سانحہ آرمی پبلک سکول کی تفتیش میں پیش رفت کا ریکارڈ طلب


پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس قلندرعلی خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے سانحہ آرمی پبلک سکول کی تفتیش کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت کاریکارڈ مانگ لیاہے فاضل بنچ نے گذشتہ روز آرمی پبلک سکول کے شہداء بچوں کے والدین کی جانب سے دائرایک ہی نوعیت کی دومختلف رٹ درخواستوں کی سماعت کی اس موقع پر اجون خان ایڈوکیٹ کی جانب سے دائررٹ میں عدالت کوبتایاگیاکہ سانحہ آرمی پبلک سکول میں بیٹاشہید ہوچکاہے اوراتنے سال گذرنے کے باوجود درخواست گذارکابیان قلمبند نہیں کیاجارہا ہے اورنہ ہی جوڈیشل انکوائری مقرر کی جارہی ہے اس موقع پرسرکارکی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل ا صغرکنڈی اورایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل قیصرعلی شاہ پیش ہوئے عدالت نے استفسار کیاکہ عدالت نے صوبائی حکومت سے 16دسمبر2014سے20جنوری2015ء تک کاتفتیشی ریکارڈ طلب کیاتھا جو پیش نہیں کیاجاسکاہے جو انتہائی افسوس کامقام ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود یہ ریکارپیش نہیں کیاجاسکاجس پرقیصرعلی شاہ نے جواب دیاکہ مذکورہ ریکارڈ ان کی تحویل میں نہیں ہے بلکہ یہ ریکارڈ الیون کوراپنی تحویل لے چکے ہیں جس پرڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہاکہ اگران کو ریکارڈکی ضرورت ہے تو ضابطے کے تحت طلب کیاجائے جس پرعدالت نے برہمی کااظہار کیاکہ آپ اگلی پیشی پرتمام ریکارڈ عدالت میں پیش کریں تاکہ عدالت کوبھی پتہ چل سکے کہ اب تک اس کیس میں کیاپیش رفت ہوئی ہے عدالت نے بعدازاں سماعت8فروری تک ملتوی کرتے ہوئے ریکارڈ مانگ لیادریں اثناء اسی نوعیت کے دوسرے کیس میں فضل خان ایڈوکیٹ کی رٹ پرقاضی انورایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ وہ آئی جی پی اوردیگرذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آردرج کرنے کے لئے درخواست دے چکے ہیں تاہم صوبائی حکومت اس حوالے سے ایف آئی آردرج کرچکی ہے اس بناء ا س نکتے پرزورنہیں دیتے انہوں نے بتایا کہ سانحہ اے پی ایس میں140سے زائد طلباء اورعملے کے ارکان شہید ہوچکے ہیں جبکہ28اگست2014ء کو ایک مراسلے کے ذریعے خبردارکیاگیاتھا کہ آرمی پبلک سکول و کالج پردہشت گردوں کے حملے کاخدشہ ہے اس کے باوجود ان سکول و کالجوں پرسکیورٹی کے حوالے سے کوئی توجہ نہیں دی گئی اور سانحہ کے روز سکیورٹی کے 14 میں سے10ارکان غیرحاضرتھے اورذمہ داروں نے اس مراسلے کے حوالے سے کیااحتیاطی تدابیراپنائی ہیں اس سے ہم کو آگاہ کیاجائے اس پرعدالت نے آئی جی پی اورہوم سیکرٹری سے جواب مانگ لیاکہ اس لیٹرکے موصول ہونے کے بعد سکیورٹی کے کیاانتظامات کئے گئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...