آصف زرداری، تخت لاہور اور سرائیکی صوبہ

تونسہ شریف میں آصف علی زرداری نے دو ایسی باتیں کیں جو ان کے مستقبل کی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتی ہیں۔ اگرچہ دونوں باتیں ہی ایسی ہیں جو فی الوقت ایک خواب لگتی ہیں، مگر جس تیقن کے ساتھ آصف علی زرداری نے ان کا اظہار کیا ہے، وہ بھی کوئی نظر انداز کرنے والی بات نہیں۔

انہوں نے ایک دعویٰ تو یہ کیا کہ آئندہ پنجاب پیپلزپارٹی کا ہے، اس بارے میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے اور دوسری بات یہ کہی کہ سرائیکی صوبہ بھی ہم ہی بنائیں گے اور اب یہ بن کر رہے گا۔

آصف علی زرداری کے جوڑ توڑ کا مقابلہ کرنا آسان نہیں وہ سیاست کی رمزیت کو سمجھتے ہیں اور بوقت ضرورت صحیح صحیح نشانے لگاتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آصف علی زرداری سینٹ انتخابات کے لئے متحرک ہیں۔

مسلم لیگی وزراء تو اُن پر ووٹوں کی خریداری کا الزام بھی لگا رہے ہیں لیکن اس میں اس لئے زیادہ سچائی نظر نہیں آتی کہ آصف علی زرداری پیسہ بانٹنے کے معاملے میں کوئی اچھی شہرت نہیں رکھتے، وہ لوگوں کو حکومت میں شیئرنگ کا یقین دلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نا ممکن کو ممکن بنا دیتے ہیں۔

ارتکاز اختیارات کی جو صورت شریف برادران کے ہاں نظر آتی ہے، وہ آصف علی زرداری کے ہاں موجود نہیں۔ یہ درست ہے کہ آصف علی زرداری کی فی الوقت توجہ سینٹ انتخابات پر ہے، لیکن یہ کہنا کہ وہ صرف اسی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، درست نہیں مثلاً تونسہ شریف کا دورہ سینٹ انتخابات سے زیادہ مستقبل کی پیش بندی سے تعلق رکھتا ہے۔

تونسہ شریف ایک ایسی تحصیل ہے جس کی سیاسی حوالے سے بڑی اہمیت ہے سو فیصد خواندگی کے ساتھ ساتھ یہ ایسا سنگم ہے جہاں بلوچستان، خیبرپختونخوا اور سندھ کی سرحدیں آکر ملتی ہیں پھر تونسہ شریف کی روحانی گدی بھی جنوبی پنجاب میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔

اس تحصیل کا دورہ کر کے آصف علی زرداری نے در حقیقت یہ پیغام دیا ہے کہ جنوبی پنجاب پر اب ان کی گہری نظر ہے ان کا وہاں بیٹھ کر یہ کہنا کہ وسطی پنجاب کے مقابلے میں یہاں حد درجہ پسماندگی ہے اور اسے دیکھ کر یہ مطالبہ بالکل جائز لگتا ہے کہ یہاں سرائیکی صوبہ بننا چاہئے، بڑی اہمیت رکھتا ہے۔


تونسہ میں بیٹھ کر یہ کہنا کہ سرائیکی صوبہ وہ بنا کر رہیں گے، ایک بہت بڑا چھکا ہے جو پیپلزپارٹی نے لگایا ہے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ آصف علی زرداری نے نہ صرف سرائیکی میں خطاب کیا بلکہ علیحدہ صوبے کا نام بھی ’’سرائیکی صوبہ‘‘ لیا وگرنہ اس سے پہلے اس حوالے سے تھوڑی احتیاط برتی جاتی تھی کیونکہ جنوبی پنجاب میں سرائیکی زبان کے ساتھ ساتھ دیگر زبانیں بولنے والے بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں اور وہ صوبے کا لسانی تشخص نہیں چاہتے مگر اس بار آصف علی زرداری نے یہ احتیاط بالائے طاق رکھ دی اور سرائیکی صوبہ بنانے کا واضح اعلان کر دیا۔

سب جانتے ہیں کہ فی الوقت جنوبی پنجاب کی یہ دکھتی رگ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ علیحدہ صوبے کا احساس ہر شخص میں پروان چڑھا ہے۔ وسطی اور جنوبی پنجاب میں ترقی کا تفاوت اب شدت کے ساتھ چبھنے لگا ہے۔

چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بڑے بڑے زخم لگا دیتی ہیں مثلاً حال ہی میں سول ججوں کے امتحانات میں جب جنوبی پنجاب سے ایک امیدوار بھی تحریری امتحان میں پاس نہ ہوا اور پاس ہونے والوں کا تعلق اپر پنجاب سے نکلا تو یہاں ہاہا کار مچ گئی ممکن ہے ایسا شعوری طور پر نہ کیا گیا ہو، اس خطے کے امیدوار واقعی امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے ہوں، مگر تاثر چونکہ یہی بن گیا ہے کہ ہر معاملے میں جنوبی پنجاب کو نظر انداز کیا جاتا ہے، اس لئے اس بات کو بھی اسی تناظر میں لیا گیا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ حالات جب اس نہج پر پہنچ چکے ہوں تو لوگ الگ صوبے کے نعرے پر جان نچھاور کرنے کو بھی تیار ہو جائیں گے۔ آصف علی زرداری چونکہ حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں اسی لئے انہوں نے سب سے پہلے سرائیکی صوبہ بنانے کا کھلم کھلا نعرہ لگا دیا ہے۔ اب مسلم لیگ (ن) یا تحریک انصاف اگر یہ نعرہ اپنا بھی لے تو پیپلزپارٹی پر بازی نہیں لے جا سکے گی۔

یہ بات تو ایک حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی ایک چنگاری ہے جسے شعلہ بنتے دیر نہیں لگتی۔ ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت جو گراس روٹ لیول پر اپنی جڑیں اور حمایت رکھتی ہے اگر اپنی بُری کارکردگی اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے نیچے گئی ہے۔

تو مختلف تراکیب کے استعمال سے اوپر بھی آ سکتی ہے پھر یہ بھی ہے کہ مد مقابل حریف بھی کچھ نہیں دے سکے اور الزامات کی زد میں ہیں۔

وقت کے ساتھ ساتھ پنجاب میں بری گورننس کی ایسی مضبوط مثالیں بھی سامنے آ چکی ہیں کہ شہباز شریف لاکھ اپنا دفاع کرنا چاہیں نہیں کر سکتے۔ اور یہ آدھا صوبہ جسے جنوبی پنجاب کہتے ہیں، تو بالکل ہی ان کے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔

پانچ برس ہونے کو آئے ہیں جنوبی پنجاب کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

نوازشریف جب وزیر اعظم تھے صرف ایک دوبار ہی اس علاقے میں آئے شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں اس علاقے میں انہیں ہر ماہ آنا چاہئے کہ یہاں صوبے کی نصف آبادی بستی ہے۔

مگر وہ جتنی بار آئے ہیں اسے انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ بڑا اعلان تو خیر کیا ہونا ہے، موجودہ صوبائی حکومت اپنے کسی چھوٹے اعلان پر بھی عملدرآمد نہیں کر سکی۔ مثلاً گورنر محمد رفیق رجوانہ نے شاید انجانے میں ہی اعلان کیا کہ جنوبی پنجاب میں علیحدہ سیکرٹریٹ بنایا جا رہا ہے۔

جہاں ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور تمام محکموں کے ایڈیشنل سیکرٹریز بیٹھیں گے۔ جنوبی پنجاب کے تمام امور اسی سیکرٹریٹ میں نمٹائے جائیں گے۔ گورنر صوبے کا آئینی سربراہ ہوتا ہے۔

اس کے کہنے کی کچھ تو وقعت ہونی چاہئے مگر یہ بات جب لاہور میں بیٹھی ہوئی بیورو کریسی کو معلوم ہوئی تو اسے اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے اپنے سیکرٹریوں کا ساتھ دینا تھا۔ گورنر صاحب تو ان کے گھر کے آدمی ہیں سو یہ معاملہ لٹک گیا۔ گورنر رفیق رجوانہ نے اس کی وجہ سے کچھ عرصے کے لئے ملتان آنا چھوڑ دیا کیونکہ صحافی ان سے پہلا سوال ہی یہ کرتے تھے کہ الگ سیکرٹریٹ کا کیا بنا۔ سو اپنے دورِ حکومت میں جب مسلم لیگ (ن) جنوبی پنجاب کو الگ سیکرٹریٹ تک نہیں دے سکی تو صوبہ کیسے دے گی؟ اس لئے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے اگر علیحدہ صوبے کا ایشو اُٹھایا تو اس پر لوگ کم ہی یقین کریں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری اس معاملے کو ایک ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔آصف علی زرداری کی پنجاب میں حکومت اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی تھیوری پر غور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ ان دونوں کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں اپر پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت مسلمہ ہے۔

وہاں نقب لگانا مشکل ہے۔ اگر کوئی تھوڑی بہت گنجائش ہے بھی تو اسے تحریک انصاف لے اُڑے گی۔ تاہم جنوبی پنجاب کے تینوں ڈویژن، بشمول سرگودھا ایسی سیاست کا گڑھ ہیں، جو محرومی سے عبارت ہے۔ جس میں لوگوں کو شدت ہے یہ احساس ہے کہ اپر پنجاب کو ترقی دی گئی ہے اور انہیں محروم رکھا گیا ہے۔


ملتان میں بلاول ہاؤس کی تعمیر اور اب جنوبی پنجاب کے دور دراز اور پسماندہ ترین علاقوں کے دورے آصف علی زرداری کی حکمتِ عملی کو ظاہر کرتے ہیں یہاں یہ تاثر عام موجودہے کہ الگ صوبے کے لئے اسٹیج تیار ہو چکا ہے صرف ایک رہنما کی ضرورت ہے جو اس تحریک کو انجام تک پہنچا سکے۔

کچھ عرصہ پہلے تک یہاں کے قوم پرست اور سیاسی حلقوں کی طرف سے یہ تجاویز بھی سامنے آ چکی ہیں کہ مخدوم جاوید ہاشمی، سید یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی کو مل بیٹھ کر الگ صوبے کی تحریک سنبھالنی چاہئے۔

لیکن وہ اپنا قومی تشخص کھونا نہیں چاہتے اس لئے اس طرف نہیں آتے، مگر اب یوں لگتا ہے کہ آصف علی زرداری نے غیر اعلانیہ طور پر اس تحریک کو سنبھالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ تختِ لاہور تک پہنچنا چاہتے ہیں مگر انہیں معلوم ہے کہ اس تک جانے کا ممکنہ راستہ یہی ہے کہ جنوبی پنجاب کو تسخیر کیا جائے لگتا یہی ہے کہ اس محاذ پر وہ بلاول بھٹو زرداری کو اُتاریں گے اور سیاسی بساط کو اپنے حق میں پلٹنے کے لئے پورا زور لگا دیں گے،تاہم یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ آصف علی زرداری یہ سب کچھ تخت لاہور پر جیالے کو بٹھانے کے لئے کر رہے ہیں یا واقعی ان کی خواہش ہے کہ یہاں سرائیکی صوبہ بنے اور کروڑوں عوام پسماندگی اور احساسِ محرومی سے نجات حاصل کر لیں۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...