جرمن خاتون سیاست دان کا تارکین وطن کے حوالے سے وہ بیان کہ سن کر ہر انسان سکتے میں آجائے

جرمن خاتون سیاست دان کا تارکین وطن کے حوالے سے وہ بیان کہ سن کر ہر انسان سکتے ...
جرمن خاتون سیاست دان کا تارکین وطن کے حوالے سے وہ بیان کہ سن کر ہر انسان سکتے میں آجائے

  


برلن (ویب ڈیسک) جرمنی میں دائیں بازو کی ایک پارٹی کی رہنما نے کہا ہے اگر پناہ گزین ملک میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو ’ضرورت پڑنے پر‘ پولیس انہیں گولی مار دے۔ یورپی یونین کی مخالف پارٹی آلٹرنیٹیو فور ڈایچلینڈ (اے ایف ڈی) پارٹی کی سربراہ فروکے پیٹری نے ایک مقامی اخبار سے کہا: ’میں بھی ایسا نہیں چاہتی مگر آخری حربے کے طور پر مسلح افواج ہی ہیں۔‘ ان کے اس بیان کی بائیں بازو کی جماعتوں اور جرمن پولیس یونین نے مذمت کی ہے۔ گذشتہ سال جرمنی میں 11 لاکھ سے زیادہ تارکین وطن آئے تھے۔ ہفتہ کو جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے کہا تھا کہ شام اور عراق سے آنے والے زیادہ تر پناہ گزین ان کے ملک میں جاری جنگ ختم ہونے کے بعد واپس چلے جائیں گے۔ انہوں نے اپنی سی ڈی یو پارٹی کے ایک اجلاس میں کہا کہ گذشتہ ہفتے اپنائے جانے والے سخت اقدام کی وجہ سے تارکین وطن کی آمد میں کمی ہوگی مگر پھر بھی اس کے لئے ایک یورپی حل کی ضرورت ہے۔ پیٹری نے جرمن زبان کے ’مینہیمر مورگن‘ اخبار سے کہا تھا، پولیس کو غیر قانونی طور پر آسٹریا سے آ نے والے تارکین وطن کو جرمنی میں گھسنے سے روکنا چاہیے اور ’ضرورت پڑے‘ تو بندوق کا استعمال کرنا چاہئے۔ ان کا کہنا تھا، ’اور یہی قانون بھی کہتا ہے۔‘ جرمنی میں تارکین وطن کے ٹھکانوں پر حملوں کی تعداد گذشتہ سال 2014 کے مقابلے بڑھ کر پانچ گنا یعنی 1005 تک ہو گئی تھی۔

مزید : انسانی حقوق