صوبا ئی وزیر بلدیات نے واٹر بورڈ کے اعلی افسران کا اجلاس طلب کرلیا

صوبا ئی وزیر بلدیات نے واٹر بورڈ کے اعلی افسران کا اجلاس طلب کرلیا

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں ہو نے والے پے در پے سیوریج اوورفلو کے واقعات پر غور کر نے اور منا سب حکمت عملی وضح کر نے کے لئے صوبا ئی وزیر بلدیات سندھ و چےئر مین واٹر بورڈ جام خان شورو اور کمشنر کراچی آصف حیدر کی ہدیات پر واٹر بورڈ کے اعلیٰ سطحی افسران کا اجلاس بلایا گیا جس میں انجینئرز نے بتا یا کہ شہر میں واقع تمام بڑے بر ساتی نالوں کی صفائی محکمہ میو نسپل سروسز ،دیگر برساتی نالوں کی صفائی ضلعی بلدیات سمیت دوسرے اداروں کی ہے لیکن عام تاثر یہی ہے کہ واٹر بورڈ کی ذمہ داری ہے ،لہٰذا یہ وضاحت ضروری ہے تاکہ دیگر اہم ادارے جن کی ذمہ داری ان نالوں کی صفائی کر نا ہے ، وہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں،اجلاس میں ایم ڈی واٹر بورڈ مصباح الدین فرید نے واٹر بورڈ کے تمام ضلعی چیف انجینئرز،سپرنٹنڈنگ انجینئرز اور خاص طور پر ایگزیکٹو انجینئر زکو ہدایت کی کہ شہر میں واقع بڑے اور چھوٹے برساتی نالوں کے زریعے گھریلو سیوریج اور بر سات کے پانی کی نکاسی ہو تی ہے جن کو صاف کر نا واٹر بورڈ کی ذمہ داری نہیں ہے ،شہر میں واقع نہ صرف بڑے بڑے بر ساتی نالے بلکہ چھوٹے نالے جن کی تعدادکا فی ہے صفائی کرنا دوسرے بلدیاتی ادروں کی ہے ،جن میں بلدیہ عظمیٰ، یونین کونسلز،ضلعی بلدیات ،کے پی ٹی،ریلوے،کنٹونمنٹ بورڈ ، سول ایوی ایشن اتھارٹی،پاکستان بلک واٹر ورکس ڈپارٹمنٹ،ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی،پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ اور دوسرے محکمے شامل ہیں،البتہ نکاسی آب کی لائنوں کا چوک ہونا واٹر بورڈ کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے ،لیکن شہر سے کوڑا کرکٹ (کچرا) اٹھانا سولڈ ویسٹ منیجمنٹ کی ذمہ داری ہے ،ان تمام حقائق کے باوجود شہر میں نکاسی آ ب کی ابتر صورتحال کا ذمہ دار واٹر بورڈ کو ٹھہرایا جاتا ہے ،شہر کے تمام گھریلو سیوریج کو بہانا واٹربورڈ کے سسٹم لے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے جسے واٹر بورڈ نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیتا ہے اس معاملہ کو واٹر بورڈ نے اعلیٰ حکام سے ہونے والی میٹنگزاور مختلف فورم میں کئی بار پیش کیا ہے بارش کے پانی کی صفائی سے واٹر بورڈ کا کو ئی تعلق نہیں ہے لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ واٹر بورڈ کا تمام فیلڈ اسٹاف و افسران منتخب عوامی نمائندوں،میونسپل افسران اور ضلعی انتظامیہ سے رابطہ میں رہیں تاکہ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ اور واٹر بورڈ کے درمیان آپس میں قریبی روابط برقرار رہیں اور ان اداروں کے درمیان فرائض کی ذمہ داری کے تعین میں کو ئی کنفیوژن با قی نہ رہے اور ہر ادارہ اپنی ذمہ داری کو محسوس کر تے ہوئے اپنے حصہ کا کام کرے لہٰذا تمام افسران میٹنگز ،کچہری،دربار،کونسلز منتخب نمائندوں ، میو نسپل سروسز کے افسرا ن، ضلعی انتظامیہ اور یوٹیلٹی سروسز سے متعلق تمام اداروں کی جانب سے نکاسی آب سے متعلق ہو نے والے تمام پروگرامز میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں تاکہ واٹر بورڈ اور سولڈ ویسٹ منیجمنٹ سے متعلق اداروں کے درمیان کنفیوژن کو دور کیا جاسکے ،باہمی رابطہ میں رہتے ہوئے انہیں شہر یوں کی جانب سے مو صولہ شکایات کے بارے میں علیحدہ علیحدہ بتا یاجائے کہ کو ن سی شکایات مین ہو لز کے بارے میں ہیں اور کو ن سی شکایات برساتی نالوں کے چو ک ہو نے سے متعلق ہے ،لہٰذا تمام افسران کو مزید ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ ،ڈپٹی کمشنر اور مشینری سے متعلق ان سے رابطہ کو تر جیح دیں اور ان سے رابطہ میں رہیں ،انہوں نے کہا ہے کہ خاص طور پر کچرا کنڈیوں کے نذدیک واقع سیوریج کی لائنیں زیادہ متا ثر ہو تی ہیں کیو نکہ ان میں کچرا جانے کی وجہ سے لائنیں بند ہو جاتی ہیں لہٰذا ایسی جگہو ں کی تصاویر بنا کر متعلقہ اداروں اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو بھیجی جائیں تاکہ وہ ان جگہوں کی صفائی کراسکیں ، نالوں پر قائم تجاوزات ، چوک اور بند ہو نے والے نالوں کی تصاویر بھی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ارسال کی جائیں تاکہ بر ساتی نالوں کی صفائی کرائی جاسکے جبکہ واٹر بورڈ کی جانب سے کام کے دوران روڈ کٹنگ،مر مت کے کام اور ترقیاتی اسکیم کے بارے میں بھی متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو آگاہ کیاجائے تاکہ واٹر بورڈ اور دیگر اداروں کے مابین روابط بر قرار رہیں اور شہر میں جاری فراہمی و نکاسی آب سے متعلق تمام ترقیاتی کام بہتر طور پر اور وقت مقررہ پر انجام دئے جاسکیں، انہوں نے ہدایت کی کہ میں ہو ل کورز بڑی تعداد میں جلداز جلد بنوائے جا ئیں ان کا ہر ٹا ؤن میں اسٹاک موجود ہو نا چا ہئے جبکہ بلا تا خیر ہر ٹا ؤن میں مین ہو ل کورز لگا دئیے جا ئیں اور ان کی تفصیلا ت نہ صرف اپنے اسٹاک رجسٹر میں تحریر کی جا ئیں بلکہ اس کی تحریری رپورٹ ایم ڈی سکریٹریٹ کو بھجوائی جا ئے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر