آئی ایم ایف کی این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلیاں کرنے کی ہدایت

آئی ایم ایف کی این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلیاں کرنے کی ہدایت

اسلام آباد(آن لائن)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اگلے نیشنل فنانس ایوارڈ(این ایف سی) میں اہم تبدیلیاں کرے اس کی وجہ سنجیدہ دباؤ ہے جو یہ وفاقی حکومت کی مالیات پر ڈال رہا ہے اور دیگر میکرواکنامک ناہمواریاں اور عدم توازن ہے جو اس کے نفاذ سے سامنے آرہی ہیں۔2009ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے ساتواں این ایف سی ایوارڈ متعارف کروایا،جس نے صوبوں کے فیڈرل پول میں فنڈز کا سب سے زیادہ تناسب تیار کیا،اس کے بعد سے مرکز نے قائم کردہ حدوں کے اندر مالی خسارہ رکھنے کیلئے جدوجہد کی ہے۔تجویز کی جامع سیٹ میں آئی ایم ایف نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیکنوکریٹ مالیاتی کونسل کو سی سی ای کے تحت تشکیل دے یا قائم کرے،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ نگرانی کے تحت ایک ہنگامی فنڈ کی تخلیق اور چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ مشترکہ دائرہ کاروں کے ٹیکس نیٹ علاقوں کو وسیع کرنے کیلئے ایک قومی ٹیکس کمیشن بھی بنایا جائے۔یہ مشاورت پاکستان کی معیشت کے آرٹیکل 4 کے جائزہ کے تحت آئی ایم ایف کی حتمی رپورٹ کا حصہ ہے،اگلے ہفتے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی طرف سے منظوری دی جائے گی۔آئی ایم ایف پچھلی ساتویں این ایف سی کی بھی اہمیت نئی ہے لیکن یہ پہلی بار نہیں کہ اس نے کورس کی تبدیلی کیلئے رسمی تجزیہ پیش کیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر