سوشل میڈیا، درندگی اور معاشرے کا فرض!

سوشل میڈیا، درندگی اور معاشرے کا فرض!
سوشل میڈیا، درندگی اور معاشرے کا فرض!

  

سوشل میڈیا کے بارے میں عرصہ سے شکوک کا اظہار کیا جارہا تھا اور پھر اس کے استعمال پر بھی بات ہورہی تھی، ابتدا تو شاید بہتر طریقے سے ہوئی اور فیس بک، ٹویٹر سے خیر سگالی کی باتیں ہوتی رہیں، لیکن بتدریج یہ کھیل بن گیا، اس میں برائی ہی نہیں برائیاں درآئیں، فراڈ اور دھوکے شروع ہوگئے اور پھر انسانی دماغ شیطانی بن گیا، جعلی اکاؤنٹ اور بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوکر پورنو گرافی کا دور آگیا جواب عروج پر ہے۔

ہمیں خود کئی اکاؤنٹ بلاک کرنا پڑے اور اب بھی قریباً ایک ہزار سے زائد ’’ریکوئسٹ‘‘ انتظار میں پڑی ہیں، اب ہم نے بھی یہی طریقہ اختیار کرلیا کہ اگر تو پروفائل واضح ہے اور ہم ان کو جانتے ہیں تو تسلیم ورنہ ڈیلیٹ کردیتے ہیں، ممکن ہے کہ بعض احباب ناراض بھی ہوگئے ہوں لیکن ہماری مجبوری ہے۔

اس کا ایک تجربہ ہم قارئین سے بھی ’’شیئر‘‘ کرتے ہیں، نیویارک سے ایک ریکوئسٹ ملی، پروفائل اور تصاویر بہت اعلیٰ اور مہذب تھیں، موصوف یونیورسٹی کے سینئر لیکچرر ہیں، ان سے ایک دوبار ویڈیو لنک پر بات بھی ہوئی، اچھی اور معلوماتی گفتگو تھی، لیکن یہ ایک رخ تھا، دوسرا رخ اس وقت سامنے آیا جب ہم دفتر میں کام کررہے تھے کہ ان کی ویڈیو کال آئی، ہم نے مہذب پن کا مظاہرہ کیا، ہاتھ روک کر جب ویڈیو آن کی تودنگ رہ گئے اور بہت بڑے صدمے سے دوچار ہونا پڑا کہ صورت حال شرمناک تھی، فوری طور پر نہ صرف اسے بند کیا بلکہ ان کو بلاک بھی کردیا۔

یہ تو ایک پہلو ہے۔ دوسری صورت حال وہ ہے جو خبروں کی صورت میں ہے ابھی گزشتہ روز ایک ایسی خبر بناکر چلائی گئی جو خود اپنے پہلو سے شرمناک اور نہائت ہی قابل افسوس ہے یہ سیاسی دشمنی میں راؤ انوار کے حوالے سے حدود سے کہیں تجاوز کیا گیا ہے۔

یوں یہ خبر جن کے حوالے سے ہے،ان کی غیرت کو بھی للکارا گیا ہے اور اس سے فساد کا بھی اندیشہ ہے، اسی طرح مذہبی انتہا پسندی بھی اپنے عروج پر ہے اور فرقہ واریت کا زہر پھیلایا جارہا ہے، یہ معاشرے کے لئے بہت خطرناک ہے، اس حوالے سے یہ عرض کریں کہ سائبر کرائمز کا قانون اور ایف، آئی، اے میں باقاعدہ شعبہ بن جانے کے باوجود اس رجحان میں کمی نہیں آئی، بلکہ اضافہ ہوگیا کہ ایف، آئی، اے والے از خود روک تھام نہیں کرتے بلکہ شکائت ملنے پر وہ طریقہ اختیار کرتے ہیں جو ہماری پولیس تفتیش والا ہے، بہر حال اس سلسلے میں کچھ بہتر بھی ہے کہ بعض بلیک میلر گرفتار بھی ہوئے، ان کیسوں میں اب تک صرف ایک کو سزا ہوئی وہ بھی ایک سال قید ہے جس کے خلاف اپیل کردی گئی ہے۔

آج اس موضوع کو چھونے کی ضرورت تو قصور کی معصوم زینب کے ملزم عمران کی وجہ سے پیش آئی کہ ایک بڑے ’’معتبر‘‘ اینکر نے سپریم کورٹ میں جاکر دعویٰ کردیا، اس کا بظاہر ثبوت بھی موجود نہیں، بہر حال جے، آئی،ٹی بن گئی 30یوم میں کالا، سفید سامنے آجائے گا، تاہم اس سلسلے میں یہ گزارش کردیں کہ یہ واحد سلسلہ نہیں یہاں ’’بلاگ سسٹم‘‘ چل رہا ہے۔

’’صحافت‘‘ کے شوقین، انفرمیشن ٹیکنالوجی کے علم کو بری طرح استعمال کرتے ہیں اور بے بنیاد خبریں چلا کر سنسنی پیدا کرتے ہیں، ڈاکٹر شاہد مسعود بھی ایسے ہی ایک بلاگر کا شکار ہوئے اور اب وہ اسے اپناکر ضد پر اتر آئے اور 37اکاؤنٹس سے بڑھ کریہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے بااثر حضرات کی نشان دہی کی جو جرائم کی پشت پناہی کرتے ہیں، اس کا بھی فیصلہ جے، آئی، ٹی کردے گی، بہر حال یہ رجحان بالکل ہی ٹھیک نہیں اور معاشرے کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے۔

ہم مغرب کی تہذیب کے ڈسے ہوئے ہیں، ان گندے انڈوں کو اٹھا کر گلی میں پھینکنے کے لئے کہا گیا تھا لیکن یہاں فکر فردا ہی نہیں، حالانکہ معاشرے کے معتبر اور ثقہ حضرات کو باقاعدہ مہم چلانا چاہئے اور قانون نافذ کرنے والوں کو از خود کارروائی بھی کرنا چاہئے کہ اس سوشل میڈیا میں تخریب کار بھی ہیں اور پیغام رسانی بھی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ والدین کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی کریں، آج ننھے بچوں کو کھیلنے کے لئے موبائل دے دیا جاتا ہے، بچوں کے لئے گیمزبھی آئی، ٹی نظام کے تحت بک رہی ہیں، ان پر بھی نظر رکھنے اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

اب اگر تھوڑا گریبان میں جھانک لیا جائے تو برا نہیں ہوگا، ہم نے اپنے صحافتی کیرئیر میں عرصہ دراز تک کورٹ رپورٹنگ کی ہوئی ہے، ہمارا وہ دور (60سے 70) کی دہائی کا تھا اور بہت ہی مہذب تھا وکلاء سنجیدہ اور قانون کی بات کرنے والے تو منصف بھی بہترین تھے، ان دنوں ہم عدالت عالیہ میں دائر ہونے والی کسی بھی درخواست کی پیشگی خبر نہیں دے سکتے تھے، جب رٹ درخواست سماعت کے لئے منظور ہوتی تو اس کی خبر بنتی تھی، یہ نہیں کہ آج درخواست تیار کئے بغیر صرف دائر کرنے کا ارادہ کرکے پوری درخواست شائع کرا دی جاتی ہے اور اکثر ایسی درخواست ابتدائی سماعت میں خارج ہوجاتی ہے، یوں جو الزام اشاعت پذیر ہوکر عوام تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں ان کا کوئی جواب نہیں دیا جاسکتا، اسی طرح یہاں یہ سلسلہ بھی جاری رہا کہ ایک عدالت کمرہ عدالت والی ہوتی اور دوسری عدالت باہر لگا لی جاتی، حالانکہ اصولاً اور قانوناً رپورٹ صرف وہ حصہ ہونا چاہئے جو زیر سماعت آئے اور جس کی اشاعت سے عدالت منع نہ کرے، یہاں کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا، حد تو یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ سے عدالت عالیہ اور منسلکہ عدالتوں کے فاضل منصف حضرات نے بھی کبھی نہیں روکا، اب فاضل چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے ممانعت تو کی لیکن اس پر مکمل عمل نہیں ہوپارہا۔

اس ساری صورت حال پر نہ صرف عدلیہ، بار ایسوسی ایشن اور سیاسی جماعتوں کو غور کرنا ہوگا بلکہ صحافتی تنظیموں، مالکان، ایڈیٹر حضرات، صحافی حضرات، میڈیا کارکنوں کی انجمنوں کو اجتماعی طور پر توجہ دینا چاہئے، ہماری دانشوروں اور اساتذہ سے درخواست ہے کہ وہ اپنے طور پر بھی اس کے لئے کمر بستہ ہوں۔

افسوسناک امر تو یہ ہے کہ معصوم اور ننھی جانوں کے ضیاع اور ان کی بے حرمتی پر جہاں دکھ کا اظہار کیا گیا وہاں سیاست بھی ہوئی، کیا ہم سب کا فرض نہیں بنتا کہ یہ جو درندگی جاری ہے اس کے اسباب پر بھی غور کریں، نہ صرف جرائم کو روکنے اور مجرموں کو سخت سزا دینے کا عمل ہو بلکہ ان برائیوں کے اسباب بھی جانچ کر دور کئے جائیں، ’’شاید کہ اتر جائے، تیرے دل میں میری بات‘‘۔

مزید : رائے /کالم