نقیب اللہ قتل کیخلاف جرگے میں 10 سالہ بے نظیر کی ظالموں کو للکار

نقیب اللہ قتل کیخلاف جرگے میں 10 سالہ بے نظیر کی ظالموں کو للکار

کراچی (ما نیٹر نگ ڈیسک)ظلم مظلوم کو طاقتور اور ظالم کو کمزور کردیتاہے، یہ صرف کہنے کی بات نہیں، اس حقیقت کو نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف کراچی میں جاری جرگہ کے ہزاروں شرکاء نے اس وقت اپنے دلوں میں محسوس کیا جب ایک مشکوک مقابلے میں مارے گئے نوجوان مقصود کی 10 سالہ معصوم بہن نے پوری قوت سے ظالموں کو للکارا۔سہراب گوٹھ میں جاری دھرنے کے آخری دن اسیٹیج پر محسود قبائل کے بزرگوں، سینیٹرز اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان ایک 10 سالہ بچی بے نظیر بھی موجود تھی۔بتایا گیا کہ معصوم بے نظیر اس روز پیدا ہوئی جس دن بے نظیر بھٹو کو قتل کیا گیا، بھٹو کی محبت میں خاندان نے بچی کا نام بے نظیر رکھ دیا۔اْسی بے نظیر نے کراچی کی ایک سڑک پر گذشتہ دنوں بے قصور مارے گئے اپنی پانچ بہنوں کے اکلوتے بھائی مقصود کا نوحہ پڑھا، یہ نوحہ بھی تھا اور ظلم کے خلاف ایک للکار بھی۔معصوم بے نظیر کے اس نوحے نے جرگے کے ہزاروں شرکاء کو اشکبار بھی کیا اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ بھی دیا۔بے نظیر نے اپنے معصومانہ خطاب میں کہا کہ ’’میرے بھائی کو بے گناہ مار ڈالا پولیس والوں نے، وہ بھائی جو اپنی پانچ بہنوں سے پیار کرتا تھا وہ نہیں رہا‘‘۔بے نظیر نے مزید کہا کہ ’’سب لوگ دھیان سے سنیں، ان کے بچوں کو خطرہ ہے وہ بھی پولیس سے، اپنے بچوں کو اکیلے باہر نہ بھیجیں‘‘۔10 سالہ بے نظیر نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں کمزور نہیں ہوں، مجھ میں طاقت ہے، میں اپنے بھائی کے لیے لڑں گی‘‘۔

نقیب اللہ قتل

مزید : صفحہ اول