مٹہ‘ پولیس تشدد سے زخمی ہونیوالے کے لواحقین کا انصاف کے حصول کیلئے مظاہرہ

مٹہ‘ پولیس تشدد سے زخمی ہونیوالے کے لواحقین کا انصاف کے حصول کیلئے مظاہرہ

ٹہ ( نما ئندہ پاکستان) مٹہ تھانہ پولیس کے حوالات میں تشدد سے زخمی ہونے والے نوجوان کی خاندان کو انصاف نہ ملنے پر متاثرہ خاندان نے زخمی نوجوان کو مٹہ ہسپتال سے نکال کر مٹہ تھانے کی سامنے مین روڈ پر رکھ کر شدید احتجاج کیا روڈ ٹریفک کیلئے بند کر دی انصاف نہ ملنے تک احتجاج کرنے کا اعلان کیا ایس ایچ او مٹہ سید احمد خان موقع پر پہنچ کر متاثرہ خاندان سے کامیاب مذاکرات کرکے احتجاج کو عارضی طور پر ختم کردی ملوث تمام پولیس کے خلاف کاروائی شروع ہو چکی ہے رپورٹ ڈی پی او سوات کو پہنچ چکی ہے سید احمد خان کے بات چیت تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز ایک تنازعے میں پولیس رپورٹ میں مٹہ پولیس نے ایک نوجوان مسمی عدنان ولد گل باچا سکنہ سمبٹ کو حوالات میں بند کردی جس کے بارے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مسمی عدنان کے والد گل باچا نے کہا کہ پولیس نے حوالات میں میرے بیٹے پر بے پناہ تشدد کرکے سخت زخمی کردیا اور زیادہ تشدد کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوکر 1122نے مٹہ ہسپتال لیکر ہسپتال داخل کرادیا گیا جس پر ہم نے احتجاج کی لیکن اس وقت تحصیل ناظم مٹہ عبداللہ خان اور ڈی ایس پی مٹہ سرکل اکبر خان شنواری اور دیگر ذمہ داروں نے انکو پوری انصاف دینے کی وعدہ کیا لیکن تاحال وہ وعدہ پورا نہیں ہوا جس پر متاثرہ خاندان نے زخمی نوجوان کو ہسپتال سے ہسپتال کی سٹیچر میں لاکر مٹہ تھانے کی سامنے مین روڈ پر رکھ کر احتجاج کی اور روڈ کو بند کردی دریں اثناء اطلاع ملتی ہی مٹہ تھانہ کے ایس ایچ او سید احمد خان پولیس نفری کے ہمراہ متاثرہ خاندان کے پاس پہنچ کر بات چیت کی اور کہا کہ ملوث تمام پولیس اہلکاروں کی خلاف کاروائی شروع ہوچکی ہے اور رپورٹ کل ڈی پی او سوات کو بھیج دی گئی ہے اور متعلقہ اہلکاروں کی بدھ کی روز پیشی متوقع ہے انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو ہر صورت پر انصاف مل جا یئگی اور کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جایئگی دریں اثناء ایس ایچ او مٹہ کے طرف سے پوری انصاف کی یقین دہانی کی بعد متاثرہ خاندان نے اپنے احتجاج کو عارضی طور پر ختم کرکے زخمی نوجوان کو پھر ہسپتال لے گئے

مزید : پشاورصفحہ آخر