ایل این جی سکینڈل، حکومتی وزیر کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

ایل این جی سکینڈل، حکومتی وزیر کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی
ایل این جی سکینڈل، حکومتی وزیر کے لئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

  


اسلام آباد ( آن لائن ) وزارت پٹرولیم میں 48 ارب روپے کی ایل این جی فروخت کا مبینہ نیا اسکینڈل سامنے آیا ہے۔نیب نے ایل این جی کی فروخت کے ریکارڈ کا جائزہ بھی لینا شروع کردیا ہے۔مبینہ طور پر وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی،سیکرٹری پٹرولیم ارشد مرزا،سوئی سدرن گیس کمپنی اور پی ایس او کے سربراہوں سے بھی پوچھ گچھ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ مبینہ طور پر وزارت پٹرولیم نے 48 ارب روپے کی ایل این جی کے 19 شپ درآمد کئے ہیں،ایک ایل این جی شپ کی قیمت 25 ملین امریکی ڈالر ہے،یہ درآمدات مبینہ طور پر حکومت نے اوگرا کی طرف سے ایل این جی ریگولیشن کی خلاف ورزی کرکے کی ہیں۔حکومت نے 48 ارب روپے کی یہ ایل این جی مختلف پاور پروڈیوسر کمپنیوں کو فروخت کی۔اوگرا نے تاحال ایل این جی کی قیمت مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہی نہیں کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اوگرا کی طرف سے نوٹیفکیشن کے اجراءکے بغیر ایل این جی کی درآمد اور فروخت کو غیر قانونی قرار دیا جاسکتا ہے۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ ایل این جی اسکینڈل کی تحقیقات میں اب تک فروخت کی گئی ایل این جی کے بارے میں بھی متعلقہ حکام سے پوچھ گچھ ہوگی اور اس سلسلے میں وزیرپٹرولیم،سیکرٹری پٹرولیم،پی ایس او اور سوئی سدرن کے ایم ڈی کو بھی شامل تفتیش کیا جاسکتا ہے۔

مزید : اسلام آباد