افغانستان: تاریخ اپنے آپ کو دہرانے والی ہے!

افغانستان: تاریخ اپنے آپ کو دہرانے والی ہے!
افغانستان: تاریخ اپنے آپ کو دہرانے والی ہے!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اگلے روز (30جنوری) وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے اڑھائی ماہ پہلے (نومبر2017ء میں) ان 27مشتبہ دہشت گردوں کو افغانستان کے حوالے کر دیا تھا جن پر شک تھا کہ ان کا تعلق تحریک طالبان افغانستان اور حقانی نیٹ ورک سے ہے۔

یہ بیان اس وقت آیا جب کابل پر گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو حملوں میں 128لوگ مارے گئے۔ ان میں سے بیشتر سویلین اور غیر ملکی تھے۔ تیسرا حملہ ایک افغان فوجی مستقر (Base) پر کیا گیا جس میں 11افغان فوجی ہلاک ہوئے۔

جہاں تک مجھے معلوم ہے یہ پہلی بار ہے کہ پاکستان کی طرف سے حقانی نیٹ ورک کا نام مشتبہ دہشت گردوں کی ذیل میں لیا گیا ہے۔پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اگر شمالی وزیرستان یا فاٹا میں یا کہیں اور کوئی حقانی دہشت گرد تھا بھی تو آپریشن ضربِ عضب میں اسے سرحد کے پار دھکیل دیا گیا تھا۔

اب اگر وہی حقانی نیٹ ورک، کابل یا افغانستان کے کسی دوسرے حصے میں فعال ہو کر حملے کر یا کروا رہا ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر نہیں، افغانستان پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستان ایک طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ حقانی نیٹ ورک نام کا کوئی محفوظ ٹھکانہ پاکستان میں نہیں۔

وہ سب لوگ یہاں سے نکال دیئے گئے میں اور افغانستان کے مشرقی صوبوں میں بیٹھے کابل، قندھار اور ہلمند وغیرہ پر حملے کر رہے ہیں جن کی کوئی ذمہ داری پاکستان پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اب جن مشکوک حقانیوں کو پاکستان نے کابل کے حوالے کیا ہے۔ وہ ایسے لوگ تھے جو افغانستان سے بھاگ کر دوبارہ پاکستان میں آ گئے تھے اور پاکستانی فوجی حکام کے ہاتھوں پکڑے گئے۔

صدر ٹرمپ کی ٹویٹ اور پاکستان کی امداد کی بندش کے بعد بھی امریکیوں کا اصرار تھا کہ پاکستان میں ان دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں جو گاہے بگاہے وہاں سے سرحد پار کرتے ہیں اور افغانستان میں آکر حملے کر دیتے ہیں۔

کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کابل میں ہونے والے حالیہ حملوں کے پیچھے ان حقانیوں کا ہاتھ ہے جو پاکستان نے مشکوک جان کر اب افغان انتظامیہ کے حوالے کئے ہیں یا ان حقانیوں کے وہ بہی خواہ ہیں جو ایک بڑی تعداد میں افغانستان میں موجود ہیں اور ان میں سے بیشتر تحریک طالبان افغانستان سے منسلک ہیں!۔۔۔ افغانستان کو حالیہ حملوں کی صورت میں ان ’’مشکوک افغانیوں‘‘ نے یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ ہم پاکستان میں مبینہ محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھے اتنے خطرناک نہیں تھے جتنے افغانستان میں آکر ہو گئے ہیں۔

مزید پیغام یہ بھی دیا ہے کہ اگرامریکہ اب بھی پاکستان پر الزام لگانے سے باز نہ آیا اور مصر رہا کہ اپنے ہاں سے حقانیوں وغیرہ کے محفوظ ٹھکانے ختم کرو تو یہ حقانی نیٹ ورک اور دوسرے افغان طالبان افغانستان میں مزید تباہی مچا سکتے ہیں اور ان کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔۔۔۔ امریکہ کے یکے بعد دیگرے تین صدور (بش، اوباما اور ٹرمپ) یہ بڑھک مارتے آ رہے ہیں کہ امریکی فوج، افغانستان میں جیت رہی ہے اور ان کے علاوہ درجنوں امریکی جنرل وغیرہ بھی یہی شیخی بگھارتے آئے ہیں کہ امریکہ اب مکمل فتح کے قریب آن پہنچا ہے اور کوئی دن جاتا ہے جب افغان طالبان کی مزاحمت دم توڑ جائے گی۔

لیکن امریکی میڈیا کے بیشتر ادارے اپنے سیاسی رہنماؤں اور فوجی جرنیلوں کے دعووں کو غلط قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ امریکہ کو اب (16سال کی ذلت اور خواری کے بعد) افغانستان سے واپس آ جانا چاہیے اور ایک اور ویت نام کی تہمت اپنے سر نہیں لینی چاہیے۔۔۔ لیکن امریکی انتظامیہ اور اس کا ٹاپ براس مسلسل اس موقف کو نہیں خرید رہا۔۔۔۔میرے خیال میں اس کی درج ذیل تین وجوہات ہیں جن کو سٹرٹیجک پیش منظر میں دیکھا جا سکتا ہے:

1۔ تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ اڑھائی صدیاں (1701ء تا 1945ء)برطانوی عالمی تسلط کی صدیاں تھیں۔

ان صدیوں میں برطانیہ دنیا کی واحد سپرپاور بنا رہا ۔ یہ کریڈٹ مرحوم ہٹلر کو دیا جانا چاہیے کہ اس نے برٹش برتری کی متھ (Myth) توڑی اور 1940ء میں لندن اور دوسرے برطانوی شہروں اور بندرگاہوں پر فضائی حملے کئے۔

برطانیہ کو یقین نہیں تھاکہ دنیا کی کوئی طاقت اس کو اس کی اپنی سرزمین پر آکر شکست دے دے گی۔ اس جنگ کو برطانوی مورخوں نے سرے سے جنگ ہی تسلیم نہیں کیا بلکہ ایک ’’لڑائی‘‘ قرار دے کر اپنی گردن کا انداز ٹیڑھا ہی رکھا۔

لیکن اس کجکلاہی کو آخر تاریخ کے کوڑوں نے سرنگوں کر دیا۔ تاریخ کی مروجہ کتب میں اسے برطانیہ کی لڑائی (Battle of Britain) کہا جاتا ہے لیکن اس لڑائی نے برطانوی اقتدار کی چولیں ہلا دیں اور بالآخر اسے دنیا بھر میں اپنے تمام مقبوضات (Colonies) کو خیر باد کہہ کر ایک نئی سپرپاور (امریکہ) کا دم چھلا بننا پڑا۔۔۔ اس کی یہ حیثیت آج بھی ’’قائم و دائم‘‘ ہے!

اس کے بعد دنیا کی دوسری سپرپاور یعنی امریکہ کی سرزمین پر حملہ ہوا جس کو نوگیارہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نیویارک کے جڑواں ٹاورز پر یہ حملہ فرعون صفت امریکی انتظامیہ کو اتنا گراں گزرا کہ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ یکے بعد دیگرے چار مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ افغانستان کی سرزمین پر بیٹھ کر پلان کیا گیا تھا۔اس لئے افغانستان کو سبق سکھانے کے لئے اس کو روند ڈالا گیا۔

پاکستان کو بھی دھمکی دی گئی اور پوچھا گیا کہ تم کس کے ساتھ ہو؟۔۔۔ مشرف، بش سے زیادہ چالاک نکلے۔ انہوں نے کہا ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ لیکن اندر خانے ہم کس کے ساتھ تھے اس راز کی خبر کسے نہیں؟۔۔۔ پھر امریکہ (اور ناٹو) نے مل کر عراق، لیبیا اور شام تک کو نشانے پر رکھ لیا اور اگرچہ ان ممالک کو خاک و خون میں نہلا دیا لیکن خود بھی نہ بچ سکا۔آج افغانستان میں امریکہ جو کچھ دیکھ رہا ہے ، شام اور عراق میں اس کے خلاف ایران کی وفادار جو حکومتیں قائم ہو چکی ہیں، وہ آنے والے برسوں میں ’’نیوکلیئر ایران‘‘ کے ساتھ مل کر ایک دوسرا شمالی کوریا بن جائیں گی۔۔۔۔انشاء اللہ۔۔۔

مشرق وسطیٰ کے اس کشت و خون میں امریکہ کا بہت کچھ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ لیکن مالی نقصان کی تو اسے کوئی پروا نہیں تھی۔ اسے معلوم تھا کہ وہ کسی ایک (بے وقوف) عرب ملک سے ایسی کئی جنگوں کا خرچہ نکال سکتا ہے اور ماضی گواہ ہے کہ نکالتا رہا ہے۔ لیکن افرنگیوں کے جانی نقصانات ایک ایسا سوال ہے جس پر ہمیں بڑی گہرائی سے سوچنا اور سبق اندوز ہونا چاہیے۔

مشرق وسطیٰ اور افغانستان کی یہ امریکی جنگیں اس لئے امریکہ کو قابلِ قبول تھیں کہ یہ تمام کشت و خون امریکی سرزمین (Mainland) کے باہر ہوا۔ امریکہ تو ویت نام کی جنگ میں 58ہزار فوجیوں کو مروا کر بھی ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔

اور افغانستان، عراق اور شام وغیرہ میں تو ویت نام کے مقابلے میں امریکی (اور افرنگی) جانی نقصانات کی شرح بالکل معمولی ہے۔

پانچ سات ہزار اموات اور 85ہزار زخمی امریکی اور دوسرے یورپین فوجی اگر امریکی سرزمین کومرکر محفوظ رکھتے ہیں تو یہ قربانی کچھ مہنگی نہیں۔ امریکہ اور اس کے دوسرے یورپی دوست کئی عشروں سے اسی ڈاکٹرین کے پیروکار ہیں۔ اگر پاکستان اپنے 75ہزار سویلین اور 6ہزار وردی پوشوں کی قربانی دے کر پاکستانی سرزمین کو محفوظ رکھتا ہے اور ہم پاکستانی راتوں کو چین کی نیند سوتے ہیں تو یہ سودا کوئی ایسا مہنگا نہیں۔۔۔ میری نظر میں افغانستان، امریکہ سے باہر اس کا ایک ایسا میدانِ جنگ ہے جس کے نتیجے میں اہلِ امریکہ برسوں سے چین کی نیند سو رہے ہیں۔۔۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ امریکہ، افغانستان سے جلد واپس نہیں جائے گا۔

2۔دوسری وجہ جو امریکیوں کو افغانستان میں ٹھہرنے پر مجبور کرتی ہے وہ ان کا یہ خوف ہے کہ افغان قوم ان سے انتقام ضرور لے گی۔ امریکیوں کو روسیوں اور برطانویوں کا انجام یاد ہے۔ ان دونوں اقوام نے سپرپاورز ہوتے ہوئے افغانستان کے ننگ دھڑنگ لیکن غیور عوام کے ہاتھوں اپنا انجام دیکھ لیا تھا۔

اب امریکہ تیسری سپر پاور ہے جو یہ انجام دیکھ رہی ہے یا جلد دیکھنے والی ہے۔ ویت نام میں 8سال اور افغانستان میں 16سال ٹھہر کر اگر امریکیوں کو سمجھ نہیں آئی تو میرے خیال میں ان کا خوف بجا ہے۔ ماہ و سال گزر کر تاریخ کا حصہ بنتے رہتے ہیں لیکن تاریخ بھی اپنے آپ کو دہرانے سے باز نہیں آتی۔

3۔ تیسری وجہ امریکہ کے سر پر عالمی اجارہ داری کا وہ بھوت ہے جو ابھی تک سوار ہے۔ اس نے آخر ایک نہ ایک دن تواترنا ہے۔ کوئی ایک طاقت ہمیشہ دنیا میں سپریم بن کر نہیں رہ سکتی۔ مادرِ گیتی نئی سے نئی اقوام جننے کے لئے ہمیشہ حاملہ رہتی ہے:

ہے نگینِ دہرکی زینت ہمیشہ نامِ نو

مادرِ گیتی رہی آبستنِ اقوامِ نو

امریکی سپیشل فورسز (کمانڈوز وغیرہ) آج افغانستان میں اس بہانے ٹھہرے ہوئے ہیں کہ وہ افغان نیشنل آرمی (ANA) اور افغان نیشنل پولیس (ANP) کو ٹریننگ دے رہے ہیں اور انہیں طالبان کے خلاف مزاحمت کے قابل بنا رہے ہیں۔۔۔ گویا حضرت موسیٰ، فرعون کے اپنے گھر میں پرورش پا رہے ہیں!۔۔۔ میں آج ایک امریکی اخبار میں ایک تصویر دیکھ رہا تھا کہ امریکی پائلٹ، امریکی فائٹر طیاروں میں افغان پائلٹوں کو ٹریننگ دے رہے تھے تاکہ وہ آئندہ کے معرکوں میں افغان طالبان یا حقانیوں کے ساتھ وہی سلوک کر سکیں جو آج امریکی، نہتے افغانوں پر کر رہے ہیں۔۔۔

(دیکھئے روزنامہ دی نیویارک ٹائمز مورخہ 31جنوری 2018ء صفحہ اول۔۔۔)

مجھے یوں لگا جیسے امریکہ ایسا کرکے اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھود رہا ہے۔ کہتے ہیں جب بُرے دن آتے ہیں تو عقل ماری جاتی ہے۔۔۔ برطانیہ نے برصغیر پر تسلط حاصل کرکے جو برٹش انڈین آرمی، ائر فورس اور نیوی تشکیل دی تھی اور اس کی جو عسکری ٹریننگ کی تھی وہ آخر ان کے اپنے پاؤں کی زنجیر بن گئی۔۔۔

1947ء میں اگر برطانیہ یہاں سے کوچ نہ کرتا تو برٹش ٹرینڈ انڈین ملٹری (British Trained Indian Military)اس کو کان سے پکڑ کر باہر نکال دیتی۔ آپ دیکھتے رہیئے یہی کچھ امریکن ٹرینڈ افغان آرمی اور افغان پولیس، امریکیوں سے کرنے والی ہے۔۔۔! تاریخ نے اپنے آپ کو آخر دہرانا تو ہے!

مزید : رائے /کالم