عزیز بلوچ کا 400سے زائد قتل اور کالعدم تنظیموں کو پناہ دینے کا اعتراف

عزیز بلوچ کا 400سے زائد قتل اور کالعدم تنظیموں کو پناہ دینے کا اعتراف

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک،اے این این ،آن لائن ) رینجرز کے تفتیشی حکام نے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ سے سنگین جرائم سے متعلق تفتیش شروع کردی۔ملزم نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس کے اہم ترین گواہ خالد شہنشاہ اور ارشد پپو،سٹیل ملز کے سابق چیئرمین سجاد حسین شاہ سمیت متعدد افراد 400سے زائد افراد کے قتل اور لیاری میں بی ایل اے سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کے کارندوں کو پیسوں کے عوض پناہ دینے اور علاج معالجے کی سہولیات فراہم کا اعتراف کرلیا ہے ۔گرفتار سرغنہ نے انکشاف کیا کہ اہم سیاسی رہنماؤں کی طرف سے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کو نیٹو کا اسلحہ بھی فراہم کیا گیا۔ ایک سیاسی جماعت کا اہم رہنما سرکاری گاڑیوں میں اسلحہ کی ترسیل کرتا تھا۔ عزیر جان بلوچ نے تفتیش کے دوران یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ سیاسی بنیادوں پر تبادلے او رتقرریاں کراتا رہا ہے اور اس نے بعض کرپٹ رہنماؤں کو بیرون ملک فرار بھی کرایا تھا۔ لیاری کے گینگسٹر نے مزیدانکشاف کیا ہے کہ اسے جیل میں لیاری کا سردار بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی اور بعد میں اسے زمینوں پر قبضے، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کیلئے استعمال کیا گیا۔ عزیر بلوچ کے مطابق اس نے کراچی کے علاقوں گلستان جوہر، کلفٹن اور سرجانی ٹاؤن میں زمینوں پر قبضے کرائے۔ واضح رہے عزیزبلوچ کودوروزقبل گرفتاری کے بعد عدالتی حکم پر 90روزہ ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کیاگیا تھا ۔

سکھر ،ملتان (آن لائن) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ اور وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ کاکہنا ہے کہ عزیر بلوچ کا پاکستان پیپلزپارٹی یا کسی راہنما سے کوئی تعلق نہیں ۔خورشید شاہ نے کہا کہ آج کل سیلفی کا رحجان ہے کوئی بھی کسی کے ساتھ تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوٹ کر دیتا ہے کسی کے ساتھ تصویروں کی بنا پر تعلق کو نہیں جوڑا جا سکتا عزیر بلوچ مطلوب ملزم تھا گرفتار ہو گیا ۔ وزیر اعظم نواز شریف کے دوروں سے واپسی پر خوشی ہے وہ آئیں ایوان میں اور دوروں سے متعلق ایوان کو اعتماد میں لیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سیکیورٹی کے نام پر عوام کو ڈرانا بند کر دے پنجاب حکومت کو دہشت گردوں سے ڈر کر سکول بند نہیں کرنے چاہئیں تھے ۔پنجاب حکومت نے اسکول بند کر کے دہشت گردی کی حوصلہ افزائی کی ہے دہشت گردوں کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے ملک بھر میں سکول کھولنے چاہئے ۔ حکومت جگا ٹیکس لگا کر عوام سے منافع کما رہی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی عوام سے مذاق ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ عزیر بلوچ ایک دہشت گرد ہے اور اس کے ساتھ میرا یا ہمارا پیپلزپارٹی کا کوئی تعلق نہیں،وہ کب گرفتار ہوا مجھے علم نہیں تاہم لوگ کہتے ہیں کہ وہ پہلے سے گرفتار تھا،یہ بات انہوں نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی رہائشگاہ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں امن کیلئے ہم وفاقی حکومت کے ساتھ ہیں اور امن قائم کرنا ہماری اولین ترجیح ہے اور سندھ میں خصوصاً کراچی میں کافی حد تک امن قائم ہوچکا ہے،جس میں ہماری معاونت آرمی چیف کی ہدایت پر رینجرز نے بھرپور کی ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عزیر بلوچ حراست میں ہے،اب وہ کچھ بھی بیان اور کسی کے خلاف بیان دے سکتا ہے،عزیر بلوچ کے ساتھ کوئی واسطہ تھا نہ ہے،ہم نے خود اس کے خلاف کارروائی کا کہا تھا۔انہوں نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ کرپشن صرف سندھ میں نہیں پورے پاکستان اور معاشرے میں ہے اس کے خاتمے کیلئے اینٹی کرپشن اور نیب کے ادارے موجود ہیں جو کام کر رہے ہیں۔انہوں نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ پنجاب حکومت کا سندھ حکومت سے کوئی موازنہ نہیں کرتا،ہر کوئی اپنے اپنے طور پر بہترین فرائض انجام دے رہا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ پنجاب میں آپریشن کے بارے میں پنجاب حکومت کے حکمرانوں سے پوچھیں میں کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔انہوں نے ایک سوال کے جوا ب میں کہا کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جانیں اور عزیر بلوچ جانیں میں کچھ نہیں کہتا،البتہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا عزیر بلوچ سے ملنے باربار جایا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ عزیربلوچ کو کب گرفتار کیا گیا ہمیں نہیں معلوم۔

مزید : صفحہ اول