بد نصیب لڑکی کی کہانی ڈرامہ سیریل ، کرم جلی


حسن عباس زیدی
نئی ڈرامہ سیریل کرم جلی 06 فروری سے آن ایئر ہو جائے گی۔یہ ایک ایسی بد نصیب لڑکی کی کہانی ہے۔ جو پہلے باپ کے ظلم برداشت کرتی ہے جو اسے منحوس سمجھتا ہے اور شادی کے بعد اپنے خاوند کے ظلم کا شکار ہوتی ہے۔ اس کہانی کو افتخار احمد عثمانی نے تحریر کیا ہے اور ڈائیریکٹر محمد اشعر اصغر نے ہدایات دی ہیں اس دڑامہ کے ڈی او پی راشد عباس ہیں۔کرم جلی کا خوبصورت ٹاہیٹل سونگ ساحر علی بگا نے کمپوز کیا ہے اور استاد راحت فتح علی خان نے اس میں اپنی خوبصورت آواز کا جادوجگایا ہے ڈرامہ سیریل کی کاسٹ میں ہمایوں اشرف،سہیل سمیر،دانیہ انور،طاہرہ امام،محبوب سلطان، اسماء عباس،صدف عمیر،ثناء بٹ،ارسلان ادریس،تنویر ملک، شہزاد بیگ،محمد اظہر اور ملک سہیل اسلم شامل ہیں۔’’پاکستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر اشعر اصغرنے کہا ہے کہ کہانی کیا کیا موڑ لے گی یہ تو ’’کرم جلی ‘‘دیکھنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔انہوںٍ نے کہا کہ اس ڈرامہ سیریل میں کئی نامور فنکار اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔تمام فنکاروں کی فنکارانہ صلاحیتوں کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے دوران ریکارڈنگ فنکاروں نے کئی جذباتی سین اس خوبصورتی سے کئے کہ حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ اس ڈرامہ سیریل بہت زیادہ اتار چڑھاؤ ہیں۔مرکزی کردار ادا کرنے والی دانیا انورنے کہا کہ میں نے اپنے کیرئیر کے دوران بہت کم ایسے رول ادا کئے ہیں میرارول پاور فل ہونے کے ساتھ ساتھ پرفارمنس سے بھرپور ہے۔میں ہمیشہ سے ان پراجیکٹس میں اداکاری کو ترجیح دیتی ہوں جن میں میرا کردار پاور فل ہو۔ہمایوں اشرف نے کہا کہ لوگ آج بھی اچھا کام دیکھنا چاہتے ہیں وہ دن دور نہیں ہے جب فلمی صنعت ایک بار پھر اپنے قدموں پر کھڑی ہوجائے گی ۔’’کرم جلی ‘‘میں بہترین ٹیم ورک دیکھنے کو ملے گا ۔’’کرم جلی ‘‘میں میرا رول روائتی ڈگر سے ہٹ کر ہے۔ جتنا زوال فلم انڈسٹری پر آیا ہے اس سے کہیں زیادہ عروج ڈرامہ انڈسٹری کو حاصل ہے ۔سہیل سمیرنے کہا کہ مجھے امید ہے کہ فلم انڈسٹری بھی دوبارہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا ہے کہ کامیابی کے لئے محنت اور لگن بہت ضروری ہے اس کے بغیر ترقی اور کامیابی ممکن نہیں ہے ۔تنویر ملکنے کہا کہ میں صرف منتخب ڈراموں میں اداکاری کر رہا ہوں ۔جب تک میرے پرستار مجھے سکرین پر دیکھنا چاہیں گے میں اداکاری کرتا رہوں گا‘ کام کے ساتھ میری محبت جنون کی حد تک ہے‘ اپنے ابتدائی دور سے لیکر اب تک میں نے ہمیشہ جنون کے ساتھ اداکاری کی ہے اور جب میں اداکاری کر رہا ہوتا ہوں تو مجھے اپنے ارد گرد کے ماحول کابالکل احساس نہیں ہوتا مگر آج نئے اداکارہ اس طرح کام نہیں کرتے جس طرح میں نے اور میرے ساتھی فنکاروں نے کیا ہے۔ ’’کرم جلی ‘‘میرے کیرئیر کا یادگار ڈرامہ ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ میرے چاہنے والے میرے کیرئیر کے آغازسے لے کر آج تک میری پرفارمنس کو پسند کرتے چلے آ رہے ہیں اور میری کوشش بھی یہی رہی ہے کہ میں بہتر سے بہتر کام کر سکوں ۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر سنجیدہ کردار پسند ہیں ۔دانیا انور نے کہا کہ ہمیں آج کی نوجوان نسل میں والدین اور بزرگوں کی اہمیت اجاگر کرنے والے ڈرامے پیش کرنے چاہئیں ۔میں سمجھتی ہوں کہ ایسے موضوعات پر مزید کام ہونا چاہئے۔ نوجوان نسل کا بہترین کام کرنا ہم سب کے لئے قابل فخر ہے۔ہمارے ٹی وی ڈرامے کل بھی غیر ملکی ڈراموں سے اچھے تھے اور آج اور بھی بہتر ہیں۔بہت دکھ ہوتا ہے جب ہمارے اپنے بہت سے لوگ فخریہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ٹی وی ڈرامے نہیں دیکھتے۔ ہمیں اپنے کانام اجاگر کرنے کیلئے اپنے ملک اور ملک کی چیزوں کو اپنانا چاہیے۔’’اس جیسے پراجیکٹ روز روز نہیں بنتے۔ڈائریکٹر اشعر اصغر سمیت تمام ٹیم نے اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات محنت کی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...