سٹریٹ فائٹر،نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ انتیسویں قسط

سٹریٹ فائٹر،نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ انتیسویں قسط
سٹریٹ فائٹر،نامور کرکٹر وسیم اکرم کی ان کہی داستان حیات۔۔۔ انتیسویں قسط

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تحریر: شاہدنذیرچودھری

قومی کرکٹ ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمین اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کے بیانات نے وسیم اکرم کو ہلاکر رکھ دیا اور اس کی شوگر بڑھ گئی۔وسیم اکرم کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں وسیم اکرم بہت زیادہ ٹینشن میں تھا اس کے گھر والوں کو قتل اور اغوا کی دھمکیاں موصول ہونے لگی تھیں اور اس نے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔لیکن اس کی بیگم ہما اور اہم اعزیزوں دوستوں نے اسے مشورہ دیا کہ وہ بزدلوں کی طرح ملک چھوڑ کر نہ بھاگے بلکہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے عدالت سے تعاون کرے۔وسیم اکرم سیلف میڈ انسان ہے۔اس نے بڑی تگ دو سے ایک ایک تنکا جوڑ کر جو آشیانہ بنایا تھا وہ باد مخالف کے طوفان کے باعث اس کے بکھرنے کا اندیشہ بڑھ گیا تھا کہا جاتا ہے کہ وسیم اکرم پر جب حکومتی تحقیقاتی کمیشن کا دباؤ بڑھنا شروع ہوا تو وہ ہر ایک سے الجھنے لگا تھا۔ اس کا اپنے بھائی ندیم اکرم کے ساتھ بھی جھگڑا ہوگیا تھا اور اپنی بدنامی کا باعث اسے ٹھہراتا تھا۔ندیم اکرم کے بارے میں یہ افواہیں سرگرم تھیں کہ سکول کے زمانے سے سٹے بازی کا مشغلہ رہا ہے لہٰذا وسیم اکرم کو سٹے بازی اور جوئے کی دلدل میں گرانے والا کوئی اور نہیں بلکہ اس کا یہ بھائی تھا۔راقم کی جب وسیم اکرم سے ان امور پر بات ہوئی تو انہوں نے ان تمام الزامات کی نفی کی اور کہا کہ ان کا اپنے بھائی سے آج تک جھگڑا نہیں ہوا۔ندیم اکرم کے بارے میں افواہیں بھی من گھڑت ہیں۔بہرحال وسیم اکرم نے اعتراف کیا کہ1999ء میں قومی احتساب بیورو اور قومی کرکٹ بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کے چیئرمینوں سیف الرحمن اور مجیب الرحمن جوکہ سگے بھائی ہیں ان کی جانب سے بہت دباؤ رہا۔بورڈ کی ایڈہاک کمیٹی کی نظر میں وسیم اکرم بطور کپتان ایک مشکوک کھلاڑی قرار پایا گیا تھا۔ احتساب بیورو نے اس کے علاوہ دیگر سات کھلاڑیوں سلیم ملک، اعجاز احمد،معین خان،انضمام الحق،مشتاق احمد،وقار یونس اور ثقلین مشتاق پر جوئے اور میچ فکسنگ کے الزامات عائد کئے اور ان کے خلاف چارج شیٹ کر دی۔بعدازاں احتساب بیورو میں احتساب سیل کے ڈائریکٹر جنرل خالد عزیزنے اس امر کی توثیق کی کہ ان کھلاڑیوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے رولز کے تحت الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔احتساب بیورو نے میچ فکسنگ اور جوئے کا جائزہ لینے والے ایک رکنی عدالت کمیشن کے چیئرمین جسٹس قیوم سے بھی اس سلسلے میں رپورٹ مکمل کرنے کو کہا۔جنرل خالد عزیز نے ان کھلاڑیوں پر عائد الزامات کی ایک رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ الزامات کا مواد کرکٹ بورڈ پر دب کمیٹی سے حاصل کیا گیا ہے پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر سبطین فضلی سے کہا گیا کہ وہ اس سلسلے میں جسٹس قیوم انکوائری کمیٹی کا اکٹھا کیا گیا متعلقہ مواد بھیجیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جسٹس قیوم نے وفاقی حکومت سے ہدایات لینے کی درخواست کی ہے کہ کیا وہ انکوائری کو ختم کر کے اس کے سامنے پیش کئے گئے مواد کو پیش نظر رکھ کر اپنی رائے دیں یا انگلینڈ میں ورلڈ کپ کے دوران لگائے گئے الزامات بھی اس میں شامل کریں۔احتساب بیورو کی رپورٹ میں کہا گیا کہ معاملہ کو التواء4 میں ڈالنے کی بجائے حکومت سے کہا جائے کہ وہ جسٹس قیوم کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے کی درخواست کرے کہ ورلڈکپ کے معاملہ کی تحقیقات الزامات کا مواد اکٹھا کرنے کے بعد ا لگ سے کی جائے اور پھر فیصلہ کیا جائے کہ اس معاملہ کو پاکستان کرکٹ بورڈ کے کنڈکٹ رولز کے تحت عمل میں لایا جائے یا کریمنل ایکشن کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے جس کے لئے باقاعدہ قانونی رائے لی جائے۔الزامات کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی انکوائری رپورٹ میں جو الزامات عائد کئے گئے ان پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے کنڈکٹ رولز کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔کمیٹی کی انکوائری رپورٹ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے 16مارچ1994ء4 کو کرائس چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ بین الاقوامی میچ میں عطاء4 الرحمن کے ساتھ مل کر میچ فکسنگ کی اور میچ نیوزی لینڈ نے سات وکٹ سے جیت لیا۔وسیم اکرم نے پاکستان واپس آکر عطاء4 الرحمن کو ایک لاکھ روپے ادا کر دیئے۔دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔

مزید : کالم