نگران وزیر اعظم کے متعلق خوش گمانیاں

نگران وزیر اعظم کے متعلق خوش گمانیاں

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آئندہ نگران وزیر اعظم کے لئے میرے ذہن میں چند اچھے نام موجود ہیں وقت آنے پر مشاورت کریں گے ایسا نگران سیٹ اپ بنائیں گے کہ کوئی انگلی نہ اٹھاسکے سیاستدانوں کے فیصلے عدالتوں میں نہیں، پولنگ سٹیشنوں پر ہونے چاہئیں احتساب کا بہترین اور جمہوری ذریعہ ووٹ ہے امید کرتا ہوں کہ عام انتخابات شفاف ہوں گے فوج اور عدلیہ، حکومت کا حصہ ہیں ان اداروں سے بیک ڈور نہیں، قوم کے سامنے بات ہوتی رہتی ہے آئندہ وزیر اعظم کے لئے شہباز شریف کا فیصلہ پارٹی پلیٹ فارم پر نہیں ہوا۔ سینٹ انتخابات میں ووٹ کی خریدوفروخت روکیں گے ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکیں گے۔ اُن کا کہنا تھا کہ چودھری نثار علی اور پرویز رشید پارٹی کے اہم رہنما ہیں، بیانات کوئی مسئلہ نہیں، اختلافات گھر میں بھی ہوجاتے ہیں، معاملہ حل کرلیا جائیگا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کئی نظاموں کے تجربات کئے گئے لیکن پارلیمانی نظام کا تجربہ ہی کامیاب رہا، وہ صحافیوں کے ایک وفد سے اسلام آباد میں بات چیت کررہے تھے۔

عام انتخابات نگران حکومت کے زیر نگرانی کرانے کا تجربہ اس لئے کیا گیا تھا کہ انتخابات کی غیر جانبداری اور شفافیت پر انگلی نہ اُٹھے، لیکن اسے بدقسمتی سے ہی تعبیر کیا جائیگا کہ 2013ء کے انتخابات کو بھی متنازعہ بنادیا گیا، اس سے پہلے بھی جتنے عام انتخابات ہوئے، سب میں کسی نہ کسی انداز کی دھاندلی کا تذکرہ کیا جاتا رہا، 70ء کے انتخابات کے بارے میں عمومی تاثر تو یہ ہے کہ یہ آزادانہ ماحول میں صاف اور شفاف ہوئے لیکن یہ اس حد تک فری فار آل تھے کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کے کارکنوں نے صبح سویرے ہی پولنگ سٹیشنوں کو اپنے قبضے میں کرلیا تھا اور مخالف امیدواروں اور اُن کے حامیوں کو ووٹ ڈالنے کے لئے پولنگ سٹیشنوں کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیا گیا تھا، مشرقی پاکستان میں 162 نشستوں پر انتخابات ہورہے تھے، شیخ مجیب الرحمن نے پولنگ شروع ہونے کے دو گھنٹے بعد ہی کہہ دیا تھا کہ عوامی لیگ کے ’’چھوکرا لوگ ‘‘(کارکن) تمام نشستیں جیتنا چاہتے تھے لیکن ہم نے اُن سے کہا کہ ایک نشست بڈّھے (نورالامین) کے لئے چھوڑ دو اور دوسری راجے (راجہ تری دیو رائے) کے لئے، یوں عوامی لیگ نے پولنگ شروع ہوتے ہی اپنی کامیابی کا اعلان کردیا اور بالآخر نتیجہ وہی نکلا مگر حیرت ہے کہ آج تک بڑے بڑے سیاستدان ان انتخابات کو آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف کہتے ہیں۔

جہاں تک 2013ء کے انتخابات کا معاملہ ہے یہ ایک نگران حکومت میں ہورہے تھے لیکن ان پر بھی دھاندلی کا الزام لگایا گیا، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شروع شروع میں ’’چار حلقے کھولنے‘‘ کا مطالبہ کیا، لیکن جب اِن حلقوں کو ’’کھولنے‘‘ کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو انہوں نے جلسے جلوسوں میں یہ مطالبہ اُٹھانا شروع کردیا یہاں تک کہ کچھ عرصے بعد اُن پر القا ہوا کہ چار حلقے تو رہے ایک طرف، اس پورے انتخاب میں منظم دھاندلی ہوئی تھی۔ ایک اینکر نے 35پنکچروں کا شوشہ چھوڑا تو وہ اسے بھی لے اُڑے یہاں تک کہ انہوں نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا اور اس مقصد کے لئے اسلام آباد کے ریڈ زون میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دے دیا حسنِ اتفاق سے یا سوئے اتفاق سے ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی اسی دن دھرنا دیا، دھرنے میں کی جانے والی تقریروں کا لب لباب یہ تھا کہ وزیر اعظم جب تک استعفا نہیں دیں گے، دھرنے نہیں اٹھیں گے یہاں تک کہ شاہراہ دستور پر قبریں بھی کھودی گئیں اور کفن بھی پہنے گئے، البتہ پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور بعد میں عمران خان یہ دھرنا اُٹھاکر چلے گئے البتہ حکومت نے انتخابی دھاندلی کے الزام کی تحقیقات کے لئے ایک جوڈیشل کمیشن بنادیا جس نے یہ نتیجہ نکالا کہ انتخابات میں منظم دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، لطف کی بات یہ ہے کہ 35پنکچروں کا جو معاملہ شب و روز جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں اُٹھایا جاتا تھا، عمران خان جوڈیشل کمیشن کے روبرو اس کا ذکر ہی سرے سے گول کرگئے، اور 35 پنکچروں کے الزام سے یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی کہ یہ الزام تو سیاسی بیان تھا، یہاں برسبیل تذکرہ یہ بتانے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ 35 پنکچروں کا فسانہ بھی اسی اینکر نے تخلیق کیا تھا جس نے بداخلاقی اور قتل کے مقدمے میں ملوث قصور کے عمران کے 37 بینک اکاؤنٹس کا شوشہ چھوڑا ہے اور اب سپریم کورٹ کے حکم پر ایک جے آئی ٹی اس معاملے کی تحقیقات بھی کررہی ہے۔

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ عزم بہت ہی صائب اور مبارک ہے کہ اُن کے ذہن میں نگران وزیر اعظم کے منصب کے لئے ایسے نام موجود ہیں جن پر اُنگلی نہیں اُٹھائی جاسکتی، آئینی تقاضے کے تحت نگران وزیر اعظم کا نام فائنل کرنے کے لئے قائدِ حزب اختلاف سے مشاورت کرنی پڑتی ہے جو ظاہر ہے مناسب وقت پر ہی ہوگی لیکن یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ نگران وزیر اعظم کوئی مضبوط شخصیت ہو جو انتخابات کی موثر اور کڑی نگرانی کرسکے، کوئی بہت ضعیف العمر شخصیت چاہے کتنی بھی دیانت دار اور امانت دار ہو، انتخابات جیسے مشکل مراحل سے کامیابی کے ساتھ نہیں گزرسکتی، 2013ء کے انتخابات سے پہلے اگرچہ وزیر اعظم اور چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے وقت تمام آئینی تقاضے پورے کئے گئے تھے مشاورت بھی ہوئی تھی لیکن دونوں شخصیات عمر کے اس حصے میں تھیں کہ بھاری ذمے داریوں کا بوجھ خوش اسلوبی سے نہیں اٹھا سکتی تھیں جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم ہر لحاظ سے قابلِ احترام شخصیت تھے لیکن انتخابات کے بعد انہیں جس انداز میں سب وشتم کا نشانہ بنایا گیا اور اُن کی نیک نامی کی ساری زندگی کو یکسر فراموش کردیا گیا، اس کے پیشںِ نظر ہماری تجویز یہ ہوگی کہ نگران وزیر اعظم کے لئے کسی متحرک شخصیت کا انتخاب کیا جائے، پھر یہ ایسا انتخاب بھی ہونا چاہئے جو اپنی جانب بڑھنے والے نقد و نظر کے تیروں کا بھی جواب دے سکے، ایسا نہ ہو کہ جس فریق یا فریقوں کو انتخابی شکت نظر آرہی ہو، وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ایک بار پھر نگران حکومت اور الیکشن کمیشن پر ڈال دے۔

جو پارٹیاں انتخاب لڑ رہی ہوتی ہیں ان میں سے حکومت تو ایک پارٹی یا چند پارٹیاں مل کر بناتی ہیں اور انتخابی جیت میں اُن کا براہ راست کردار نہیں ہوتا لیکن برسر اقتدار آکر دھاندلی کا سارا الزام اُن پر آجاتا ہے، جیسے 2013ء کے انتخابات تو نگران حکومت نے کرائے لیکن احتجاجی تحریکوں کا مقابلہ اس حکومت کو کرنا پڑا جو انتخابات کی ذمہ دار نہیں تھی، انتخابات میں اگر دھاندلی ہو تو اس کے خلاف احتجاج ضرور ہونا چاہئے لیکن اگر ایسا نہیں تو بھی ہارنے والوں نے آج تک کسی انتخاب کو کبھی تسلیم نہیں کیا اب کی بار بھی امید نہیں کہ ہارنے والے کسی عالیٰ ظرفی کا مظاہرہ کریں گے، انہیں اپنی ہار میں بہرحال کوئی نہ کوئی سازش نظر آہی جائے گی، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسی نگران حکومت بنائی جائے جو اس حد تک شفاف انتخابات کرائے کہ ہارنے اور جیتنے والے دونوں اسے تسلیم کرلیں اور انتخابات کے بعد معاملات ہموار طریقے سے آگے بڑھیں، جن لوگوں کو انتخابات ہوتے نظر نہیں آتے اُن کے لئے بھی کسی سُرمہ بصیرت کے اہتمام کی ضرورت ہے۔ تاکہ وہ انتخابات کو ہوتے دیکھ سکیں۔

مزید : رائے /اداریہ