لاہور سمیت پنجاب کے 9ڈویژنز میں 2ارب قومی خزانہ سے نکلوا کر خوردبرد کرنے کا انکشاف


لاہور(ارشد محمود گھمن/سپیشل رپورٹر ) لاہور سمیت پنجاب بھر کے9 ڈویثرنوں میں محکمہ مواصلات تعمیرات پنجاب کے اعلی افسراوں کا 2015تا2017 ء جعلی کو ٹیشنز،ریپئرنگ ، ڈیزل ،پٹرول کی مد میں مبینہ طور پر 2ارب روپے قومی خزانہ سے نکلوا کرخورد برد کر نے کا انکشاف ہوا ہے ، آڈٹ رپورٹس کے مطابق سی اینڈ ڈبلیو، پنجاب ہائی وے ،مکینیکل انجینئرنگ،ایم اینڈ آر اور بلڈنگز ڈپارٹمنٹ کے ایس ای، ایکسین،ایس ڈی او، سب انجینئرز اور دیگر افسروں کے ملوث پائے جا نے کا امکان ہے۔ گو جرنوالہ،سیا لکوٹ،شیخوپو رہ، قصور ، نارووال،گجرات،راولپنڈی،جہلم،منڈی بہاء الدین، ملتان،سرگودہا،فیصل آباد، قصور،خا نیوال،حافظ آ باد،چکوال،ساہیوال کے ایکسیئن،ایس ڈی او، سب انجینئر ز مبینہ طور پر قومی خزانے سے زیر تعمیر اربوں روپے کے منصوبوں،سڑکوں پل کے وزٹ کے نام پر کروڑوں روپے خورد برد کرنے میں ملوث ہیں مذکورہ افسر حکومت کی طرف سے منظور کئے گئے پٹرول پمپوں سے ڈیزل کی مد میں رسیدوں پر اپنے خاندان ،عزیزواقارب کے ذریعے مبینہ طور پر پٹرول ڈلواتے ہیں،ذرائع کے مطابق فی ایکسیئن 5گاڑیوں ایس ڈی او3 اورسب انجینئر ز کی2گاڑیوں پر ڈیزل کی جگہ پٹرول ڈلوایا جاتا ہے ،ذرائع نے بتایا ہے کہ ایڈہاک بنیادپر ملازمین بھرتی کرکے ان کو ایک ایک ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی کرکے اپنی جانب سے فارغ کردیا جاتا ہے ،بعدازاں سرکاری کھاتے میں ان کے شناختی کارڈ استعمال کرکے جعلی پے آرڈر بنا کر متعلقہ ہیڈ کلر کوں کے ذریعے خزانے سے ان ہی مذکورہ ملازمین کے ناموں پر ماہانہ تنخواہیں وصول کی جاتی ہیں ۔بعد میں مبینہ طور پر اس رقم کو آپس میں تقسیم کرلیا جاتا ہے۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ آڈٹ آفیسرزنے بھی مبینہ طور پر ان افسروں کے ساتھ مک مکا کررکھا ہے جو سالانہ کم از کم20 لاکھ روپے اپنا حصہ وصول کرکے مذکورہ ریکارڈ کو درست قرار دے کر پاس کردیتا ہے۔ذرائع نے مزید بتایا ہے کے مطابق مذکورہ ایکسیئن نے مبینہ طور پرحکومتی خزانے کو 2015تا2017تک قومی خزانہ کو2ارب روپے سے زائد کا نقصان پہنچا یا۔یاد رہے کہ سا بق ہیڈ کلرک مرحوم راؤ منور تقریبا 13سال سے ایک ہی مکینیکل ڈویثرن میں تعینات تھا جس نے ان افسران کے ساتھ مبینہ طور پر کرپشن کرکے جعلی کوٹیشنز ،وؤچر ،بلز کا استعمال کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے برابر کے شریک تھا ۔ سیکرٹری مواصلات تعمیرات کا کہنا ہے کہ اس بارے میؓپہلی بار شکایت ہو ئی ہے ریکارڈ چیک کر کے ذمہ در افسروں کے خلاف کارروائی کی جا ئے گی۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...