نقیب محسود کیس، 2چشم دید گواہوں نے 3پولیس اہلکاروں کو شناخت کر لیا

نقیب محسود کیس، 2چشم دید گواہوں نے 3پولیس اہلکاروں کو شناخت کر لیا

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں کراچی میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے نقیب اللہ محسود سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت آج جمعرات کو ہو گی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت کریگا، سپریم کورٹ نے نقیب محسود قتل کیس سماعت کے لیے مقرر کر لیا ہے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کیس کی سماعت آج جمعرات کو کرے گا عدالت نے کیس کے حوالے سے سیکریٹری داخلہ، ڈی جی سول ایوی ایشن، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کو نوزٹسزجاری کر دیے ہیں، نقیب محسود کے ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے کر آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی تھی جبکہ عدالت کی جانب سے تیس فروری کو ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں ستائیس مارچ کو طلب کیا گیا تھا تاہم وہ عدالت میں پیش نہ ہوئے تو عدالت نے گرفتاری کا حکم دیا لیکن سندھ پولیس راؤ انوار کی گرفتاری میں تاحال ناکام ہے ۔

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) نقیب اللہ محسود قتل کیس میں گرفتار 3 پولیس اہلکاروں کو واقعے کے 2 چشم دید گواہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے روبرو شناخت کرلیا۔نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کیس ملوث 6 پولیس اہلکاروں کو 27 جنوری کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سب انسپکٹر محمد یاسین، اے ایس آئی فرحت حسین، اے ایس آئی اللہ یار، ہیڈ کانسٹیبل خضرت حیات، ہیڈ کانسٹیبل محمد اقبال اور کانسٹیبل ارشد علی شامل ہیں۔جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے روبرو نقیب اللہ محسود قتل کیس میں گرفتار 3 پولیس اہلکاروں محمد اقبال، ارشد علی اور اللہ یار کو پیش کیا گیا، واقعے کے 2 چشم دید گواہ قاسم اور علی بھی پیش ہوئے۔عدالت کے روبرو تینوں پولیس اہلکاروں کو الگ الگ شناخت پریڈ کیلئے 9 ڈمیز کے ہمراہ پیش کیا گیا، فاضل مجسٹریٹ کے روبرو پولیس نے سب سے پہلے کانسٹیبل محمد اقبال کو پیش کیا۔چشم دید گواہوں نے کانسٹیبل محمد اقبال کو شناخت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پولیس اہلکار 3 جنوری کو اس موبائل کے ہمراہ سادہ لباس میں موجود تھا جس میں انہیں حراست میں لیا گیا تھا، فاضل مجسٹریٹ نے ملزم پولیس اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ کو شناخت پریڈ پر کوئی اعتراض تو نہیں۔ملزم نے عدالتی استفسار پر جواب دیا کہ انہیں شناخت پریڈ پر اعتراض تو نہیں تاہم وہ اس دن جنرل ڈیوٹی پر تھے۔پہلے ملزم کی شناخت پریڈ مکمل ہونے پر پولیس نے مقدمے میں گرفتار دوسرے پولیس اہلکار ہیڈکانسٹیبل ارشد علی کو فاضل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا، دونوں عینی شاہدین نے ملزم ارشد علی کو بھی شناخت کرتے ہوئے بیان دیا کہ ملزم اس موبائل میں موجود تھا جس میں ہمیں ہوٹل سے سچل چوکی منتقل کیا گیا۔دوران کارروائی ملزم پولیس اہلکار نے اعتراض اٹھایا کہ تھانے سے لاتے وقت گواہوں کو میرے کپڑے دکھائے گئے، ملزم کے اعتراض پر فاضل مجسٹریٹ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کپڑے تبدیل کرنا چاہتے ہیں، عدالتی احکامات پر ملزم کے کپڑے بھی تبدیل کرائے گئے۔دوسرے ملزم کی شناخت پریڈ کا عمل ہونے پر تیسرے ملزم اے ایس آئی اللہ یار کو شناخت پریڈ کے لیے پیش کیا گیا، فاضل مجسٹریٹ کے روبرو دونوں عینی شاہدین نے ملزم اللہ یار کو شناخت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ ملزم نے 3 جنوری کو سادہ لباس اہلکاروں کے ہمراہ انہیں شیر آغا ہوٹل سے حراست میں لیا تھا۔فاضل مجسٹریٹ کے روبرو ملزم اللہ یار نے مؤقف اپنایا کہ گواہوں کی شناخت پر انہیں کوئی اعتراض نہیں تاہم گواہوں کی جانب سے دیا گیا بیان درست نہیں۔فاضل مجسٹریٹ کے روبرو شناخت پریڈ مکمل ہونے پر تینوں گرفتار پولیس اہلکاروں کو تھانے منتقل کیا گیا۔

مزید : صفحہ آخر