لیاری ایکسپریس وے: کراچی کی ترقی کی ضامن

لیاری ایکسپریس وے: کراچی کی ترقی کی ضامن

جدید اور ترقی یافتہ ملکوں کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس میں شاہرات کا نظام انتہائی منظم اور ٹھوس بنیادوں پر وضع کیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک سڑکیں پائیدار اور مضبوط نہیں ہوں گی ،تب تک ملک کی ترقی اور خوشحالی کا خواب نہیں دیکھا جا سکتا۔ سڑکیں، کاروبار، تجارت اور روز مرہ کے کاموں میں ایک پل کا کام دیتی ہیں۔

اگر یہ پل ہی درمیان سے نکال دیا جائے تو تجارت، کاروبار اور روزمرہ کے کام کرنے میں نہ صرف دشواری پیش آئے، بلکہ یہ سب کام نامکمل ہی رہ جائیں۔کراچی میں ہم لیاری ایکسپریس وے کا منصوبہ سنتے آ رہے ہیں ۔ ہر حکومت نے اسے مکمل کرنے کی کوشش کی، لیکن ناکام رہی۔

خوش آئندہ امر یہ ہے کہ لیاری ایکسپریس کا منصوبہ گزشتہ دنوں مکمل کر لیا گیا ہے اور اس کا افتتاح وزیرعظم شاہد خاقان عباسی نے کر دیا ہے۔ لیاری ایکسپریس وے کراچی کی طویل ترین سڑکوں میں شمار کی جاتی ہے ،جس کی تعمیر کا مقصد کراچی میں باہر سے آنے والی ٹریفک کو شہر میں بلارکاوٹ کسی بھی مقام پر کم سے کم وقت میں پہنچنے کو یقینی بنانا ہے۔

یہ سڑک لیاری ندی کے دونوں ں کناروں پر تعمیر کی گئی ہے اور شہر میں کئی مقامات پر اس میں داخل ہونے اور خارج ہوجانے کے راستے بنائے گئے ہیں۔

لیاری ایکسپریس وے منصوبے کا سنگ بنیاد 11مئی 2002 ء کو رکھا گیا، اس منصوبے میں پندرہ ہزار کے لگ بھگ خاندانوں کو متبادل رہائش اور مالی امداد بھی دی گئی۔ لیاری ایکسپریس وے کا ایک ٹریک 16 کلومیٹر کا ہے جو سپر ہائی وے کو ماڑی پور روڈ سے ملاتا ہے۔

لیاری ایکسپریس وے کے افتتاحی منصوبے سے خطاب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی پاکستان کے لئے دل کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے ہماری ساری کامرس آتی ہے ، یہ ہمارا کمرشل سینٹر ہے ، اگر کراچی ترقی نہیں کرے گا تو پاکستان بھی ترقی نہیں کرے گا۔

وزیراعظم نے بجا فرمایا ہے کہ کراچی اس ملک کا کمرشل سنٹر اور معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ جس قدر مضبوط اور توانا ہو گا، ملک بھی اتنا ہی خوشحال اور ترقی یافتہ ہو گا۔ کراچی میں شہری سہولتیں جس قدر جدید ہوں گی، یہاں کے لوگ اپنا کام بھی اتنا ہی بہترین انداز میں کر سکیں گے۔

کراچی ملک کا اقتصادی اور تجارتی حب ہے ،جس کے سیاسی استحکام اور امن و امان کے تسلسل سے ملکی معیشت کی شہ رگ جڑی ہوئی ہے ۔

کراچی ایک عرصے تک دہشت گردی اور جرائم کا شکار بھی رہا۔ ہر حکومت نے کراچی کا نام تو لیا ،لیکن اسے بدلنے یا بہتر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کئے۔

یا یوں کہہ لیں کہ دعوے تو بہت کئے ،لیکن کسی نے کراچی کو اپنا نہیں سمجھا، حالانکہ یہ شہر ملک بھر کے لاکھوں ہم وطنوں کے روٹی و روزگار کا وسیلہ بن چکا ہے ۔ یہاں پورے ملک سے لوگ آ کر اپنا روزگار کماتے ہیں اور ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔یہ شہر بھی بدلے میں انہیں عزت اور روزگار دیتا ہے، اس لئے اس شہر کی جتنی قدر کی جائے کم ہے۔

لیاری ایکسپریس کے میگا پراجیکٹ کے شمالی حصے کے افتتاح سے کراچی کے دن پھرجائیں گے۔اس کی بندر گاہ سے ملحقہ سڑکوں پر رش کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایکسپریس وے سے منسلک علاقوں اور شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹرانسپورٹ اور ٹریفک کے بے ہنگم دباؤ میں نمایاں کمی آئے گی، تجارتی گڈز کی نقل وحمل دوگنا ہوگی اور روزگار کے کئی مواقع پیدا ہوں گے۔

شاہراہوں پر ٹریفک جام سے پیدا شدہ گمبھیر صورت حال بھی نسبتاً بہتر ہوجائے گی اور لوگ ذہنی دباؤ سے بھی نکل آئیں گے۔ ان کی جیب پر بوجھ بھی کم پڑے گا اور وہ کم وقت میں اپنی اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے درست فرمایا کہ یہ منصوبہ مختلف مشکلات کا شکار رہا،اس میں تکنیکی مشکلات بھی تھیں، تجاوزات بھی تھیں، تاہم موجودہ حکومت کی کمٹمنٹ اور جدوجہد کی وجہ سے یہ پایہ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔

مشکلات تو ہر منصوبے میں آتی ہیں ،لیکن ان پر قابو پانا اصل بہادری ہے، جس میں موجودہ حکومت تحسین کی مستحق ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے خوش خبری دی کہ ایم نائن کا موٹر وے بھی مکمل ہونے کے آخری مراحل میں ہے ، ملک کے اندر 1700 کلومیٹرکے چھ لین موٹروے بن رہے ہیں، دیگر منصوبے بھی مقررہ وقت پر اپنے بجٹ کے مطابق مکمل ہوں گے او ریہ اطلاع دل خوش کن ہے کہ وفاقی حکومت نے گورنرسندھ کو کراچی کے لئے 25 ارب روپے کا پیکیج دیا ہے جس پرکام شروع ہونے لگا ہے ۔

ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ کراچی کے ماس ٹرانزٹ سسٹم سے مربوط تمام منصوبوں کی تکمیل کی مانیٹرنگ شفافیت کے ساتھ کی جائے، تاکہ منصوبے جلد مکمل ہوں، ان کی لاگت نہ بڑھے ، کراچی میں تجارتی سرگرمیوں کے بڑھنے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، رواں ٹریفک سے ڈیزل اور پٹرول کی بچت ہوگی، کاروباری حجم میں بے پناہ اضافہ ہوگا، لیاری ایکسپریس وے سے پہلے دو اہم پروجیکٹس سرکلر ریلوے اور بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم بھی تکمیل کے منتظر ہیں۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فرسودہ ٹرانسپورٹ سسٹم کراچی کا بنیادی مسئلہ ہے، جس نے شہریوں کو اعصابی بیماریوں میں مبتلا کر رکھا ہے، جبکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کو ایک باوقار اور شایان شان ٹرانسپورٹ اور ٹریفک سسٹم کی اشد ضرورت ہے ۔

موجودہ حکومت مغربی راہداری اور دیگر سڑکوں کے منصوبے پورے پاکستان میں پھیلانے کے لئے کوشاں ہے جو پاکستان کی حالت تبدیل کر دیں گے ۔شہری تہذیب وتمدن کا آئینہ اس شہر کی ٹرانسپورٹ ہی ہوتی ہے ، ملکی شاہراہوں اور موٹرویز کی تعمیر، ترقی اور روزگار کے امکانات شہری ٹرانسپورٹ کی ناگزیر ضروریات سے منسلک ہوتے ہیں۔ کراچی سمندر، بندرگاہ اور تجارتی روٹس کے حوالے سے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔

لیاری ایکسپریس وے کو محل وقوع کی روشنی میں مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں کے لئے کمرشل ایڈوانٹیج حاصل ہے ، جس کی وجہ سے سفر کا دورانیہ کم ہوگا، ساتھ ہی تجارتی اشیاء کی نقل و حمل میں تیزی سے ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔

صاف دکھائی دے رہا ہے کہ لیاری ایکسپریس منصوبے سے کراچی کی شان ہی بدل جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کے اتنے زیادہ منصوبے مکمل ہونے والے ہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے، لیکن افتتاح کرنے کے لئے منصوبے بہت زیادہ ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان کی اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نے الیکشن سے قبل اور بعد میں جو وعدے کئے تھے، وہ صرف وعدے نہیں تھے، بلکہ انہیں وفا بھی کیا، انہیں حقیقت کی شکل بھی دی، جبکہ مخالفین صرف تنقید کا سہارا لیتے رہے اور آج اسی لئے مخالفین کے تھیلے خالی ہیں اور وہ جلوسوں اور احتجاج کے ذریعے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...