دہشتگردی، منی لانڈرنگ اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ای سی او ممالک مل کر کام کریں: ممنون حسین

دہشتگردی، منی لانڈرنگ اور سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ای سی او ممالک مل کر کام ...

اسلام آباد (آئی این پی)صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ ای سی او خطہ شمال و جنوب اور یورپ و ایشیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ دہشت گردی، منی لانڈرنگ او راسمگلنگ جیسے جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ای سی او کے تمام ممالک مل کر کام کریں اور قانون سازی میں ایک دوسرے سے تعاون کریں۔صدرمملکت نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ای سی او ممالک کے اٹارنیز/ پراسیکیوٹرز جنرل کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جس نے ایوان صدر میں سیکریٹری جنرل ای سی او حلیل ابراہیم آکا کی قیادت میں صدر مملکت سے ملاقات کی۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان جو اس وقت ای سی او کا چیئرمین ہے، اپنی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہے اور ای سی او کے منصوبوں و اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اداروں اور عوامی سطح پر روابط خطے کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ای سی او اٹارنیز/پراسیکیوٹرز جنرل کے تیسرے اجلاس کے دوران بات چیت ای سی او رکن ممالک کے مابین جوڈیشل تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہو گی جبکہ شرکا کو دہشت گردی، سمگلنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم سے متعلق تاثرات کے تبادلہ کا موقع ملے گا۔انھوں نے کہا کہ خطے کے تمام ممالک کی لیگل سیفٹی اور سیکورٹی کو سائبر کرائم جیسے مشترکہ خطرات کا سامنا ہے۔ ایک موثر جوڈیشل تعاون خطے کی سیکورٹی، استحکام اور اقتصادی بہتری میں کردار ادا کرے گا۔صدر مملکت نے کہا کہ ای سی او کے خطے کے تمام ممالک کی لیگل سیفٹی اور سیکورٹی کو سائبر کرائم جیسے مشترکہ خطرات کا سامنا ہے، ایک موثر جوڈیشل تعاون خطے کی سیکورٹی، استحکام اور اقتصادی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا، ترقی و نمو کے لئے رکن ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ و مواصلات، انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے، تجارت و سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور اہم شعبہ جاتی ترجیحات کے تعین کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس فورم پر علاقائی و بین الاقوامی سطح کے جرائم کے انسداد کے لئے نگرانی کا ممکنہ میکنزم بھی زیر غور لایا جائے گا۔

مزید : صفحہ آخر