ایک سو سال پرانے مقدمے کا فیصلہ


برصغیر کی عدلیہ کی تاریخ میں سب سے پرانے مقدمے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ ایک سو سال قبل برصغیر کے علاقوں راجستھانی اور خیرپور ٹامے والی (نزد بہاول پور) میں رہائش پذیر بہن اور بھائی نے اپنی خاندانی ملکیت 5600 کنال اراضی کی تقسیم کے سلسلے میں عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا۔ قانون وراثت کے تحت اراضی کے حیات ورثاء میں اختلاف اس بات پر تھا کہ کس وارث کے حق میں کتنی زمین آتی ہے۔ 1918ء میں راجستھان میں رہائش پذیر بڑی بہن روشنائی بیگم نے اپنے حق کے حصول کے لئے مقدمہ دائر کیا تھا۔ جس میں خیر پور ٹامے والی میں رہائش پذیر اپنے بھائی شہاب الدین کو فریق بناتے ہوئے عدالتی فیصلے کی درخواست کی تھی۔ جب 1947ء میں برصغیر کی تقسیم ہوءئی تو مقدمہ پاکستانی عدالت میں زیر سماعت رہا۔ اس دوران ورثاء کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ کئی عشروں تک مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہنے کے بعد 2005ء میں سپریم کورٹ میں بطور اپیل پہنچا۔ پورے ایک سو سال بعد سپریم کورٹ نے اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ 5600 کنال جدی پشتی اراضی تمام حیات اور جائز ورثاء میں قانون وراثت کے تحت تقسیم کی جائے گی اور کسی بھی وارث کو اس کے جائز اور قانونی حق سے زیادہ زمین نہیں ملے گی۔ یہ ہماری عدلیہ کی تاریخ کا سب سے پرانا مقدمہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ روایتی انداز میں زیر سماعت رہنے کے بعد ہوا ہے۔ یہ مقدمہ 87 سال تک ماتحت عدلیہ سے مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہنے کے بعد 2005ء میں سپریم کورٹ پہنچا تو اس کا حتمی فیصلہ 13 سال بعد ہوسکا۔ گزشتہ دہائی میں پرانے مقدمات کو ترجیحی طور پر نمٹانے کی پالیسی اختیار کی گئی تو اس کی وجہ سے رواں سال اس مقدمے کو بھی نمٹا دیا گیا۔ اگر مقدمات جلد نمٹانے کی پالیسی مزید ایک دو عشروں تک اختیار نہ کی جاتی تو شاید آج بھی یہ مقدمہ زیر سماعت ہی ہوتا۔
ہماری عدلیہ میں مقدمات کے فیصلوں میں تاخیری حربوں کی روایت موجود ہے۔ فریقین کے وکلاء اپنی سہولت اور مفاد کے پیش نظر مقدمے کو التوأ میں رکھنے کے لئے مختلف طریقے اختیار کرتے ہیں۔ ماتحت عدلیہ سے لے کر اعلیٰ عدلیہ تک یہ روایت قائم ہوگئی کہ مقدمات کی اگلی تاریخ پیشی مہینوں بعد دی جاتی تھی۔ اگلی پیشی پر مقدمات زیادہ ہونے، وکیل کی مصروفیت یا بیماری، اسی طرح فاضل جج کی رخصت کے باعث تاریخ پر تاریخ دی جاتی رہتی تھی اور بعض مقدمات کی سماعت ایک ڈیڑھ سال بعد ہوا کرتی تھی۔ اس صورتحال کے پیش نظر یہ کہا جاتا تھا کہ دادا نے مقدمہ کیا تو پوتے کو عمر کے آخری حصے میں فیصلہ سنایا گیا۔ یہ صورت حال جائیدادوں اور قتل کے مقدمات کی وجہ سے عموماً سامنے آیا کرتی تھی۔ مقام شکر ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی قیادت نے گزشتہ چند برسوں کے دوران ہونے والی تاخیر کا نوٹس لے کر صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے پرانے مقدمات کا فیصلہ جلد کرنے کی پالیسی اختیار کی، جس سے اب فریقین کو جلد انصاف مہیا ہونے لگا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پالیسی کو بہتری اور اصلاح کے ساتھ جاری رکھا جائے اور بے جا طور پر التوائے کار نہ ہونے دیا جائے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں سماعت کے التوا کی اجازت روایتی انداز میں نہیں دی جاتی۔ اس کے مثبت اور خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔ ممکن ہے، کچھ ایسے مقدمات ابھی التوأ میں ہوں، جو 60 سے 70 سال پرانے ہوں، اگر ایسے مقدمات تلاش کرلئے جائیں تو انہیں ترجیحی اور ہنگامی بنیادوں پر نمٹا دیا جائے۔ دیر سے سہی، مگر صورت حال تبدیل ہونے پر انصاف مہیا کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...