خیبر پختونخوا پولیس نے امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دیں : پرویزخٹک


پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ خیبرپختونخو اپولیس پنجاب پولیس کی طرح نہیں ہے یہ ایک آزاد اور بااختیار ادارہ ہے جو بغیر کسی دباؤ کے بہترین طریقے سے کام کر رہا ہے ۔ہماری پولیس وزیراعلیٰ کے تحت نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کے تحت کام کر رہی ہے ۔ہمارے صوبے میں سیاسی مداخلت کے ذریعے کوئی کسی کو بچا نہیں سکتا ۔ ہم کسی کو چھپاتے یا بچاتے نہیں اور نہ ہی ایسا کرسکتے ہیں ۔میں واحد وزیراعلیٰ ہوں جس نے اپنے اختیارات اداروں کو منتقل کئے ۔ اداروں کے درمیان رابطے کا نظام وضع کیا اور سیاسی مداخلت ختم کی بدقسمتی سے پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ اداروں میں سیاسی مداخلت ہے ہم ضمانت دیتے ہیں کہ خیبرپختونخوا کے اداروں میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ۔خیبرپختونخوا پولیس نے امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں دیگر صوبوں کے مقابلے میں خیبرپختونخوا میں جرائم کی شرح میں بہت کمی آئی ہے ۔تنقید ضرور کریں مگر اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔خیبرپختونخوا میں فرانزک لیبارٹری کی اشد ضرورت تھی جس پر ہماری صوبائی حکومت نے پہلی بار توجہ دی اور اب یہ بہت جلد کام شروع کردے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ 2013 اور آج کے خیبرپختونخو امیں بڑا فرق ہے ۔ ہم نے اپنے اختیارات اداروں کو منتقل کئے ہیں ۔انہوں نے واضح کیا کہ صر ف تین ، چار سال میں 70 سال میں تباہ حال صوبے کو سو فیصد نہ سہی تو کافی ٹھیک کیا ہے محکمہ پولیس میں اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت نے صوبے میں پہلی بار انٹیلی جنس شیئرنگ کا سسٹم شروع کیا ۔پہلے حساس معلومات کے تبادلے کا کوئی طریقہ موجود نہیں تھا۔ گزشتہ چار سال سے متواتر پولیس ، فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مابین معلومات کا تبادلہ چل رہا ہے جس کی وجہ سے کافی بہتری آئی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ جب وہ حکومت میں آئے تو پولیس کی ٹریننگ وغیر ہ کا بھی کوئی سسٹم نہیں تھا ۔ ہم نے پہلی بار پولیس سکول آف ٹریننگ بنایا۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار کاونٹر ٹرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بنایا گیا ۔بم ڈسپوزل یونٹ بنائے ، اس کے علاوہ پہلی بار سپیشل فارمیٹ یونٹ ، ریپڈ ریسپانس فورس، سٹی پٹرول سسٹم، پولیس ایکسس سروس جیسی سرگرمیاں شروع کی گئیں اور ادارے بنائے گئے ۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں کوئی فرانزک لیب موجود نہیں تھی پہلی بار ہم بنارہے ہیں جو 20 دنوں کے اندر کام شروع کر دے گی ۔موجودہ حکومت نے صوبے میں پہلی بار پولیس سکول آف انوسٹی گیشن بنایا ، پولیس سکول آف ٹریفک اور سکول آف انٹیلی جنس بنایا ۔ہم تھانوں میں ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ شعبہ پولیس میں میرٹ پر بھرتیاں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے توانا ، مستعد اور پرعزم اور ذہین ترین نوجوان پولیس فورس میں شامل ہورہے ہیں ۔پانچ فیصد فاسٹ ٹریک پروموشن رکھی گئی ہے تاکہ ان نوجوانوں کو اعلیٰ سطح پر خدمات کا موقع مل سکے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ انہوں نے 2014 میں پولیس کو اختیارات دیئے اور اُس کے بعد پولیس کی طرف سے کسی بھی مطالبے کا انکار نہیں کیا ۔ کوئی شخص شعبہ پولیس میں مداخلت کا سوچ بھی نہیں سکتا جو کام کسی نے نہیں کیا ہم نے کردکھایا۔ پرویز خٹک نے اس موقع پر خصوصی طور پر سول پروسیجر کوڈ کے رولز میں ترمیم کا حوالہ دیا اور کہاکہ عوام کو فاسٹ ٹریک پر انصاف کی فراہمی کیلئے پہلی دفعہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ سے مل کر سی پی سی کے رولز میں ترمیم کی گئی ہے جس کی وجہ سے اب مقدمات کا فیصلہ ایک سال میں ہوگااور دیگر فوائد کے علاوہ وکیل کے دو بار غیر حاضر ہونے کی صورت میں یکطرفہ فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیاکہ دیوانی مقدمات میں آسانی پیدا کرنا صوبائی حکومت کے اختیارات میں تھا سو ہم نے کر دیا مگر کریمنل پروسیجر میں ترمیم وفاق کے اختیار میں ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...