گجرات میں ہیپاٹائٹس بی ‘ سی اور ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ

گجرات میں ہیپاٹائٹس بی ‘ سی اور ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ

حکومت پنجاب سرکاری ہسپتالوں میں نہ صرف بہترین ادویات سپلائی کر رہی ہے وہاں دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز ‘ فارماسسٹ‘ اورپیرا میڈیکل سٹاف کی کمی پوری کرنے کے لیے بھی وسائل کو بروئے کار لا رہی ہے جس کے نتائج براہ راست معاشرے پر مرتب ہو رہے ہیں پہلے سرکاری ہسپتالوں پر عوام کا اعتماد ختم ہو چکا تھا مریض مجبوری کے تحت پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج کرانے پر اپنی جمع پونجی خرچ کر دیتے تھے سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف شہید جن کا تعلق گجرات کے نواحی قصبہ کنجاہ سے تھا میں جنرل راحیل شریف کی خصوصی دلچسپی سے حکومت پنجاب نے کروڑوں روپے کی لاگت سے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال صرف 8ماہ میں تیار کر کے علاقہ کے لوگوں پر جو احسان عظیم کیا ہے اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا جنرل راحیل شریف کی والدہ 14فروری 2015کو وفات پا گئیں کنجاہ کے لوگ اظہار افسوس کیلئے جنرل راحیل شریف کے پاس گئے اور کنجاہ میں ان کے بھائی میجر شبیر شریف شہید(نشان حیدر) کے نام سے ہسپتال بنانے کی تجویز دی جس کی ایک قلیل مدت میں تکمیل نہ صرف ایک عجوبہ ہے بلکہ اس ہسپتال میں 8سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے علاوہ جدید ترین لیبارٹریز جس میں ہیپاٹائٹس سی اور بی کے علاج اور تشخیص کا مکمل انتظام موجود ہے فعال ہو چکی ہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پورے پنجاب میں میجر شبیر شریف شہید ہسپتال میں ایڈز کنٹرول سنٹر بھی بنایا گیا جو کسی اور ضلع میں موجود نہیں ہے اس وقت 150ایسے بچے جن کی عمر 15برس تک ہے ہسپتال میں رجسٹرڈ ہیں ہیپاٹائٹس سی کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 170ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی تعداد 30کے قریب ہے چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ صحت ضلع گجرات ڈاکٹر عابد غوری نے خصوصی طور پر بتایا کہ مذکورہ ہسپتال میں 16سو مریض آؤٹ ڈور5سو مریض ان ڈور کے علاوہ ماہانہ 250آپریشن کرنے ‘ میٹرنٹی کی سہولیات بھی میسر ہیں ادویات خواہ کتنی ہی مہنگی کیوں نہ ہوں سو فیصد مریضوں کو مفت مہیا کی جا رہی ہیں یہ امرقابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر عابد غوری وزیر اعلی پنجاب سے خدمت ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں اور انہیں سرکاری ہسپتالوں کا معیار بہتر سے بہتر بنانے کے علاوہ مریضوں کی خدمت کا ایک جنون سا ہے ڈاکٹروں کی مکمل حاضری کے علاوہ جزا اور سزا کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر زاہد تنویر اور میجر شبیر شریف ہسپتال کے میڈیکل سپرٹینڈنٹ ڈاکٹر اظہر احسان ان کے ویژن کے مطابق مصروف عمل ہیں یہ امربھی قابل ذکر ہے کہ پورے پنجاب میں سب سے زیادہ ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریضوں کا تعلق ضلع گجرات سے ہے ہیپاٹائٹس ایک خطرناک بیماری ہے جس کے پاکستان میں سوا لاکھ کے قریب مریض ہیں ایک اندازے کے مطابق روزانہ 60 سے 70 مریض اس بیماری سے جاں بحق ہو رہے ہیں یہ بیماری بغیر سکریننگ کے بلڈ لگانے ایک ہی سرنج سے مختلف لوگوں کو انجکشن لگانے، بغیر سٹرلائز کئے دانتوں اور دوسرے آپریشنز میں اوزار کے استعمال، تھڑوں پر بیٹھے ناک کان چھیدنے والے اور دانتوں کا کام کرنے والے عطائیوں، ایک ہی استرے سے شیو بنانے والے حجاموں اور جنسی بے راہروی سے پھیلتی ہے اس کا علاج مہنگا اور طویل ہے اس بیماری کے علاج کیلئے پاکستان میں دوائی تیار نہیں ہوتی، چنانچہ جو انجکشن درآمد کیا جاتا ہے اس کی قیمت 900 روپے ہے اور ایک مریض کو 72 ٹیکے لگوانے پڑتے ہیں علاج مہنگا ہونے سے کئی مریض بغیر علاج کے ہی مر جاتے ہیں یہ ٹیکہ مقامی سطح پر 33 روپے کی لاگت سے تیار ہو سکتا ہے اگر حکومت اس پراجیکٹ کی سرپرستی کرے تو ہیپاٹائٹس کے بہت سے مریضوں کی زندگیاں بچ سکتی پاکستان میں 60 سے 70 مریض روزانہ ہیپاٹائٹس سے مر رہے ہیں ڈینگی کا بہت شور مچایا جا رہا ہے حالانکہ ہیپاٹائٹس سی ڈینگی سے زیادہ خطرناک ہے یہ بیماری غریب طبقے کی ہے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جس میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی شرح بہت زیادہ ہے تشخیص مہنگی اور علاج بھی مہنگا ہے جبکہ دوسرا مہلک ترین مرض ایڈز بھی گجرات کے نواحی قصبہ جلالپو رجٹاں کنجاہ ‘ اور اسکے دیگر علاقوں میں پایا جاتا ہے جلالپو رجٹاں میں کچھ عرصہ قبل دس یوم کے دوران دو بھائیوں سمیت تین ایچ آئی وی متاثرین موت کی آغوش میں چلے گئے گزشتہ برس 100کے قریب نئے مریضوں میں ایچ آئی وی پازٹیو کی رپورٹ آنے پر ڈاکٹر سمیت اہل علاقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ایڈز کی دریافت پر حکومت پنجاب نے پہلے جلالپو رجٹاں ‘ بعد ازاں کنجاہ میں ایڈز کنٹرول سنٹر بنادیا جہاں پر ان مریضوں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے یہ واحد مرض ہے جس کا علاج صرف زندگی بچانے کیلئے ہوتا ہے مگر زندگی بچائی نہیں جا سکتی اس وقت گجرات میں 26بی ایچ یو‘چوبیس گھنٹے 90بی ایچ یو اور 10آر ایچ سی 5ٹی ایچ کیو 6میٹرنٹی کے علاوہ ایک ٹیچنگ ہسپتال عزیز بھٹی شہید فعال ہیں حکومت بی ایچ یو ہسپتالوں کو آر ایچ سی میں اپ گریڈ کرنے کے لیے کوشاں ہے چیف ایگزیکٹو آفیسر محکمہ صحت ڈاکٹر عابد غوری کی نگرانی میں ضلع بھر میں عطائی ڈاکٹروں کیخلاف کریک ڈاؤن بھی جاری ہے جس میں محکمہ صحت اور ضلعی انتظامیہ کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...