چارسدہ میں سر جڑے یتیم بہنیں حسرت و یاس کی تصویر بن گئیں

چارسدہ میں سر جڑے یتیم بہنیں حسرت و یاس کی تصویر بن گئیں

چارسدہ (بیورو رپورٹ) ڈھیری زرداد میں سرجڑے یتیم بہنیں حسرت و یاس کی تصویر بن گئی ۔ جڑواں بہنوں کے سر علیحدہ کر نے کیلئے اپریشن پر 15کروڑ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ میاں نواز شریف نے اپنے وزارت عظمیٰ میں میڈیکل بورڈ تشکیل دیکر بچیوں کے اپریشن کی یقین دہانی کرائی مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ پاکستان میں اپریشن ممکن نہیں جبکہ بر طانیہ حکومت نے بچیوں کی زندگی بچانے کیلئے نصف اخراجات برد اشت کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر حکومت پاکستان نے چھپ سادھ لی ۔ بچیوں کے دادا اور ماموں کی میڈیا سے بات چیت ۔ تفصیلات کے مطابق چارسدہ کے نواحی علاقے ڈھیری زرداد سے تعلق رکھنے والی دو جڑواں بہنوں کے سر پیدائش سے لیکر آج تک آپس میں جڑے ہوئے ہیں جن کا علاج ممکن ہے مگر وسائل نہ ہونے کی و جہ سے لواحقین شدید مشکلات اور پریشانی کا شکار ہیں۔ ایک سال پہلے بڑے اپریشن کے ذریعے جڑواں بہنوں صفا اور مروہ کی پیدائش ہوئی ۔ سرجڑے جڑواں بہنوں کی پیدائش سے ڈھائی ماہ پہلے ان کے والد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے ۔اس حوالے سے جڑواں سرجڑے بچیوں کے دادا سعادت حسین اور ماموں محمد ادریس نے میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے کہا کہ میاں محمد نواز شریف نے آٹھ ماہ پہلے جڑواں بہنوں کے آپریشن کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا مگر میڈیکل بورڈ نے پاکستان میں آپریشن ناممکن قرار دیکر برطانیہ کے گریٹ آرمنڈ سٹریٹ ہسپتال رابطہ کیا جہاں اس قسم کے کامیاب آپریشن پہلے بھی ہو چکے ہیں مگر وہاں پربچیوں کے آپریشن پر 11لاکھ پونڈ اخراجات بتائے گئے جس پر حکومت نے خاموشی اختیار کر لی۔ بچیوں کی جان بچانے کیلئے انگلینڈ کے گریٹ آرمنڈ سٹریٹ ہسپتال ایڈ منسٹریشن نے میڈیکل بورڈ کو نصف اخراجات ہسپتال کی طرف سے اٹھانے کی بھی یقین دہانی کرائی مگر حکومت اور میڈیکل بورڈ کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہاکہ سعودی عرب میں بھی سرجڑے بچیوں کا علاج ممکن ہے اور اس حوالے سے انہوں نے سعودی ولی عہد سلمان کو خط لکھا ہے مگر وہاں سے بھی کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا ہے جبکہ بچیوں کی زندگی بچانے کیلئے انہوں نے عمران خان ، جہانگیر ترین ، وزیر اعلی پر ویز خٹک اور چیف سیکرٹری سے بھی رابطہ کیا گیا مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی ۔انہوں نے صوبائی اور مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایم پی ایز ،ا یم این ایز اور وزراء سرکاری خرچوں پر بیرون ملک معمولی بیماری کے علاج کیلئے جاتے ہیں۔میاں نوا ز شریف کی اہلیہ سرکاری خرچ پر لندن میں علاج کر رہی ہے مگردو غریب بچیوں کی زندگی بچانے کیلئے حیلے بہانوں سے کام لیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سر جڑے بہنوں کی کفالت اور تیمارداری انتہائی مشکل کام ہے ۔ چار بندے بچوں کی خدمت میں ہمہ وقت لگے رہتے ہیں ایک بچی سوتی ہے تو دوسری جاگتی ہے۔بچیوں کی والدہ روز مرتی اور زندہ ہو تی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے وہ اپنے جیب سے بچیوں کا علاج معالجہ کر رہے ہیں ۔یہ اللہ کی طرف سے ایک امتخان ہے مگر حکومت کی بھی کچھ ذمہ داری بنتی ہے ۔ بیت المال جیسے ادارے موجود ہے مگر غریب کا کوئی پوچھتا نہیں ۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر د وبہنوں کی زندگی بچانے کیلئے عملی اقدامات کریں ۔ انہوں نے دنیا بھر کے مخیر حضرات سے بھی اپریشن کے لئے مدد کی اپیل کی ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...