بدعنوانی الزام میں گرفتار افراد سے 106بلین ڈالر قومی خزانے میں آئے: سعودی اٹارنی جنرل

بدعنوانی الزام میں گرفتار افراد سے 106بلین ڈالر قومی خزانے میں آئے: سعودی ...

ریاض(آئی این پی )سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب نے کہا ہے کہ انسداد بدعنوانی مہم میں 437 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے 381کو سمجھوتے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے، بدعنوانی کیخلاف گرفتاریوں سے 106بلین ڈالر قومی خزانے میں آئے ہیں ۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ٹارنی جنرل نے کہاہے ایک اندازے کے مطابق گرفتار افراد کیساتھ سمجھوتوں میں 106 بلین ڈالر قومی خز ا نے میں اثاثہ جات بشمول جائیداد، کمرشل کمپنیوں، سکیورٹیوز، نقدی کی صورت میں آئے ہیں۔ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار افراد کے کیسز کا ریویو مکمل کر لیا گیا جس کے تحت ان سے مذاکرات اور سمجھوتے ہوئے۔ اس ریویو کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ان تمام افراد کو رہا کر دیا جائے جن کیخلاف ناکافی ثبوت ہیں۔ جن افراد نے بدعنوانی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت کیساتھ سمجھوتہ کیا ہے ان کو بھی رہا کیا جائے گا ۔56 افراد کو حراست میں رکھا جائے گا کیونکہ حکومت نے ان کیساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا کیونکہ ان کیخلاف دیگر مقدمات بھی تھے۔درجنوں شہزادے، اعلی حکام اور بڑی کارروباری شخصیات بشمول کابینہ کے کئی اراکین اور ارب پتی لوگ اس وقت کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر شر و ع کی گئی مہم کے تحت حراست میں تھے۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے خیال میں اس مہم کا اصل مقصد شہزادہ محمد بن سلمان کی تخت تک پہنچنے کی راہ کو ہموار کیا جانا بھی ہے۔ادھررٹز کارلٹن ہوٹل کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے 14فروری سے ہوٹل کو عوام کیلئے دوبارہ کھول دیا جائے گا ۔ یاد رہے بدعنوانی کی مہم کے پیچھے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں اور کہا جاتا ہے انھوں نے ذاتی طور پر رٹز کارلٹن میں ہونیوالے سمجھوتوں میں دلچسپی لی ہے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...