ایف بی آر کا گیپکو کو دیا گیا اربوں کا نوٹس غیر قانونی قرار

ایف بی آر کا گیپکو کو دیا گیا اربوں کا نوٹس غیر قانونی قرار

لاہور (نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ایف بی آر کا گیپکو کو 24 ارب سے زائد کے ایڈوانس ٹیکس کا نوٹس غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ، مسٹر جسٹس شاہد جمیل خان نے گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کمپنی کی طرف سے بیرسٹر کاشف رجوانہ نے وفاقی سیکرٹری فنانس، چیئرمین ایف بی آر سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر نے گیپکو کو 11 دسمبر کو 24 ارب 24 کروڑ 62 لاکھ روپے کا ایڈوانس ٹیکس نوٹس بھجوایا ہے اور نوٹس میں 2018ء کیلئے 20 دسمبر تک ایڈوانس ٹیکس ادا کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایف بی آر کے گیپکو پر کم از کم ٹیکس عائد کرنے کیخلاف پہلے ہی کیس زیر سماعت ہے اور ہائیکورٹ ایف بی آر کے گیپگو کو بھجوائے گئے نوٹسز پہلے ہی معطل کر چکی ہے، ایف بی آر نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک اور ٹیکس کا نوٹس بھجوایا ہے لہٰذا ایف بی آر کا ایڈوانس ٹیکس کا نوٹس غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایف بی آر کا گیپکو کو 24 ارب سے زائد کے ایڈوانس ٹیکس کا نوٹس غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ کمشنر ایف بی آر کمپنیوں کے اکاؤنٹس منجمد کرنے سے پہلے بورڈ سے اجازت لیا کریں، عدالت نے چیئرمین ایف بی آر کو گیپکو کے نوٹس ختم کر کے 30 دنوں میں رپورٹ اور وضاحت پیش کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے۔

ایف بی آر

مزید : علاقائی