اوپن یونیورسٹی کی سماجی خدمات

اوپن یونیورسٹی کی سماجی خدمات

یکم فروری سے شروع ہونے والے سمسٹر بہار 2018ء کے داخلوں میں پاکستان بھر سے معذور افراد ، جیلوں میں مقید افراد ، ڈراپ آؤٹ گرلز اور خواجہ سراء مفت تعلیم حاصل کرسکتے ہیں

فاٹا اور بلوچستان کے عوام کیلئے میٹرک کی تعلیم بالکل مفت

مستحق اور ضرورت مند طلباء و طالبات کو سکالرشپ اور فیس میں رعائیت فراہم کرنے کے لئے9اسکالرشپس دستیاب ہیں

ملک بھر کے تمام معذور نوجوان جو کسی بھی تعلیمی ادارے سے تعلق رکھتے ہوں یونیورسٹی کی "ای لرننگ ایکسیبلٹی سینٹرز" سے استفادہ کرسکتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رپورٹ...عزیز الرحمن

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقع سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھوبیٹھے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ٗ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی نے پاکستان بھر کے معذور افرادجیلوں میں مقید افراد ڈراپ آؤٹ گرلز اور خواجہ سراؤں کے لئے مفت تعلیمی منصوبے متعارف کئے ہیں۔انہوں نے فاٹا اور بلوچستان کے عوام کے لئے میٹرک کی مفت تعلیم کا اعلان بھی کیا ہے۔سمسٹر بہار 2018ء کے داخلے یکم فروری سے شروع ہورہے ہیں ٗ جن میںیہ محروم طبقات ٗ فاٹا اور بلوچستان کے لوگ اِن تعلیمی سہولتوں سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔ ملک بھر میں موجود غریب ٗ مستحق اور ضرورت مند طلباء و طالبات کو سکالرشپ اور فیس میں رعائیت فراہم کرنے کے لئے9اسکالرشپس دستیاب ہیں ۔ وطن عزیز کی لٹریسی ریٹ میں اضافہ کے لئے اوپن یونیورسٹی کی اِن تعلیمی سہولتوں اور مواقعوں سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے اور جب تک اِن محروم طبقات تک اوپن یونیورسٹی کا یہ پیغام نہیں پہنچے گا کہ اُن کے لئے اوپن یونیورسٹی میں مفت تعلیمی سہولت موجود ہے تو وہ کیسے اِن مواقعوں سے مستفید ہوں گے۔ تحریر کنندہ پاکستان بھر کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے اپیل کرتا ہے کہ اِن محروم طبقات کو تعلیمی نیٹ میں شامل کرنے کے لئے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی مفت تعلیمی منصوبوں کو ملک کے ہر کونے تک پہنچانے میں اپنا اپنا حصہ ڈال کر اِس کار خیر اور صدقہ جاریہ میں شامل ہوجائیں۔ میرے اِس مضمون کو شائع کرنے یا اِس خبر کو نشر کرنے سے اوپن یونیورسٹی کا یہ پیغام پھیلے گا اور یقیناًآپ کی اس کوشش سے کسی معذور جیل کے اندر کسی قیدی ڈراپ آؤٹ کسی خاتون تک یا کسی خواجہ سراء تک اوپن یونیورسٹی کا یہ پیغام پہنچے گا اور نہ صرف وہ اِس سہولت سے فائدہ حاصل کرے گا بلکہ وہ اِس پیغام کو اپنی کمیونٹی تک پہنچائے گا جس پر یقیناًآپ اجر عظیم کے حق دار ہوجائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے پاکستان بھر کی جیلوں میں مقید افراد کے لئے مفت تعلیمی پالیسی تشکیل دی ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ پرامن اور عزت کی زندگی گزارسکیں اور معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔ یونیورسٹی کے شعبہ داخلہ نے ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کو بی اے کی سطح تک مفت تعلیم فراہم کرنے کے لئے داخلہ فارم اور پراسپکٹس تمام جیلوں کو ارسال کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ جیل ایجوکیشن کے فوکل پرسن ٗ ڈاکٹر زاہد مجید کے مطابق یہ فارم تمام قیدیوں میں مفت تقسیم کئے جائیں گے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی قیدیوں کی تعلیم میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں ۔انہوں نے ملک بھر کی جیلوں میں مقید افراد کے لئے یونیورسٹی کے مفت تعلیمی منصوبے کے ذیل میں مزید سہولتوں کا اضافہ کیا ہے اور منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے انہوں نے بذات خود سینٹرل جیل راولپنڈی ، لاہور ،کوئٹہ اور ملتان کا دورہ کیا اور ہر جیل میں موجود قیدیوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں سلسلہ تعلیم شرع کرنے کی جانب راغب کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی کے مطابق منصوبے کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا ہے تاکہ سزا مکمل ہونے کے بعد وہ پرامن اور عزت کی زندگی گزارسکیں اور معاشرے کے لئے مفید شہری بن سکیں۔ منصوبے کے تحت قیدیوں کو داخلہ فارم اور پراسپکٹس جیل کے اندر ہی مفت فراہم کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے تدریسی ورکشاپس ، ٹیوٹوریل میٹنگز اور فائنل امتحانات بھی جیل کی حدود کے اندر ہی منعقدکئے جائیں گے۔ ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان کی مختلف جیلوں میں 1000سے زائد قیدی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ہم زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا چاہتے ہیں ۔ اِِسی طرح ملک بھر کے خواجہ سراؤں کو معاشرے میں باغزت مقام دلانے کے لئے یونیورسٹی نے گزشتہ سمسٹر خزاں 2017ء سے خواجہ سراؤں کے لئے مفت تعلیم کا آغاز کردیا ہے۔یونیورسٹی کی خواہش ہے کہ ملک بھر کے تمام خواجہ سراؤں تک اوپن یونیورسٹی کا یہ پیغام پہنچے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواجہ سرا یونیورسٹی کی تعلیمی سہولتوں سے مستفید ہوجائیں اور سمسٹر بہار 2018ء کے داخلوں میں یونیورسٹی کے طلبہ بن کر اپنا سلسلہ تعلیم جاری رکھ سکیں۔پاکستان کے کسی بھی کونے میں موجود کسی بھی قسم کی معذوری میں مبتلا افراد بھی یونیورسٹی کے میٹرک سے پی ایچ ڈی تک کے کسی بھی پروگرام میں مفت تعلیم حاصل کرسکتے ہیں ۔اب تک ہزاروں کی تعداد میں معذور افراد اس سہولت سے مستفید ہوچکے ہیں۔ میڈیا اس پیغام کو عام کرنے میں میری مدد کریں اور یونیورسٹی کا یہ پیغام پاکستان کے ہر گاؤں ہر گلی تک پہنچائیں تاکہ جیلوں میں مقید افراد ، جسمانی معذوری میں مبتلا افراد اور خواجہ سراؤں کی بڑی تعداد اوپن یونیورسٹی کی اِن تعلیمی منصوبوں سے مستفید ہوسکیں۔یونیورسٹی کے بیورو آف یونیورسٹی ایکسٹنشن اینڈ سپیشل پروگرامز/پراجیکٹس )بی یو ای ایس پی( نے" پلان انٹرنیشنل )پاکستان( "کے اشتراک عمل سے پانچ سالہ" گرل پاور پروگرام "کے تحت تعلیم سے محروم خواتین کو مڈل اور میٹرک سطح تک پڑھانے کے منصوبے کا آغاز بھی کیا ہوا ہے۔فی الحال یہ پروگرام چکوال، وہاڑی اور ننکانہ صاحب میں پیش کیا جارہا ہے۔علاوہ ازیں یونیورسٹی نے ملک بھر میں موجود غریب ٗ مستحق اور ضرورت مند طلباء و طالبات کو سکالرشپ اور فیس میں رعائیت فراہم کرنے کے لئے اپنے سالانہ بجٹ میں 170ملین روپے مختص کردئیے ہیں اس کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو تعلیمی نیٹ میں لانا ہے اور کوشش ہے کہ علم حاصل کرنے کا ایک بھی خواہش مند محض داخلہ فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے سے محروم نہ رہے۔ مالی معاونت اور سکالر شپس کے پیکج میں مالی معاونت اسکیم ،ارن ٹو لرن اسکیم، میرٹ سکالرشپ اسکیم ، آؤٹ ریچ سکالرشپ اسکیم ،فائنل ایئر پراجیکٹ گرانٹ اسکیم ،سکالر شپ فار کمیونٹیز ،سکارشپ فارومین فیس انسٹالمنٹ اسکیم ،ایلومینائی /سپانسرڈ سکالرشپ اسکیمیں شامل ہیں۔ مالی معاونت اسکیم کے تحت یونیورسٹی غریب اور مستحق طلبہ کو ان کے پروگرام کی ٹیوشن فیس میں تین سمسٹرتک یا پورے تعلیمی پروگرام میں پچاس فیصد تک یا اس سے کم رعایت دیتی ہے۔ ارن ٹو لرن اسکیم کے تحت یونیورسٹی کے طلبہ کو یونیورسٹی کے علاقائی دفاتر میں جزوقتی خدمات کا موقع فراہم کیا جاتا ہے اور اس خدمت کے عوض انہیں معقول معاوضہ دیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے اپنے تعلیمی اخراجات کا انتظام کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ سکالرشپ اسکیم کے تحت ہر سطح کے تعلیمی پروگرامز میں داخل طلبہ اورطالبات جو اپنے تعلیمی پروگرام کے نتائج کے مطابق پچھتر (75%)فیصد یا زائد نمبر حاصل کرچکے ہوں وہ اس سکالرشپ کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ فی طالبعلم سکالرشپ کی شرح اور مستفید طلبہ اور طالبات کی تعداد کا تعین ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افئیرز کے پاس دستیاب فنڈز کی مجموعی صورتحال کے پس منظر کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیس انسٹالمنٹ اسکیم کے تحت وہ طلبہ و طالبات جو یکمشت کسی سمسٹر کی فیس ادا نہیں کرسکتے ،ان کی سہولت کے لیے ٗ آسان اقساط میں فیس وصولی کی اسکیم جاری کی گئی ہے۔ فیس کی دوسری قسط پینتالیس (45)دن بعد ادا کی جاسکتی ہے۔ اوپن یونیورسٹی ملک بھر کے ایسے ناخواندہ لوگوں کو جو اپنا نام تک لکھنا پڑھنا نہیں جانتے ہیں کو لکھنا پڑھنا سکھانے کے لئے ملک کے 44شہروں میں "ایڈلٹ لیٹریسی سینٹرز"قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔یونیورسٹی کی سپریم باڈی) ایگزیکٹیو کونسل(نے " پائلٹ پراجیکٹ کے طور پراسلام آباد میں یونیورسٹی کے مین کیمپس میں"تعلیم بالغان سینٹر" قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں یونیورسٹی نے اپنے ان پڑھ ملازمین کو لکھنا پڑھنا سکھانے کا کام شروع کردیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد اجمل اِس سینٹر کے ڈائریکٹر ہیں جبکہ ڈاکٹر افشاہ ہما سینٹر کی فوکل پرسن ہیں۔ڈاکٹر آفتاب احمد مینجمنٹ سیکریٹری کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ سرپرستی اور مجموعی دیکھ بھال کی ذمہ داری ڈین فیکلٹی آف ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود ادا کررہے ہیں ۔فیکلٹی آف ایجوکیشن کے ایم فل اور پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز اساتذہ لیٹریسی سینٹرمیں رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یونیورسٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اِس سینٹر کی فیڈ بیک دیکھ کر ملک کے 44شہروں میں موجود یونیورسٹی کے علاقائی دفاتر میں اِسی طرز کے "ایڈلٹ لٹریسی سینٹرز"قائم کئے جائیں گے۔اِسی سینٹر نے لیول 1پاس کرنے والے گریڈ 1تا 4کے ملازمین کو پرائمری سطح کی تعلیم فراہم کرنے کے لئے ایک پروگرام ڈیزائن کیا ہے جسے لیول 2کا نام دیا گیا ہے۔ لیول 1پاس کرنے والے تمام ملازمین لیول 2میں داخل ہوکر کلاسسز یکم جنوری سے شروع ہوگئے ہیں۔ اوپن یونیورسٹی نے معذور افراد کو ای لرننگ سہولت اور دنیا بھر میں موجود الیکٹرانک لائبریریوں تک رسائی دینے کے لئے اپنی مرکزی لائبریر ی اور 44علاقائی کیمپس/دفاتر میں "ای لرننگ ایکسیبلٹی سینٹر" قائم کئے ہیں۔ان سینٹرز میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایسے جدید ترین سافٹ وئیرز سے آراستہ کمپیوٹر سیٹ رکھے گئے ہیں جو نابینا افراد کے لئے درسی کتابوں کوقوت گویائی عطا کردیتے ہیں اور وہ باقاعدہ بولنے اور مطلوبہ درسی کتاب کوپڑھنے لگتی ہیں۔ ان جدید ایکسسیبلٹی سینٹرز میں فراہم کئے گئے مخصوص کمپیوٹرز، ہیڈ فونز اور مختلف جدید سافٹ وئیرز کے ذریعہ معذور طلبہ و طالبات آسانی سے ایچ ای سی کی ڈیجیٹل لائبریری ٗ الیکٹرانک بکس ،تحقیقی مضامین ،جنرلز اور مقالوں تک باآسانی رسائی حاصل کرسکیں گے۔ ای لرننگ ایکسسیبلٹی سینٹرز "سے ملک بھر کے تمام معذور نوجوان جو کسی بھی تعلیمی ادارے سے تعلق رکھتے ہوں ، استفادہ کرسکتے ہیں ۔

***

مزید : ایڈیشن 2