سپریم کورٹ کے ریمارکس نے ’’مثالی پولیس ‘‘ کے غبارے سے ہوا نکال دی

سپریم کورٹ کے ریمارکس نے ’’مثالی پولیس ‘‘ کے غبارے سے ہوا نکال دی

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

ظروف ساز عورتوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے برتنوں کی ہمیشہ تعریف کرتی ہیں۔ کچھ ایسا ہی طرز عمل خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے رہنما عمران خان نے صوبائی پولیس کے بارے میں طویل عرصے سے اختیار کر رکھا ہے اور اٹھتے بیٹھتے یہ دعوے دہرائے جاتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کی پولیس مثالی پولیس بن گئی ہے، لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ مثالی پولیس نااہل بھی ہوتی ہے، یہ راز تو سپریم کورٹ میں کھلا۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر دیا گیا ہے اور آئی جی پولیس کے اختیارات میں کوئی مداخلت نہیں کی جاتی۔ وہ اپنے ماتحت افسروں کے تقرر و تبادلے میں آزاد ہیں۔ اپنے فرائض کی ادائیگی وہ جس انداز میں بہتر سمجھتے ہیں، اسی طرح کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ روز ملک کی سب سے بڑی عدالت نے صوبے کی پولیس کو نااہلی کا جو سرٹیفکیٹ دے دیا ہے، اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پولیس کو ’’سیاسی دباؤ‘‘ سے آزاد کرنے کا مطلب لازماً یہ نہیں ہوتا کہ اس کی اہلیت اور کارکردگی میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ سوال یہ ہے صوبے کا چیف ایگزیکٹو اگر آئی جی کو کسی ضلع کا پولیس سربراہ مقرر کرنے کا حکم دے یا اس کی سفارش کرے تو کیا وہ انکار کر دے گا؟ کیا وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے پورے دور میں کسی بھی پولیس افسر کے تقرر کی سفارش نہیں کی؟ اور کیا ایسا بھی ہوا کہ وزیراعلیٰ نے کسی افسر کی سفارس کی ہو اور آئی جی نے کہہ دیا ہو کہ جناب میں فلاں فلاں وجوہ کی بنا پر اس افسر کا میرٹ پر تقرر نہیں کرسکتا؟یہ تو ہوسکتا ہے کہ عمومی طور پر آئی جی پولیس اپنے کام میں آزاد ہوں ،لیکن آئی جی وزیراعلیٰ کے احکامات ماننے کا تو پابند ہے یا نہیں؟ خیبرپختونخوا سمیت کسی بھی صوبے کا چیف ایگزیکٹو سرے سے ہی کسی پولیس معاملے میں عمل دخل نہ رکھتا ہو، یہ کسی صورت ماننے والی بات نہیں۔

پورے ملک میں پولیس اور تھانے کا جو کلچر ہے وہ قیام پاکستان سے پہلے کا چلا آرہا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ خیبرپختونخوا میں پولیس نے اپنا طرز عمل دوسرے صوبوں سے قدرے بہتر بنا لیا ہو، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ دوسرے صوبوں کی پولیس میں خدمات انجام دینے والے تمام افسر ایک جیسے ہیں، ان میں الٹرا دیانتدار بھی ہوسکتے ہیں، دیانتدار بھی اور وہ بھی جو ان دونوں اوصاف سے عاری ہوں۔ ہر دور میں پولیس میں ہر طرح کے افسر موجود رہے ہیں۔ اگر خیبرپختونخوا کی پولیس کوئی غیر معمولی پولیس ہوتی یا وہاں کوئی ایسی تبدیلی آگئی ہوتی جس کی وجہ سے تھانہ کلچر بدل گیا ہوتا تو سپریم کورٹ کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ خیبرپختونخوا پولیس نااہل ہے۔ جہاں تک جرائم کا تعلق ہے وہ ہر صوبے میں ہوتے ہیں، کسی میں زیادہ اور کسی میں کم۔ خیبرپختونخوا میں اسلحہ رکھنے کا رواج دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔ اگرچہ اب تو یہ فرق بھی مٹتا جا رہا ہے۔ کراچی جیسا شہر اسلحے کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکا ہے، اسی وجہ سے کئی عشروں تک اس شہر کا امن برباد رہا، اب بھی اگرچہ صورت حال میں بہتری نظر آتی ہے لیکن کبھی کبھار زمین میں دبائے ہوئے اسلحے کے متعلق جو خبریں آتی رہتی ہیں، ان سے لگتا ہے کہ کسی منصوبے کے تحت باقاعدہ اسلحہ جمع کیا جاتا ہے اور جب کبھی پکڑے جانے کا خوف ہوتا ہے تو کسی جگہ ڈمپ کر دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرکے جو بہتری آئی یا لائی گئی ہے، اس کی نوعیت کیا ہے؟ کیا جرائم کم ہوگئے ہیں اور کیا جرائم کے بعد ملوث لوگوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے پکڑا جا رہا ہے؟ حال ہی میں رونما ہونے والے چند واقعات سے تو اس خیال کی تصدیق نہیں ہوتی۔ ایبٹ آباد میڈیکل کالج کی تھرڈ ایئر کی طالبہ کے ہولناک قتل کی واردات اس کی واحد مثال نہیں، ایسی مثالیں اور بھی مل سکتی ہیں۔ ملزم جو پہلے سے شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ بتایا جاتا ہے، قتل کے واقعہ کے بعد بیرون ملک فرار ہوگیا ہے اور پولیس کو خبر تک نہیں ہوئی یا اگر وہ باخبر تھی، تو کہا جاسکتا ہے کہ کسی نہ کسی نے اس جانب سے آنکھیں بند رکھیں اور ملزم کو فرار کا موقع فراہم کیا۔ کسی صوبے کا آئی جی پولیس اگر اپنے ماتحت افسر اپنی مرضی سے لگائے یا کسی کی سفارش پر، دونوں صورتوں میں ان میں اچھے افسر ہوں گے اور ایسے بھی جن کی شہرت زیادہ اچھی نہیں ہوگی، کیونکہ فورس میں ہر طرح کے افسر ہوتے ہیں۔ تقرر و تبادلے انہی میں سے کئے جاتے ہیں۔ پولیس سروس آف پاکستان سے تعلق رکھنے والے افسروں کا تعلق کیبنٹ ڈویژن کرتی ہے، جو افسر آج کے پی کے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، ضروری نہیں وہ ہمیشہ اس صوبے میں رہیں۔ ان کا تبادلہ کسی دوسرے صوبے میں بھی ہوسکتا ہے۔ اس لئے اچھے افسروں کا کسی ایک صوبے میں جمع ہونا محض اتفاق ہوسکتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ جن افسروں کا انتخاب آئی جی کرے گا، وہ بھی آخر کسی نہ کسی پسند ناپسند کا بھی تو خیال رکھے گا، کبھی یہ نہیں ہوا کہ ایک فورس کے تمام افسر آئی جی کے پسندیدہ ہوں، بہت سے ایسے بھی ہوں گے جو ان کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہوں گے۔ کسی خاص مقدمے کو سامنے رکھیں تو جن لوگوں کو ریلیف مل جائے، وہ پولیس کے کردار کو سراہیں گے اور جو اس سے محروم رہیں گے وہ نکتہ چینی کریں گے۔ اس لئے دعوؤں سے زیادہ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے ہونے چاہئیں۔

مثالی پولیس

مزید : تجزیہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...