نواز شریف بھاری پتھر ہے

نواز شریف بھاری پتھر ہے
 نواز شریف بھاری پتھر ہے

  

اپوزیشن نے جنوری کے پورے مہینے میں زور لگا کر دیکھ لیا ، پاکستان کی سیاسی تاریخ کے دوراہے پر پڑا یہ بھاری پتھر اپنی جگہ سے نہ ہلا ، چنانچہ جنوری 2018کے اختتام پر متحدہ اپوزیشن نے اسے چوم کر چھوڑدیا ہے ، اب عدالت عظمیٰ نے ایک مرتبہ پھر اس بھاری پتھر کو اپنے پاس رکھوالیا ہے !

2018کا آغاز نواز شریف کی سیاسی زندگی میں ایک نئی رمق لے کر طلوع ہوا ، جنوری کے مہینے میں ان کے بڑے بڑے جلسے ہوئے ، بلکہ یوں کہئے کہ جنوری میں نواز شریف وہ جن بن گئے جن کو بوتل میں بند کرنا مشکل ہوگیا، دوسری جانب جنوری کے مہینے میں ہی عمران خان کی شادی سے جڑی خبر نے ان کا سیاسی جنازہ نکال دیا، ان سے ضرور کوئی ایسا چلہ کاٹا گیا کہ ایک جن ان کو یوں چمٹا کہ ان کے چودہ طبق روشن ہو گئے، دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کو چمٹنے والا جن اس قدر طاقتور تھا کہ اس کے سامنے طاہرالقادری کے جن کو بوتل میں بند ہوئے بغیر کوئی چارہ نظر نہ آیا، ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے کے مصداق انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادری کا بھی دھڑن تختہ کردیا ہے اور بالآخر انہیں لندن کی سوجھی۔

البتہ آصف زرداری جو کہ ان دنوں ہوائی چیزوں کے دلدادہ ہیں ، ان دونوں کی حالت دیکھ کر دانت نکالتے رہے اور اب تک نکال رہے ہیں۔اب عمران خان کو نواز شریف سے نہیں آصف زرداری سے ڈر لگ رہا ہے ، کبھی وہ زرداری صاحب کو چاروں شانے چت کر چکے تھے اور نواز شریف کو پنجاب سے آؤٹ کرنے کے قریب تھے۔

پانامہ سے جڑی عمران خان کی شہرت خاک میں مل گئی ہے ، آج نون لیگ والے یادکرائیں تو کرائیں ، اپوزیشن کا کوئی فرد نواز شریف کو گاڈ فادر یا سیسیلین مافیا نہیں کہتا، حتیٰ کہ عدالت عظمیٰ بھی نہیں کہہ رہی۔ ایسا لگتا ہے کہ پانسہ پلٹ گیا ہے!

ذرا تصور کیجئے کہ جنوری کے آغاز پر کیا سیاسی صورت حال تھی ، ایسا لگتا تھا کہ پنجاب حکومت ڈاکٹر طاہرالقادری، عمران خان اور آصف زرداری کے عوامی شو کے سامنے خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی ، تحریک ختم نبوت کے نام پر سرگرم دینی و خانقاہی قوتیں علیحدہ سے اس حکومت کا سر پھوڑیں گی ، سندھ سے ایم کیو ایم اور پی ایس پی بھی سینہ چاکان چمن سے آن ملیں گے اور یوں وہ حشر برپا ہوگا کہ وفاقی تو کیا پنجابی حکومت بھی پناہ مانگتی پھرے گی ، ہر کوئی بے یقینی کا شکار تھا ، نواز مخالف حلقے شرطیں لگاتے نظر آتے تھے کہ ڈاکٹر قادری جنوری کے پہلے ہفتے نکلے گا یا دوسرے ہفتے اور یہ کہ جب نکلے گا تو پنجاب حکومت کتنے دن تک قائم رہ سکے گی ، یوں کہئے کہ نون لیگی حلقوں کے پیروں تلے زمین غائب تھی ، مگر جنوری گزرگیا ، دل دا جانی نہ آیا!

کیا پاکستان کے عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے ؟....کیا وہ نون لیگ کی ترقیاتی کاموں کے گرویدہ ہو گئی ہے ، کیا انہیں نواز شریف کے سوال ’مجھے کیوں نکالا؟‘ کا جواب مل گیا ہے ، کیا وہ بھی نوا ز شریف کی طرح نااہلی کے فیصلے کی واپسی چاہتے ہیں ؟....اس میں شک نہیں کہ اگر غیر جمہوری قوتیں سرگرم نہ ہوں تو عوام نے متحدہ اپوزیشن اور ختم نبوت کے نام پر ختم حکومت کی موومنٹ کو مسترد کردیا ہے ، دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی وی چینلوں پر جاری نان سٹاپ پراپیگنڈہ بھی ناکام ہو گیا ہے ، وہ جو کہتے تھے کہ جے آئی ٹی میں پیش ہونے کی بجائے نواز شریف کو مستعفی ہوجانا چاہئے تھا انہیں اپنی منظق پر دوبارہ غور کرنا چاہئے کیونکہ تدبیرکند بندہ ، تقدیرزند خندہ کے مصداق زمینی خداؤں کے منصوبے کتنے ہی پختہ کیوں نہ ہو، آسمانی خدا اپنی بے آواز لاٹھی سے ان کو توڑ پھینکنے کی قدرت رکھتا ہے ،کون نہیں جانتا کہ مولانا خادم حسین رضوی نے وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ تو لے لیا لیکن فیض آباد چوک میں اس سیاسی غنچے کو خود ہی مسل ڈالا جو ابھی کھلنے والا تھا!

نواز شریف کے ضمن میں صرف ایک جنوری کے مہینے میں متحدہ اپوزیشن کو ڈی ایکٹیویٹ اور عدالت عظمیٰ کو ری ایکٹیویٹ ہوتے دیکھا ہے ، سوال یہ ہے کہ اگر عدالت عظمیٰ بھی ان کے معاملات پر ڈی ایکٹیویٹ ہو گئی تو کیا ہوگا؟.....ہم نے دیکھا ہے کہ چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو اپنے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانے کی اجازت نہیں دی ہے اور ایک قدم آگے بڑھ کر ڈاکٹر شاہد کے ہاتھ سے الزامات کی بندوق لے کر انہی پر تان لی ہے !

28جنوری کو چیف جسٹس کے سامنے ڈاکٹر شاہد مسعود کے الزامات پر ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران انسانی حقوق کے چمپئین اور معروف صحافی آئی اے رحمٰن پیش ہوئے تو چیف صاحب نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ معزز صحافیوں کو چائے کا کپ پیش کرتے ۔ اس پر محترم رحمٰن صاحب نے خوبصورت جواب دیا کہ ’چائے نہیں انصاف چاہئے!‘

دیکھئے کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک!

حامد ولید/ مفروضے

مزید : رائے /کالم