کے گورنر اختر حسین کے ہاتھوں ایک دارالفلاح سے شفاخانے میں تبدیل ہوا، یہ ہسپتال آج وزیراعلی پنجاب میاں محمدشہباز شریف کی ذاتی دلچسپی کی بدولت پاکستان کا واحد ہسپتال ہے جہاں پر سرکاری سطح پر ڈی بی ایس اور ڈسٹونیا کے مریضوں کا علاج کیاجاتا ہے۔ ہسپتال کے شعبہ نیوروسرجری یونٹ II میں پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود کی زیر نگرانی نیوروسرجری کے ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم مریضوں میں ڈی بی ایس اور ڈسٹونیا کی تشخیص کے بعد انہیں شفایاب کرنے کے لیے آپریشن بھی کرتی ہے۔ پرنسپل خالد محمود نے اس بارے میں بتایا کہ اب تک ڈسٹونیا کے 19مریضوں کی سرجری کامیابی سے کی جاچکی ہے جبکہ ڈسٹونیا کے مرض میں مبتلا شہریوں کے لیے باضابطہ طور پر الگ سے انتظام موجود ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس عمل سے پاکستان کا نام دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں پر پٹھوں کے کھچاؤ کے سبب ہاتھ پاؤں ٹیڑھے ہونے اور اکڑ جانے والی بیماری ڈسٹونیا (Dystonia) کا جدید طریقہ علاج موجود ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جنرل ہسپتال میں دماغی امراض اور دیگر بیماریوں کے جدید طریقہ سے تشخیص و علاج کے حوالے سے بھی تحقیقی عمل جاری ہے ۔

مزید : میٹروپولیٹن 4