کوہاٹ پولیس کو دہشتگردی اور بھتہ خوری جیسے چیلنجز کا سامنا ہے‘ ڈی پی او


پشاور (سٹاف رپورٹر)ڈسٹرکٹ کونسل کوہاٹ کے اجلاس میں ضلعی پولیس آفیسر عباس مجید مروت نے پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے کونسلرز کو بریفنگ دی۔کنونیئر حاجی عبدالرشید کی صدارت میں ہونے والے ضلع کونسل کے اجلاس میں ضلع ناظم محمد نسیم آفریدی ،ضلع کونسلرز، سرکاری محکموں کے حکام کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ ضلع کو نسل کو بریفنگ دیتے ہوئے ضلعی پولیس آفیسر عباس مجیدمروت کا کہنا تھاکہ پولیس ایکٹ 2017 کے تحت ڈی پی او سال میں دو مرتبہ ضلع کونسل کو کارکردگی سے آگاہ کرنے کا پابند ہے۔ان کا کہنا تھاکہ نفری کی کمی کے باوجود پولیس کارکردگی میں بہتری آئی ہے ۔گزشتہ سال ضلع کے اندر جرائم میں کمی جبکہ قانون کی گرفت مضبو ط ہوئی اور جرائم پیشہ عناصر کو سخت سے سخت سزائیں دی گئیں۔عباس مجید مروت کا کہنا تھاکہ کوہاٹ پولیس کو دہشتگردی ، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان جیسے تین چیلنجز درپیش رہے ہیں جن کے قلع قمع کے لیے بھرپور ایکشن جاری تھا اور رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ کوہاٹ پولیس نے 1970 کلو گرام چرس،36.87 کلو گرام ہیروئن،1360 بوتل شراب اورتقریباََ 11 کلوگرام آئس ، اسلحہ اور بارودی موا د برآمد کیا۔ان کا کہنا تھاکہ تمام پولیس اہلکاروں کو سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ جتنا اسلحہ یا منشیات برآمد کیا جائے اتنا ہی لکھا جائے اور بے جا عوام کو تنگ نہ کیا جائے ۔ ڈی پی اور کا کہنا تھا کہ پولیس کو جدید خطوط اور حقیقی معنوں میں عوام دوست بنانے کے لیے چھ نکات پر مشتمل ریفارمز پر کام جاری ہے جس میں قانون سازی، ڈھانچے کی تبدیلی،انفراسٹرکچر کی بحالی، صلاحیت میں بہتری،سوسائٹی کی شمولیت اور عوامی خدمت شامل ہیں۔بریفنگ کے دوران ضلعی پولیس آفیسر کا پولیس کو عوامی خدمتگار بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھاکہ پبلک اسسٹنس لائنز(پی اے ایل)، ڈی آر سی اور پبلک لیزان کونسلز بنائی گئیں ہیں جبکہ عوام اور پولیس شہدا ء کی سہولت کے لیے ایس ایم ایس کے ذریعے شکایات کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔محکمہ پولیس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا گیا ہے اور تمام ریکارڈ ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔عباس مجید مروت کا کہنا تھاکہ اختیارات اور طاقت کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے محکمے کے اند ر خود احتسابی کے لیے پالیسی سازی کی گئی ہے۔ بریفنگ کے اختتام پر اراکین ضلع کونسل نے مسائل بیان کرنے کے علاوہ امن وامان کی بہتری کے لیے تجاویز پیش کیں ۔ ضلع ناظم محمدنسیم کا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کونسل کا تعلق لازم و ملزوم ہیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بریفنگ سے قبل تمام مسائل حل ہوجائیں گئے۔نسیم آفریدی کا کہنا کہ ضلع کونسل پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تاہم کونسل پولیس سے امن وامان قائم رکھنے کی ضمانت ضرور لے گی۔پولیس کو غیر سیاسی اور عوام دوست بنانے کا سہرا موجودہ صوبائی حکومت کے سر ہے ۔اجلاس کے اختتام پر پولیس شہداء اور حال میں ہی قتل ہونی والی میڈیکل کی طالبہ عاصمہ رانی کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...