شہریوں کی محرومیوں کا امداد کران ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے

شہریوں کی محرومیوں کا امداد کران ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے

پشاور (سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں للسائل والمحروم فاؤنڈ یشن کے زیر اہتمام پوسٹ میٹرک یتیم طلباء و طالبات میں چیکس تقسیم کرنے کی تقریب منعقدہ ہوئی جس کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر برائے قانون امتیاز شاہد قریشی تھے جبکہ صوبائی وزیر عنایت اﷲ خان ،ممبران صوبائی اسمبلی یاسین خلیل، عارف یوسف، ارباب جہانداد، خلیق الرحمن، فضل الٰہی، چیئرمین فاؤنڈیشن حاجی محمد جاوید، فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین اور دیگر اعلیٰ حکام نے تقریب میں شرکت کی ۔ تقریب میں اس وقت صوبے کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم 119 یتیم طلباء و طالبات میں مالی معاونت کے چیکس تقسیم کئے گئے ۔صوبائی وزیر امتیاز شاہد قریشی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی وساطت سے بطور مہمان خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے شہریوں کی محرومیوں کے مداوے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لانا کسی بھی ریاست کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ یہ بات اُس وقت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے جب سوال اُن بچوں کے مستقبل کا ہو جنہوں نے مستقبل میں اس ملک و ملت کو سنبھالنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نونہالانِ وطن کی تعلیم و تربیت میں یقیناً اُن کے والدین کا فیصلہ فائق ہوتا ہے۔ لیکن وہ گھر انے جن کے بچے اپنے والدین یا بالخصوص والد سے محروم ہو جاتے ہیں، وہاں بچوں کو اس ضمن میں بے پناہ مشکلات اُٹھانا پڑتی ہیں۔ ایسے میں ریاست کا فرض ہے کہ معاشرے کے ان یتیم بچوں ، بچیوں اور بیواؤں کی داد رسی کرے۔ ایسے بچے جو ان معاشی مجبوریوں کے باوجود بہترین تعلیمی نتائج کے حامل ہوتے ہیں وہ دوہری داد اور توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔آج ہم ایسے ہی بچوں کے درمیان خود کو موجود پا کر اپنی مٹی کی اس زرخیزی پر فخر یہ انداز سے اپنا سر اونچا کر سکتے ہیں۔انہوں نے للسائل والمحروم فاؤنڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ ادارہ سماجی اداروں میں واضح ترین اہمیت کا حامل ہے۔ لہٰذا یہ براہ راست وزیر اعلیٰ کی نگرانی میں کام کررہا ہے۔ اس کے کارکنان جذبہ خدمت سے معمور اور درد دل رکھنے والے ہیں اور شاید اس کی کامیابی کا پس منظر بھی یہی ہے۔انہوں نے طلباء و طالبات سے کہاکہ آپ اپنی تمام توانائی تعلیم پر صرف کریں تا کہ عملی زندگی میں بہتر کردار ادا کرسکیں اور فاؤنڈیشن کو یقین دلایا کہ صوبائی کابینہ کی سطح پر فاؤنڈیشن کے مطالبات کو پورا کرنے اور اس کی مزید استحکام کیلئے بھرپور کوشش کریں گے۔صوبائی وزیر عنایت اﷲ خان نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ یہ انسانیت کی حقیقی خدمت میں مصروف عمل ہے ۔ عنایت اﷲنے کہاکہ اگر اسلام کے تین اُصولوں زکوۃ ، میراث اور انفاق فی سبیل اﷲ پر اُن کی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو معاشرے سے غربت اور ارتکاز دولت کا خاتمہ یقینی ہو سکتا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 600 سے 700 ارب تک چیریٹی بنتی ہے جس میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ دُنیا کے دیگر معاشروں کے مقابلے میں ہمارے یعنی اسلامی معاشرے میں خیر کا بہت بڑا پہلو موجود ہے جس کو منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔اس موقع پر فاؤنڈیشن کے چیئرمین حاجی محمد جاوید نے فاؤنڈیشن کے مقاصد، پس منظر اور کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ فاؤنڈیشن ایک فلاحی ادارہ ہے جس کا بنیادی مقصد صوبے کے غریب ، یتیم اور نادار افراد کو صحت ، تعلیم اور فلاح و بہبود کے شعبوں میں خدمات فراہم کرنا ہے اس کی بنیاد 2007 میں رکھی گئی جس کیلئے شروع میں 4 کروڑ روپے جاری کئے گئے تھے بعد میں آنے والی حکومت نے اس امداد میں مزید اضافہ کیا جبکہ موجودہ صوبائی حکومت میں وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے تنظیم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے قانون سازی کرکے اس تنظیم کو باضابطہ طور پر فاؤنڈیشن کا درجہ دے دیا۔ منصوبے سے اب تک صحت کے شعبے میں استفادہ کرنے والے افراد کی تعداد10 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ تعلیم کے شعبے میں پرائمری سطح کے 9870 بچوں ، پوسٹ میٹرک1089 طلباء و طالبات کو ماہوار وظیفہ دیا جارہا ہے جس پر سالانہ 12 کروڑ روپے خرچہ آتا ہے ۔10848 یتیم بیوہ ، معذور اورنادار افراد کو دستکاری ، سلائی کڑھائی ، موبائل مرمت، ائرکنڈیشنگ ، رفریجریشن ، موٹرڈرائیونگ سمیت مختلف ہنر کے کورسز کروائے گئے ۔ حاجی جاویدنے یقین دلایا کہ وہ خدمت خلق کے اس فلاحی ادارے کو ایک بے مثال ادارہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔ تقریب سے روٹری انٹرنیشنل کی نمائندگی کرتے ہوئے خورشید خان نے بھی خطاب کیا اور روٹری کی طرف سے بے سہارا مریضوں کیلئے 10 فری میڈیکل کیمپ لگانے کا اعلان کیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...