پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، ترسیلی نقصانات پیسکو اور بجلی چوری میں سکھر الیکٹرک پاور نمبر ون

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی، ترسیلی نقصانات پیسکو اور بجلی چوری میں سکھر الیکٹرک ...

اسلام آباد (آئی این پی)پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں وزارت توانائی حکام نے انکشاف کیا کہ بجلی کے سالانہ ترسیلی نقصانات 213 ارب روپے سے زائد ہیں، سب سے زیادہ نقصانات پیسکو میں 32.6 فیصد جبکہ سب سے زیادہ بجلی چوری سکھر الیکٹرک پاور کمپنی میں ہے ۔کمیٹی چیئرمین سید خورشید شاہ نے معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تکنیکی نقصانات کا بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جاتا ہے، اپنی نا اہلی کا بوجھ عوام پر نہ ڈالیں، عوام کا پیسہ ضائع کر رہے ہیں، سال میں 500ارب کے نقصانات دکھاکر وہ عوام سے لیا جاتے ہیں، واپڈا کی نا اہلی کی وجہ سے یہ نقصانات ہو رہے ہیں، 15سال میں یہ نقصانات کم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ کمیٹی رکن شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ 2فصد نقصان عوام کی طرف سے بجلی چوری جرمانہ ڈالیں اپنی نا اہلی کی ادائیگی اپنی تنخواہ سے کریں، میرے باپ دادا کے زمانے میں ٹرانسفارمر لگے ہیں، نیلم جہلم کے پیسے بھی ہم 50سال سے دے رہے ہیں۔ عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ چوری ہوتی ہے پنجاب میں اوروزیر مملکت عابد شیر علی کہتے ہیں کہ سکھر اور حیدر آبادمیں بجلی چوری ہوتی ہے ۔ بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں وزارت توانائی کی جانب سے بجلی کی موجودہ صورتحال اور تقسیم کار کمپنیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ وزارت حکام نے بتایا کہ بجلی کے پورے ملک میں 2کروڑ 62لاکھ786صارفین ہیں، ملتان میپکو میں 50فیصد بجلی گھریلو صارفین اور 50فیصد صنعتی اور ٹیوب ویل صارفین ہیں، گیپکو میں 84فیصد گھریلو صارفین ہیں اور باقی کمرشل اور صنعتی صارفین ہیں، فیسکو میں 87فیصد سے زائد گھریلو صارفین ہیں۔ وزارت حکام نے نقصانات کے حوالے سے آگاہ کیا کہ لیسکو میں نقصانات کا تخمینہ 13.8فیصد لگایا گیا ہے، گیپکو میں 10.2فیصد،فیسکو میں 102،آئیسکو میں 9،میپکو میں 16.9فیصد، پیسکو میں 32.6فیصد ٹیسکو میں 15.4فیصد حیسکو میں 30.6فیصد سیپکو میں 37.9فیصد کیسکو میں 23.1اور ٹوٹل نقصانات 17.9فیصد جو کہ 17ارب روپے 83کروڑسے بنتے ہیں۔ کمیٹی نے مکمل معلومات نہ فراہم کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ نے کہا کہ تھرڈ پارٹی کے نقصانات کے حوالے سے بریفنگ ہمیں دے رہے ہیں اور کاغذات نہیں دے رہے ہیں۔کمیٹی رکن شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ لیسکو کا 11فیصد سے زائد تکنیکی نقصانات کتنے ہیں، جس پر وزارت حکام نے بتایا کہ 9فیصد تکنیکی نقصان ہے، چوری کا نقصان دو فیصد ہے۔ کمیٹی چیئرمین سید خورشید شاہ نے کہا کہ تکنیکی نقصانات کا بوجھ عوام پر کیوں ڈالا جاتا ہے، اپنی نا اہلی کا بوجھ عوام پر نہ ڈالیں، عوام کا پیسہ ضائع کر رہے ہیں، سال میں 500ارب کے نقصانات دکھاتے ہیں، وہ عوام سے لیا جاتا ہے، واپڈا کی نا اہلی کی وجہ سے یہ نقصانات ہو رہے ہیں، 15سال میں یہ نقصانات کم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ وزارت حکام نے بتایا کہ پورے ملک میں 14گرڈ سٹیشن 500کلو واٹ کے ہیں،220کلو واٹ39گرڈ سٹیشن ہیں،132کلو واٹ کے 656اور66کلوواٹ کے 104ہیں۔ عبدالرشید گوڈیل نے کہا کہ چوری ہوتی ہے پنجاب میں اور عابد شیر علی سکھر اور حیدر آباد کے حوالے سے بیان دیتے ہیں، مجھے بتائیں کہ وہاں کتنے فیصد چوری کے نقصانات ہیں۔ وزارت حکام نے بتایا کہ لیسکو میں 36ارب روپے نقصان میں اور حیسکو میں18ارب روپے نقصان ہیں۔ خورشید شاہ نے وزارت حکام سے پوچھا کہ حکومت کو کہاں سے سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوتا ہے، پشاور میں 48ارب روپے کا نقصان ہوا، لاہور میں 2.8ارب یونٹ کا نقصان ہے۔ وزارت حکام نے بتایا کہ لیسکو میں 36ارب روپے، گیپکو میں 12ارب روپے،فیسکو میں 15ارب روپے، اسلام آباد میں 12روپے، ملتان میپکو میں 30ارب روپے، پشاور سیپکومیں 48 ارب روپے نقصان ہوا ہے، قبائلی علاقہ جات میں کروڑوں روپے ،حیسکو میں 19ارب روپے، سکھر کے بھی 19ارب روپے کوئٹہ کے 15ارب روپے نقصان ہوا ہے۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ 2فصد نقصان عوام کی طرف سے بجلی چوری جرمانہ ڈالیں اپنی نا اہلی کی ادائیگی اپنی تنخواہ سے کریں، میرے باپ دادا کے زمانے میں ٹرانسفارمر لگے ہیں، سقوط ڈھاکہ کے پیسے اور نیلم جہلم کے پیسے بھی ہم 50سال سے دے رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر