کتا اور ہرن

کتا اور ہرن

کتا قیامت تک ہرن کے پیچھے بھاگتا رہے تو اسے نہیں پکڑ پائے گا۔کیا واقعی؟لوگ حیران و ششدر ہو کر ایتھنز میں علم کے نام پر مدتوں منطقی مو شگافیوں کا مزہ لیتے رہے۔

بنیادی طور پرافلاطون اس طرز فکر کے بانی مبانی اورارسطو حکیم یونانی تھے۔

افلاطو ن نے تویہاں تک کہا کہ اگر دلیل دینے والا مضبوط ہو تو وہ چمکتے آفتاب کوبھی غائب کرنے کا یارا رکھتا ہے ۔ارسطا طالیسی نظام فکر میں ارسطو نے انہی خطوط پراس فن کو مزید تابدار اور دلائل سے مدلل کیا۔

کہا جاتاہے ارسطوکے پیرو کارایتھنزکے چبوترے پرکھڑے ہو جاتے اورلوگوں کو بتاتے چلے جاتے۔۔۔اگر ایک ہرن 20میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگے اورکتا اس کے پیچھے 19میل فی گھنٹہ کی رفتار سے تو وہ کتا قیامت تک ہرن کو نہیں پکڑ سکتا۔ناقدین و معترضین سوال اٹھاتے کیوں ؟

ارسطا طالیسی فکرکے شاگرد جواب دیتے۔۔۔کیونکہ جب کتا19 میل کا فاصلہ طے کرے گاتو ہرن 21میل کے فاصلے پر ہو گا،جب کتا 21میل پر پہنچے گاتوہرن 21اعشاریہ نو میل دور ہو گا۔یوں ہرن اور کتا بھاگتے رہیں گے،بھاگتے رہیں گے۔۔۔فاصلہ سمٹتے سمٹتے اعشاریہ دو ارب تو ہو جائے گامگر ختم نہیں ہو گا۔

منطقی مبلغ بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے دلیل کا تڑکہ لگاتے کہ اگر ریاضی کا علم درست ہے توکتے و ہرن کے درمیان فاصلہ باقی و برقرار رہنا چاہئے۔اگر یہ فاصلہ ختم ہو جاتا ہے ،کتاہرن کو پکڑ پاتا ہے تو پھرریاضی کا علم غلط ٹھہرا۔رواقی اور منطقی طرز فکر کے بعدمیڈیائی طرز فکر پر بھی آج اس کے اثرات صا ف دیکھے جا سکتے ہیں۔

کچھ میڈیا ئی میزبان اور کالم نویس ستم پرور ٹھہرے تو ڈاکٹر شاہد مسعودایسے ستم روزگار ستم ایجاد کہلانے سے کم پر راضی نہیں۔چشم عالم نے دیکھا کہ بعضوں نے تو سیاست و فراست اور عزت و حرمت طاقت کے توشہ خانے میں جمع کراڈلی۔

ہر شب ٹی وی کی سکرینوں پرنخوت کے ساتھ ان کی جھنجھلاہٹ بھی نمایاں ہوتی رہتی ہے۔موصوف کا استدلال و استنباط تو عوام کالاانعام کو نہیں بھایا۔۔۔آئینی و قانونی مو شگافیوں سے اشتغال برتتی مقدس و معزز ہستیوں کو بھلاکیسے مطمئن کرتا!محض مذکورہ موصوف پر ہی کیا موقوف کہ جدھر دیکھوتو ہی تو ہے۔

گماں گزرتاہے بعض اینکروں اور کچھ کالم نویسوں کی دماغی ساخت گھڑی سے مشتق و مشابہہ ٹھہری۔اس گھڑی میں ٹک ٹک کرنے کے تمام پرزے پائے جاتے ہیں ،بس ریگو لیٹر کی جگہ خالی رہی۔انہوں نے جوش میں آنا اور عامیوں کوطیش دلانا تو سیکھ لیامگر مقدار و محل کاسوال بالکل ان کے لئے غیر ضروری رہا۔

کبھی کبھی مجہول و مہمل باتوں پرکامیابی و کامرانی کا غلغلہ بلند کر دیا کہ مارے خوشی کے جھومنے اور ناچنے لگتے ہیں۔کہیں کہیں لغویات پرہلاکت کا ما تم کرنے لگتے ہیں کہ لگے دونوں ہاتھوں سے منہ اور سینہ پیٹنے۔

سوچا چاہئے کہ ان کی موافقت و مخالفت اور ردو قبول کاآخر معیار کیا ہے۔ٹی وی پر چیختے چلاتے اور کالموں میں مارتے دھاڑتے لوگوں نے اپنی جھوٹی انا کے لئے حقیقت کو مسخ اور حقائق کو مسموم کر نا اپنا فریضہ منصبی جان لیا۔

بی بی سی کے بقول موصوف 35پنکچروں والے قصے کے بھی موجد ہیں۔ان کی زنبیل میں ایسی ایسی کہانیاں پڑی انگڑائی لیتی ہیں کہ دنیا بھر کے مختر و موجد بھی انگلیاں دانتوں میں داب لیں۔

کسے فرصت کہ رک کران کی کہی ہوئی لایعنی باتوں کا تجزیہ کرے کہ حقیقت و معرفت کیا ہے؟ہمارے میڈیا کے بعض چیدہ اورچنیدہ صحا فی حکومتی پہاڑ کوچھوٹا ثابت کرنے کے لئے مرے جاتے رہے۔

وہ پہاڑ کا تقابل و تجزیہ چھوٹی سی چٹان اور کارکردگی کے ہاتھی کاچیونٹی سے کرنے لگتے ہیں۔انہیں حکومتی کارکردگی میں کہیں کمی دکھائی نہ دے تو براہ راست شخصیات پر حملہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔زینب کیس میں ملزم کے بے شمار اکاؤنٹ تو خیرفسانے میں زیب داستاں ہے۔

اصل نشانہ اور ٹھکانہ تو یہ رہا کہ ملزم کے پیچھے ایک مافیا ہے اور مافیا سیاست دان اور وزیر ہیں۔بہتان تراشی ،فسانہ سرائی اور دریدہ دہنی کاکوئی عالم ساعالم ہے کہ تحقیقات کے نام پر خرافات اور رہنمائی کے لبادے میں گمراہی کاکام اور کاروبار کیا کئے۔

گزشتہ حکومت کے دوران یہی موصوف تھے جو بتاتے نہیں تھکتے تھے کہ زرداری صاحب ایوان صدر سے ایمبولینس میں ہی باہر آئیں گے۔کوئی پوچھے تو سہی کہ وہ سچائی کیا ہوئی؟

رات گئے ٹی و ی پر بیٹھ کرشاعرانہ گپ سے مجلس سجانے اورمحفلیں گرمانے والے بے حد منتشر اور پراگندہ دماغ رکھتے ہیں۔بھلاصاف ذہن کے لوگ اس طرح دریدہ دہنی سے یاوہ گوئی کب کرتے ہیں۔

ان کا اپنامخصوص ایجنڈااورمنفرد پروپیگنڈا ہے جس کے بل بوتے پریہ صبح سے شام کیا کئے۔اندازہ کریں عدالت عظمیٰ کے روبرو بھی ان کا غم چھلکا پڑتا تھا۔کہنے والوں نے کہاکہ نوازشریف جلسوں میں سر عام عدلیہ کی توہین کررہے ہیں۔۔۔حضور!اک نظر ادھر بھی۔سچ پوچھئے تو’’ درد اٹھ اٹھ کے بتاتا ہے ٹھکانہ دل کا‘‘۔

مدت مدیدسے پاکستان کاجمہوری کارواں نازک مرحلے سے گزررہا ہے ۔اس کی وجہ یہی کہ اس ضمن میں مذکورہ تبصرہ نگاروں کا حصہ رسدی بھی کچھ کم نہیں۔پون صدی میں بار بارجمہوریت کو سخت سے سخت آفت اٹھانا اور کڑی سے کڑی مصیبت جھیلنا پڑی۔۔۔صدآفرین کہ یہ چٹان اپنی جگہ سے کبھی سرک نہ سکی۔

صحا فتی موشگافیاں اور تجزیاتی گوسفندیاں کرتے ہوئے یہ وہ وہ دلیل لاتے ہیں کہ پناہ بخدا۔آئے روز ہرن کے پیچھے کتا دوڑاتے رہتے ہیں کہ ناٹک رچائیں اور جی بھر کر سوانگ بھریں۔

ان کی دلیل و تاویل اور صداقت و شہادت کو دیکھ کرصالح و سعید نفوس ابا کرتے رہتے ہیں۔گزشتہ اور موجودہ حکومت نے مل کر دستور میں 20ویں ترمیم کی تو اس نے صوابدیدی اختیارات کے چور دروازے بند کر دیئے۔

پیپلز پارٹی او ر مسلم لیگ (ن)دونوں کو پھر یقین کامل رہاکہ اب کوئی کسی کے راج کا راستہ ہموار کر سکتا ہے نہ کسی کو تاراج کر سکتا ہے۔عام انتخابات ہو ئے اور ممکنہ حد تک صاف و شفاف ہی ہوئے ۔

ان باتونی صحا فیوں نے لیکن جمہوری عمل کی پائیداری اور عوامی اعتماد کی پختہ کاری پر اک ضرب کاری لگائی۔دھاندلی ،دھاندلی کا وہ شوراٹھا کہ پھر کپتان بھی سال ہا سال تک اسی اسطورے کے پیچھے بھاگتے رہے۔

آخر کار عدالتی کمیشن نے فیصلہ دیا کہ کوئی منظم دھاندلی نہیں ہوئی۔اب پھرالیکشن ہاتھ کی دوری پر کھڑے ہیں اور کچھ لوگ مخصوص ایجنڈا اور پروپیگنڈا لے کر سیاست دانوں کو بدنام کرنے نکلے ہیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...