حج کوٹہ کی تقسیم پر اختلاف،وزارت مذہبی امور اور ہوپ سپریم کورٹ پہنچ گئیں

حج کوٹہ کی تقسیم پر اختلاف،وزارت مذہبی امور اور ہوپ سپریم کورٹ پہنچ گئیں

لاہور(رپورٹ،ڈویلپمنٹ سیل)حج کوٹہ کی تقسیم پر اختلاف،وزارت مذہبی امور اور ہوپ کے درمیان عدالتی جنگ شروع ،اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے دونوں پارٹیاں سپریم کورٹ پہنچ گئیں ،دونوں اطراف کے سنجیدہ حلقے پریشان،جو مسائل ٹیبل ٹاک کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں ان کو عدالتوں میں لے جانا عقل مندی نہیں ہے ،ہوپ اور وفاقی وزیر مذہبی امور کے درمیان ڈیڈ لاک پرائیویٹ حج سکیم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے عدالتی جنگ سے وکلاء کے علاوہ کسی کو فائدہ نہیں ہو گا اب بھی دونوں فریقوں کو بیٹھ جانا چاہیے پوری دنیا میں حج پرائیویٹ ہو رہا ہے وزارت مذہبی امور کو ضد چھوڑ کر درمیانی راستہ نکالنا چاہیے سینئر حج آرگنائزر اور سنجیدہ حلقوں کی روزنامہ پاکستان سے گفتگو،تفصیلات کے مطابق وزارت مذہبی امور نے حج پالیسی2018ء میں پرائیویٹ سکیم کا حج کوٹہ کم کر کے 33فیصد کر دیا ہے اور سرکاری کوٹہ 67فیصد کر دیا ہے جس کے خلاف پرائیویٹ سکیم کی نمائندہ ہوپ نے لاہور،سندھ،پشاور ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر رکھی ہے ،سکھر ڈویژن نے 26جنوری کو ہونے والی سرکاری سکیم کی قرعہ اندازی روک دی ہے جس کے خلاف وزارت نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے ہوپ نے بھی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے ،وفاقی وزیر سردار محمد یوسف ہوپ کے عدالت جانے کی وجہ سے ناراض ہیں باہم بیٹھنے کے لیے تیار نہیں ہیں ان کی ساری توجہ سرکاری حج سکیم کی طرف ہے حالانکہ پرائیویٹ سکیم اور سرکاری سکیم دونوں وزارت مذہبی امور کی سکیمیں ہیں سعودی عرب حج کو مرحلہ وار پرائیویٹ کرنے کے حق میں ہے و زارت مذہبی امور سعودی عرب کی پالیسی کے خلاف سرکاری سکیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے ہوپ اور وزارت کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلاف کا نقصان ہو سکتا ہے جس کا ہوپ کو ادراک نہیں۔

کوٹہ

مزید : صفحہ آخر