حکومت 97فیصد ٹیکس آن لائن وصول کررہی ہے ، وزیر خزانہ پنجاب

 لاہور( کامرس رپورٹر)حکومت پنجاب صوبے میں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ لیکن جب تک مقامی سرمایہ کار آگے نہیں بڑھیں گے بیرونی انویسٹرز بھی دلچسپی نہیں لیں گے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم مقامی سرمایہ کاروں کے لیے کاروبار میں آسانیاں پیدا کریں۔ اس ضمن میں حکومت پنجاب پوری طرح سے پر عزم ہے ۔ بزنس رجسٹریشن پورٹل اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے جس کے بعد آسانیوں کا یہ سلسلہ بتدریج بڑھتا رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے آج لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اشتراک سے بزنس رجسٹریشن پورٹل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔ اس موقع پر ان کے ساتھ صوبائی وزیر برائے صنعت و تجارت شیخ علاؤالدین ، چےئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ جہانزیب خان، لاہورصدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ملک طاہر جاوید، سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ افتخار علی سہو، سیکرٹری انڈسٹریز مجتبیٰ پراچہ شریک تھے۔ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ ملک میں روزگار کا بیشتر انحصار پرائیویٹ سیکٹر پر ہوتا ہے صنعت کار صنعت کے ذریعے اور تاجر تجارت کے ذریعے عام آدمی کو روزگار مہیا کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب نے 2014ء کی ترقیاتی منصوبہ بندی میں نجی شعبہ کے پھیلاؤ اور سرکاری و نجی شعبہ کی شراکت داری میں اضافے کی حکمت عملی پر کاربند ہو کر توانائی کے بحران اور لاء اینڈ آرڈر کی بہتر صورتحال پر خصوصی توجہ دی تاکہ سرمایہ کار اپنے ملک اور صوبے میں سرمایہ کاری پر آمادہ ہوں اور مقامی پیداوار میں اضافہ ہو۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ کاروبار میں آسانی کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے والے دس اشاریوں میں سے صرف چار کا تعلق صوبائی حکومت سے ہے ۔ بزنس پورٹل کے ذریعے کاروباری حضرات گھر بیٹھے 18دن کے مختصر عرصہ میں اپنا کاروبار اور پراپرٹی رجسٹر کروا سکیں گے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ پنجاب میں ٹیکس کے میدان میں مثبت تبدیلیاں متعارف کروائی جا رہی ہیں ۔ صوبے کے تقریباً 97%ٹیکس آن لائن وصول کیے جا رہے ہیں۔ مستقبل قریب میں تمام ترسرکاری وصولیاں ایک پورٹل کے تحت آن لائن ہی کی جائیں گی۔ وزیر صنعت و تجارت شیخ علاؤ الدین نے کہا کہ اُنھیں خوشی ہے کہ حکومت پنجاب کی صنعتی پالیسی اپنی تیاری کے آخری مراحل میں ہے جس کے بعد مقامی سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری میں مزید سہولت محسوس کرے گا اور مقامی صنعت ترقی کرے گی۔ چےئرمین پنجاب انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی بورڈ عمر سیف نے کہا کہ پچھلے پانج سالوں میں پنجاب کے تقریباً تمام بڑے پروجیکٹ جن میں پولیس، محکمہ صحت، تعلیم ، ای سٹیمپنگ ، ای ٹیکٹنگ، پراپرٹی ٹرانسفر، ریونیو، لینڈ ریکارڈ شامل ہیں ڈیجیٹلائز ہو چکے ہیں اور شفافیت میں نئے معیار قائم کر رہے ہیں۔ ثیرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ جہانزیب خان نے کہا کہ بزنس میں آسانیوں کا دائرہ کار بہت وسیع ہے جو کسی ایک محکمے تک محدود نہیں بلکہ اس میں صنعت سے لیکر لیبر اور لیبر سے کر پنجاب ایمپلائمنٹ سوشل سیکیورٹی (پیسی) نادرا اور لوکل گورنممنٹ تک شامل ہے اس لیے یہ ایک وقت طلب اور محنت طلب ہدف تھا جس کا پہلا زینہ آج ہم طے کر چکے ہیں تاہم اس پر ابھی بہت سا کام باقی ہے جو چیمبر آف کامرس اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی مدد سے جاری رہے گا۔ صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ملک طاہر جاوید نے اپنے خطاب میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی اور سیکیورٹی کے بہتر اقدامات پر حکومت پنجاب کا شکریہ ادا کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ وہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے نا صرف قائل ہیں بلکہ اس حوالے سے اپنی تمام تر خدمات پیش کرنے کے لیے بھی تیار ہیں اُنھوں نے کہا کہ آج تمام متعلقہ سرکاری چیمبر آف کامرس میں موجودگی کاروبار حکومت پنجاب کی کاروبار میں آسانی کے ایجنڈا میں دلچسپی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...