نوجوانوں کی جسمانی تربیت

نوجوانوں کی جسمانی تربیت

ہر قوم کی بنیاد نوجوان بچے ہوتے ہیں۔قوم کے بچے جسمانی لحاظ سے تندرست اور صحت یاب ہوں تو آئندہ کا معاشرہ بھی مضبوط ہوگا۔ موجودہ دور کی ناقص غذا اور بے ترتیب کھانے پینے سے نوجوان بچوں کے جسمانی نشونما کافی متاثر ہو رہی ہے۔ اگر اس کی روک تھام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کوئ ٹھوس اقدام نہ لیا گیاتو اس قوم کا آیندہ معاشرہ بیمار معاشرہ ہی ہوگا۔موجودہ آبادی اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ اگر موجودہ روش جاری رہی تو نوجوان بچوں کی جسمانی تربیت کے لیے جو اکا دکا گراونڈ ہیں تو وہ بھی ختم ہو جا ینگے۔ویسے بھی نوجوانوں کے اس مسلے پر آج تک کو ئ حصوصی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔اوپر سے کمپیوٹر ،موبایل اور نیٹ کی مصروفیت نے نوجوان نسل کو تن آسانی کا عادی بنا دیا ہے جو کہ حو صلہ افزا بات نہیں۔اگر یہی طریقہ کار کچھ عرصہ جو ں کا توں رہا تو نوجوان بچوں کی جسمانی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔لہذا قو م کے اس سنگین مسلے پر ٹھوس اقدام لینے کی اشد ضرورت ہے۔اصل مسلہ یہ ہے۔کہ نوجوان بچوں کو کھیل کو د کے مواقع کیسے مہیا کیے جائیں۔ اس کے لیے منظم طریقے سے سرکاری اور نجی طور پر فیزیکل ایڈمینز بنا نے کی ا شد ضرورت ہے۔ اگرچہ ایسے کچھ انتظا مات ملک میں فی الحال جو موجود ہیں۔ مگر وہ فعال نہیں بلکہ عارضی بنیا دوں پر ہیں۔جو کہ اس مسلے کا حل نہیں۔موجودہ دور میں نوجوان طبقے میں تحفظ جسمانی اور حو صلہ افزائی آئندہ کا مضبوط معاشرہ بنانے میں خاصا مو ثر ثابت ہو سکتی ہے۔ قومیں نوجوان نسل کی ابھرتی صلاحیتوں، مضبوط جسمانی اور ذہنی طاقتوں کی مرہون منت ہوتی ہے۔یہ خواب تصور صرف حکومتی اداروں کے مسلسل رابطوں اور ٹھوس اقدامات سے ہی ممکن ہے۔ التماس ہے کہ نوجوان طبقہ کے اس سنگین مسلہ پر حکومت پاکستان خصوصی اور دیرپا توجہ دے اور ضلعی سطح پر منظم انتظا مات کے جا ئیں جسکی ما نیٹرنگ متعلقہ ادارے کی ذمہ داری ہو ۔

فرحان داد خان

شعبہ صحا فت عبدالوالی خان یو نیورسٹی مردان

مزید : ایڈیشن 2