ذمہ داری کا المیہ

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کا دعویٰ جھوٹا نکلا تو ان کے خلاف توہین عدالت، تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی ہو گی اور اس میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کی جائیں گی۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے دعویٰ کیا تھا کہ زینب کیس کے ملزم عمران کے37 بنک اکاؤنٹس ہیں اور وہ ایک عالمی گروہ کا رکن ہے۔ عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود اپنے دعوے کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

اس سے قبل سٹیٹ بنک آف پاکستان اور حکومت پنجاب ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کی واضح تردید کر چکی تھی۔سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت کے دوران تمام بڑے میڈیا ہاؤسز اور صحافتی اداروں کے مالکان اور ایڈیٹروں کی تنظیموں کو بھی طلب کیا تھا۔

اہل صحافت میں کسی نے ڈاکٹر شاہد مسعود کی حمایت نہیں کی، تاہم بعض صحافیوں نے کہا کہ معافی کا راستہ بند نہیں ہونا چاہیے اور کسی ایک جھوٹ کی سزا پورے سچ کو نہیں ملنی چاہیے۔

ڈاکٹر شاہد مسعود نے اے آروائی چینل سے شہرت حاصل کی۔ پی ٹی وی کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ آج کل وہ نیوز ون سے وابستہ ہیں اور اس کے ایک پروگرام میں ہی انہوں نے 37بنک اکاؤنٹس کا دعویٰ کیا تھا جو انہیں عدالت لے گیا۔

1940ء کے عشرے میں امریکہ میں ایک صحافتی کمیشن قائم ہوا تھا۔ اس کمیشن کو نہ تو حکومت نے قائم کیا تھا اور نہ ہی اس کی فنڈنگ امریکی سرکار نے کی تھی۔ اس کمیشن نے متعدد اہم سفارشات کی تھیں جن سے دنیا بھر میں اہل صحافت راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

اس کمیشن نے کہا تھا کہ صحافت کو ذمہ دار ہونا چاہیے۔ اگر صحافت ذمہ دار نہیں ہو گی تو وہ اپنی آزادی کھو بیٹھے گی۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے بھی اپنا کام ذمہ داری سے نہیں کیا اور آج ان کی اپنی آزادی خطرے میں نظر آ رہی ہے۔میڈیا کی طاقت اس کا سچ ہوتا ہے۔

اگر میڈیا سچ کے ساتھ نہیں ہو گا تو بالآخر وہ اپنی اہمیت کھو بیٹھے گا۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں نمبر ون بننے کی خواہش نے میڈیا کو کسی بھی ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنے سے بے نیاز کر دیا ہے، مگر ایسی صورت میں حادثات کا ہونا ناگزیر ہے۔


دنیا بھر میں آزادی صحافت کو جمہوریت کے لئے ناگزیر قرار دیا جاتا ہے، مگر یہ آزادی اپنے ساتھ کچھ ذمہ داریاں بھی لے کر آتی ہے۔ امریکہ میں جب نئی نئی آزادی آئی تو ایک شخص اپنی چھڑی گھماتا ہوا سڑک پر جا رہا تھا۔

اس کی چھڑی کی نوک ایک شخص کی ناک پر لگی تو اس نے اس پر احتجاج کیا تو چھڑی بردار شخص نے کہا کہ اب ملک میں آزادی ہے ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

اس پر اس شخص نے برجستہ کہا کہ جہاں دوسرے شخص کی ناک شروع ہوتی ہے وہاں آپ کی آزادی ختم ہو جاتی ہے، تاہم ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اپنی آزادی کا آغاز ہی دوسروں کی ناک کے ساتھ چھیڑچھاڑ کے ساتھ کرتے ہیں حتیٰ کہ دوسروں کا سانس ہی ناک میں بند کر دیتے ہیں۔

امریکہ، برطانیہ اور یورپ میں صحافت کو آزادی حاصل ہے، مگر وہاں جیسے ہی کوئی شخص غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا ہے کوئی نہ کوئی ادارہ سرگرم عمل ہو جاتا ہے۔ ان ممالک میں ہتک عزت کے قوانین بہت سخت ہیں۔

کسی ثبوت کے بغیر الزام لگانا بہت بڑا جرم ہے۔ ہمارے ہاں جو پروگرام دھڑلے سے نشر ہوتے ہیں وہی چینل ان پروگراموں کو یورپ اور امریکہ میں نشر کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔احتیاط نہ کرنے کی بنا پر بہت سے چینلوں کے خلاف تو کارروائی بھی ہو چکی ہے، جبکہ ہمارے ہاں ان پروگراموں کو ایک کارنامے کے طور پر دکھایا گیا تھا۔

غیر ذمہ داری پر مغربی اخبارات اور میڈیا ہاؤسز کو بھاری جرمانے بھی ادا کرنا پڑے ہیں، تاہم عمومی طور پر مغرب میں اہل صحافت کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی اہل صحافت کے پاس ہوتا ہے۔

نہ صرف پریس کونسل کام کرتی ہیں، بلکہ اخبارات کے اپنے پریس محتسب ہوتے ہیں اور کسی بھی غیر ذمہ داری پر اس کا مناسب نوٹس لیا جاتا ہے۔ افواہ کو خبر کا درجہ دینا خاصا خطرناک کام ہوتا ہے اور اس سے پرہیز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

زینب کیس میں بھی سچ کئی انداز سے قتل ہوا۔ڈاکٹر شاہد مسعود تو ایک ایسی غلطی کر بیٹھے جس پر عدالت عظمیٰ نے گرفت کر لی۔ بہت سے پروگراموں میں اینکر پرسن مجرموں کی نشاندہی بھی کرتے رہے اور ان کے لئے سزائیں بھی تجویز کرتے رہے۔


سابق ڈی پی او قصور ذوالفقار احمد ایک تجربہ کار اور درددل رکھنے والے پولیس افسر ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج میں ہمارے کلاس فیلو تھے۔ ان کے والد محترم ہیڈماسٹر تھے جن کے بے شمار شاگرد زندگی کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کے بااصول اور دیانتدار ہونے کا سبھی اعتراف کرتے ہیں۔ ضلع قصور میں بچیوں سے زیادتی کے متعدد واقعات ہوئے تھے۔ قصور پولیس اپنے روایتی انداز سے ان کیسوں کو ہینڈل کرتی رہی ہے۔

مجرم پکڑے جاتے تھے، ان میں سے کچھ پولیس مقابلے میں مارے بھی گئے، مگر ڈی این اے کی رپورٹوں نے انکشاف کیا کہ یہ تمام وارداتیں ایک ہی شخص نے کی تھیں۔

زینب کے کیس کے بعد اس معاملے کو پولیس کے روایتی انداز سے ہینڈل نہیں کیا گیا۔مقدمہ درج کیا گیا۔پہلے مرحلے پر بچی کی تلاش شروع ہوئی اور بچی کوڑے کے ڈھیر میں ملی۔

ذوالفقار صاحب خود وہاں گئے۔ انہوں نے اس پولیس اہلکار کو شاباش دی اور اس کے لئے دس ہزار روپے کا بطور انعام اعلان کیا، مگر میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا میں یہ خبر کچھ ایسے انداز سے گردش کرتی رہی جیسے ڈی پی او نے بچی کے لواحقین سے دس ہزار مانگا تھا۔

متعدد چینلوں پر بچی کے والد نے کھل کر اس کی تردید کی۔ انہوں نے ذوالفقار صاحب کے تعاون اور کاوشوں کو سراہا، مگر سوشل میڈیا ان کے خلاف پراپیگنڈے کے طوفان اٹھاتا رہا۔

ذوالفقار صاحب بتا رہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے دن رات محنت کی۔ وہ رات کے دو بجے تک دفتر میں کام کرتے تھے۔ بارہ سو سے زائد افراد کی تفتیش کی گئی۔ متعلقہ علاقے کے تمام پرائیویٹ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی۔

اس کا معائنہ کیا اور بالاخر وہ فوٹیج مل گئی جس میں مجرم بچی کے ساتھ نظر آ رہا تھا۔ بعد ازاں اس فوٹیج نے قاتل تک پہنچنے میں خاصی راہنمائی کی۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں جیوفینسنگ کرائی گئی۔

مشکوک افراد کی نشاندہی کی گئی۔ُ ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے۔ تفتیش تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی کہ قصور ہنگاموں کی زد میں آ گیا اور ذوالفقار صاحب کو او ایس ڈی بنا دیا گیا۔ بعد ازاں قصور میں ہونے والے تفتیشی مراحل کی نگرانی اعلیٰ ترین سطح سے کی گئی جس کے نتیجے میں قاتل گرفتار ہو گیا۔ ایک مرحلے پر عدالت عظمیٰ نے بھی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ اپنے طریقہ کار کے مطابق کام کرے۔

زینب کا قاتل گرفتار ہو چکا ہے اور اسے کیفر کردار تک بھی پہنچا دیا جائے گا، مگر اس واقعہ نے کچھ بڑے سوال بھی پیدا کئے ہیں۔ زینب کے قتل کے سانحے کے بعد کئی روز تک تفتیش ہوتی رہی۔

قاتل نے بچنے کے لئے متعدد ڈرامے بھی کئے، مگر سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ قاتل بچی کو شہر کے مختلف علاقوں میں گھماتا رہا، مگر کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے قاتل کے ساتھ بچی کو دیکھا تھا۔

کیا لوگ اپنے اردگرد کے ماحول سے اتنے زیادہ لاپروا ہو چکے ہیں یا لوگ پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔قصور کے سانحے میں جہاں میڈیا کی غیرذمہ داری کے مظاہرے دیکھنے میں آئے وہاں عوام کا متعلقہ اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار بھی نظر آیا۔زینب کے سانحے میں عوام، پولیس، میڈیا اور دیگر اداروں کے مجموعی کردار پر نظر ڈالی جائے تو بہت کچھ کرنے کی ضرورت کے ناگزیر ہونے کا احساس ہوتا ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...